معاویہ بن یزید
بصرہ میں ابن زیاد کی بیعت
معاویہ بن زید کی خلافت کو صرف اہل شام اور اہل مصر نے تسلیم کیا تھا‘ اہل حجاز نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے ہاتھ پر بیعت کی تھی‘ یزید کے مرنے کی خبر جب عراق میں پہنچی تو اس وقت عبیداللہ بن زیاد بصرہ میں تھا‘ اس نے اہل بصرہ کو جمع کر کے کہا کہ امیر المومنین یزید کا انتقال ہو گیا ہے‘ اب کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو خلافت کے کاموں کو چلانے کی قابلیت رکھتا ہو‘ میں اسی ملک میں پیدا ہوا اور یہیں میں نے پرورش پائی‘ میرا باپ بھی اس ملک کا حاکم تھا اور اب میں بھی اسی ملک کا حاکم ہوں‘ آمدنی پہلے سے زیادہ ہے‘ خزانہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے‘ لوگوں کی تنخواہیں اور وظیفے بھی اب پہلے سے زیادہ ہیں‘ مفسد اور شریر لوگوں سے ملک پاک و صاف ہے‘ تم لوگ اگر چاہو تو اپنی الگ خلافت قائم کر سکتے ہو‘ کیوں کہ تم اہل شام کے محتاج نہیں ہو۔
یہ تقریر سن کر سب نے کہا کہ بہت مناسب ہے‘ ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ چنانچہ اہل بصرہ نے عبیداللہ بن زیاد کے ہاتھ پر بیعت کر لی‘ مگر دل سے وہ عبیداللہ کو ناپسند کرتے تھے‘ اہل بصرہ سے بیعت لے کر عبیداللہ کوفہ کی طرف گیا‘ کہ وہاں کے لوگوں سے بھی بیعت لے‘ لیکن کوفہ والوں نے صاف انکار کر دیا۔
اہل بصرہ کو جب معلوم ہوا کہ اہل کوفہ ابن زیاد سے منحرف ہو گئے‘ تو انہوں نے بھی اپنی بیعت فسخ کر دی‘ ابن زیاد مجبور اور مایوس ہو کر عراق سے بھاگا اور دمشق پہنچا‘ یہ دمشق میں اس وقت پہنچا تھا جب کہ معاویہ بن یزید فوت ہو چکا تھا اور انتخاب خلیفہ کے متعلق ملک شام میں جھگڑا اور نزاع برپا تھا۔