مروان بن حکم

بیعت خلافت اور جنگ حرج راہط

مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبدمناف کی پیدائش کا زمانہ ۲ھ ہے‘ ماں کا نام آمنہ بنت علقمہ بن صفوان ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں میر منشی اور وزارت کا عہدہ حاصل رہا‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کئی مرتبہ مدینہ کی حکومت حاصل رہی‘ معاویہ بن یزید کی وفات کے بعد چھ سات مہینے تک تنہا سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما ہی خلیفہ تھے‘ ان کے سوا اور کوئی شخص بنی امیہ میں سے مدعی خلافت نہ تھا‘ تمام عمال و حکام نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی خلافت کو تسلیم کر لیا تھا۔ چھ سات مہینے کے بعد مروان اپنی کوششوں میں کامیاب ہو کر ملک شام پر قابض ہوا‘ لہٰذا مروان کی حیثیت ایک باغی کی قرار دی جا سکتی ہے اور چونکہ خلافت بنو امیہ سے بالکل نکل چکی تھی‘ لہٰذا مروان کو بنو امیہ کی خلافت کا مجدد بھی کہا جا سکتا ہے۔ بیعت خلافت اور جنگ حرج راہط معاویہ بن یزید کی وفات کے بعد جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے‘ ملک شام میں بھی دو گروہ ہوگئے تھے‘ ایک تو بنی امیہ تھے‘ جو اپنے ہی قبیلے میں خلافت کو رکھنا چاہتے تھے‘ دوسرے ضحاک بن قیس حاکم دمشق اور ان کے ہم خیال عمال تھے‘ جو دل سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی خلافت کے مؤید مگر علانیہ زبان سے کچھ نہ کہتے تھے۔ سب سے پہلے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حمص میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے نام پر لوگوں سے بیعت لینا شروع کی‘ قنسرین کے حاکم ظفر بن حارث نے بھی ان کی تقلید کی‘ دمشق میں بنی امیہ اور بنو کلب کی کثرت تھی اور یہ دونوں قبیلے ہم خیال اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے مخالف تھے‘ لہٰذا ضحاک بن قیس جو دل سے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے طرفدار تھے زبان سے کچھ نہ کہتے اور دمشق پر حکومت کرتے تھے‘ دمشق والوں کو اس کی اطلاع نہ تھی‘ کہ حمص اور قنسرین کی افواج عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی خلافت پر بیعت کر چکی ہیں۔ سب سے پہلے حسان بن مالک کلبی جو فلسطین کا عامل اور اپنی رشتہ داری کی وجہ سے بنی امیہ کا طرف دار تھا اس خبر سے مطلع ہوا‘ اس نے روح بن زنباع کو اپنا قائم مقام بنا کر کہا کہ سرداران لشکر ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرتے جاتے ہیں‘ میری قوم کے آدمی اردن میں ہیں‘ میں وہاں جا کر ان کو خبردار کرتا ہوں‘ تم یہاں خوب چوکس رہنا‘ جو کوئی مخالفت کرے اس کو فوراً قتل کر دینا‘ یہ سمجھا کہ حسان بن مالک اردن کی طرف روانہ ہوا‘ اس کے جاتے ہی نابل بن قیس نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کا طرفدار ہو کر روح بن زنباع کو فلسطین سے نکال دیا تھا‘ روح بھی اردن میں حسان بن مالک کے پہنچ گیا‘ اور فلسطین کا علاقہ بھی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی خلافت میں شامل ہو گیا۔ حسان بن مالک نے اہل اردن کو جمع کر کے عبداللہ بن زبیر کے خلاف آمادہ کیا اور ان سے وعدہ لیا کہ ہم خالد بن یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کو خلیفہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ حسان بن مالک کو یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ ضحاک بن قیس امیر دمشق بھی در پردہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کا طرفدار ہے مگر علانیہ اس کی طرف داری کا اظہار ابھی تک نہیں ہوا ہے۔ لہٰذا حسان نے ایک خط ضحاک بن قیس کے نام لکھا‘ اس خط میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی برائیاں لکھیں اور خاندان معاویہ رضی اللہ عنہ کا حق دار خلافت ہونا بیان کر کے لکھا‘ کہ جا بجا لوگ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی بیعت کرتے جاتے ہیں‘ جلد اس کا تدارک کرو‘ یہ خط جس قاصد کے ہاتھ دمشق کی جانب روانہ کیا اس کو سمجھا دیا کہ یہ خط جامع مسجد میں جمعہ کے دن جب کہ تمام رئوساء شہر اور بنی امیہ موجود ہوں‘ ضحاک بن قیس کو پڑھ کر سنا دینا‘ چنانچہ یہ خط سب کی موجودگی میں جمعہ کے دن پڑھا گیا۔ یہاں پہلے ہی ضحاک بن قیس کے ہم خیال لوگوں کی کافی تعداد موجود تھی‘ اس خط کے سنتے ہی لوگوں کے دو گروہ ہو گئے‘ ایک بنی امیہ اور ان کے طرفدار‘ دوسرے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے طرف دار‘ دونوں گروہ آپس میں الجھنے لگے‘ اور نوبت یہاں تک پہنچی‘ کہ ہتھیار لے لے کر ایک دوسرے پر حملہ آوری کے لیے تیار ہو گئے‘ مگر خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیچ میں آکر دونوں کو سمجھایااور لڑائی سے باز رکھا‘ ضحاک بن قیس خاموش مسجد سے اٹھ کر دارالامارت میں آئے اور تین دن تک باہر نہ نکلے۔ ان ہی ایام میں عبیداللہ بن زیاد جو عراق سے مایوس و بے دخل ہو کر شام کی طرف بھاگا تھا‘ دمشق میں پہنچا‘ عبیداللہ بن زیاد کے دمشق پہنچنے سے بنی امیہ اور ان کی طرف داروں کو بہت تقویت پہنچی‘ ضحاک بن قیس اور بنی امیہ سب مل کر جابیہ کی طرف نکلے‘ ثور بن معن سلمی ضحاک کے پاس پہنچا اور کہا کہ تم نے ہم کو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی بیعت کے لیے مشورہ دیا اور ہم نے اس کو تسلیم کیا‘ اب تم حسان بن مالک کلبی کے کہنے سے اس کے بھانجے خالد بن یزید کی بیعت کے لیے کوشش کرنا چاہتے ہو‘ ضحاک کچھ شرما سے گئے‘ اور ثور بن معن سے کہا کہ اچھا اب تمہاری کیا رائے ہے‘ اس نے کہا کہ اب تک تم نے جس چیز کو پوشیدہ رکھا ہے اسے ظاہر کر دو اورعلانیہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی بیعت کے لیے لوگوں کو دعوت دو‘ چنانچہ ضحاک اپنے ہم خیال لوگوں کو لے کر الگ ہو گئے اور مقام مرج راہط میں جا کر قیام کیا۔ بنو امیہ اور ان کے طرف دار بنو کلب مقام جابیہ میں مقیم رہے‘ یہیں حسان بن مالک کلبی بھی اردن سے معہ اپنی جمعیت کے پہنچ گیا تھا‘ جابیہ میں پانچ ہزار بنو امیہ اور بنو کلب جمع ہو گئے تھے‘ مرج راہط میں ضحاک بن قیس کے پاس کل ایک ہزار بنو قیس تھے‘ ضحاک بن قیس نے دمشق میں جو اپنا نائب چھوڑاتھا اس کو یزید بن انیس نے بے دخل کر کے بیت المال پر قبضہ کر لیا‘ یہ درحقیقت ایک بڑی شکست ضحاک کو پہنچی‘ اگر دمشق اور بیت المال ضحاک کے قبضہ میں رہتا‘ تو ان کی طاقت کو اس قدر صدمہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ ضحاک نے مرج راہط سے فوراً نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما ‘ ظفر بن حارث اور نائل بن قیس کو حمص‘ قنسرین اور فلسطین میں حالات کی اطلاع دی‘ ان لوگوں نے ضحاک کی امداد کے لیے مرج راہط کی طرف فوجیں روانہ کیں۔ ادھر جابیہ میں حسان بن مالک نے امامت کی خدمات انجام دینی شروع کیں اور یہ مسئلہ پیش ہوا‘ کہ پہلے اپنا ایک امیر اور خلیفہ منتخب کر لو‘ عام طور پر خالد بن یزید ہی کا نام لیا جاتا تھا اور اسی کی طرف زیادہ لوگ مائل تھے۔ مروان نے در پردہ لوگوں کو اپنی خلافت کے لیے ترغیب دینی شروع کی اور روح بن زنباع نے مروان کے حسب منشاء آمادہ ہو کر ایک روز مجمع عام میں کھڑے ہو کر اپنی رائے اس طرح پیش کی کہ: ’’خالد بن یزید ابھی نو عمر ہے‘ ہم کو ایک تجربہ کار اور ہوشیار خلیفہ کی ضرورت ہے‘ لہٰذا مروان بن حکم سے بہتر کوئی دوسرا شخص موجود نہیں ہے‘ وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے سے لے کر آج تک برابر خلافت و حکومت کے کاموں کا تجربہ رکھتا ہے‘ مناسب یہ ہے کہ ہم مروان بن حکم کو خلیفہ منتخب کر لیں‘ مگر اس شرط کے ساتھ کہ مروان کے بعد خالد بن یزید خلیفہ بنایا جائے‘ اور خالد بن یزید کے بعد عمرو بن سعید بن عاص کو خلافت سپرد کی جائے‘‘۔