مروان بن حکم

جنگ توابین

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ رمضان ۴۶ھ میں عبداللہ بن یزید انصاری عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی طرف سے کوفہ کا حاکم مقرر ہو کر آیا اور انہیں ایام میں مختار بن ابو عبید بھی کوفہ میں آیا‘ مختار نے کوفہ میں آکر لوگوں کو خون حسین رضی اللہ عنہ کا معاوضہ لینے کے لیے ابھارنا شروع کیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم تو پہلے ہی اس کام کے لیے سلیمان بن صرد کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں‘ لیکن ابھی اس کام کے لیے مناسب موقع نہیں آیا ہے۔ مختار نے کہا کہ سلیمان ایک پست ہمت آدمی ہے وہ لڑائی سے جی چراتا ہے‘ مجھ کو امام مہدی محمد بن الحنفیہ برادر امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے‘ تم لوگ میرے ہاتھ پر بیعت کرو‘ اور خون حسین رضی اللہ عنہ کا معاوضہ ان کے قاتلین سے لو‘ لوگ یہ سن کر مختار کے ہاتھ پر بیعت ہونے لگے۔ یہ خبر جب عبداللہ بن یزید کو پہنچی‘ تو انہوں نے اعلان کیا کہ اگر مختار اور اس کے معاونین خون حسین رضی اللہ عنہ کا بدلہ قاتلین حسین رضی اللہ عنہ سے لینا چاہتے ہیں تو اس کام میں ہم بھی ان کی مدد کرنے کو تیار ہیں‘ لیکن اگر وہ کوئی کاروائی ہمارے خلاف کرنے کا عزم رکھتے ہیں‘ تو ہم انکا مقابلہ کر کے ان کو قرار واقعی سزا دیں گے‘ اس اعلان کا اثر یہ ہوا کہ سلیمان بن صرد اور اس کے ہمراہیوں نے علانیہ ہتھیار خریدنے شروع کر دیئے‘ اور جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے‘ اور یکم ماہ ربیع الثانی ۶۵ھ کو سلیمان بن صرد نے کوفہ سے نکل کر مقام نخیلہ میں قیام کیا اور سترہ ہزار آدمی اس کے گرد جمع ہو گئے‘ عبداللہ بن یزید گورنر کوفہ نے مخالفت نہیں کی۔ مختار چوں کہ اپنی الگ جماعت کے تیار کرنے میں مصروف تھا‘ حالاں کہ مقصد سلیمان بن صرد کا بھی وہی تھا‘ جو مختار ظاہر کرتا تھا‘ لہٰذا بعض شرفاء کوفہ کی تحریک سے عبداللہ بن یزید نے مختار کو پکڑ کر قید کر دیا۔سلیمان بن صرد ۵ ربیع الثانی کو نخیلہ سے سترہ ہزار کی جمعیت کے ساتھ حدود شام کی طرف روانہ ہوا‘ روانگی کے وقت عبداللہ بن سعد بن نفیل نے سلیمان سے کہا کہ قریباً تمام قاتلین حسین رضی اللہ عنہ تو کوفہ میں موجود ہیں‘ ان کو چھوڑ کر اور کہاں قاتلین حسین رضی اللہ عنہ کی تلاش میں جا رہے ہو‘ سلیمان بن صرد نے کہا کہ یہ لوگ تو سپاہی تھے‘ ان کو حکم دینے والا سردار ابن زیاد تھا لہٰذا اصل قاتل وہی ہے اور سب سے پہلے ہم کو اسی کی گردن مارنی چاہیئے‘ اس سے فارغ ہو کر باقی لوگوں کو درست کرنا بہت آسان کام ہے۔ نخیلہ سے روانہ ہو کر یہ لوگ کربلا پہنچے‘ وہاں مقتل حسین رضی اللہ عنہ اور مدفن حسین رضی اللہ عنہ پر جس میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی لاش بے سر مدفون تھی‘ خوب روئے دھوئے‘ اور ایک دن رات قیام کرنے کے بعد روانہ ہوئے‘ کوچ و مقام کرتے ہوئے عین الوردہ کے مقام پر پہنچ کر خیمہ زن ہوئے‘ ان لوگوں کی خبر سن کر عبیداللہ بن زیاد نے جو موصل میں بحیثیت گورنر موصل مقیم تھا‘ حصین بن نمیر کو ۱۲ ہزار فوج دے کر مقابلہ کے لیے روانہ کیا‘ سلیمان بن صرد ۲۱ جمادی الاول ۶۵ ہجری کوعین الوردہ پہنچ گیا‘ اسی روز لڑائی شروع ہوئی‘ شام تک کی لڑائی میں شامیوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا‘ لیکن رات نے حائل ہو کر ان کا پردہ رکھ لیا۔ اگلے دن صبح کو آٹھ ہزار کا ایک کمکی لشکر شامیوں میں اور آملا جو ابن زیاد نے بھیجا تھا‘ آج بھی نماز فجر سے مغرب وقت تک خوب زور شور کی لڑائی جاری رہی اور کوئی فیصلہ نہ ہوا‘ رات دونوں لشکروں نے امید و بیم میں بسر کی‘ صبح ہوتے ہی ابن زیاد کا بھیجا ہوا دس ہزار کا ایک اور لشکر شامیوں کی مدد کے لیے آ گیا اور آج بھی صبح سے شام تک لڑائی جاری رہی‘ اور سلیمان بن صرد اور کوفیوں کے تمام بڑے بڑے سردار کام آئے‘ بہت ہی تھوڑے سے آدمی باقی رہ گئے تھے‘ بقیہ السیف سردار اپنے بچے ہوئے آدمیوں کو لے کر رات کی تاریکی میں وہاں سے چل دیئے‘ حصین بن نمیر نے ان کا تعاقب نہیں کیا۔ سلیمان بن صرداور ان کے ہمرائیوں کو توابین کے نام سے پکارتے تھے‘ یعنی ان لوگوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ بے وفائی کر کے ان کو قتل کرانے کا جرم کیا‘ پھراس سے تائب ہو کر تلافی کے در پے ہوئے‘ اسی لیے جنگ عین الوردہ کو جنگ توابین بھی کہتے ہیں‘ یہ لوگ کسی سلطنت کی باقاعدہ فوج نہ تھے‘ بلکہ بطور خود جمع ہو کر ابن زیاد کے قتل کرنے کو گئے تھے‘ اور خود بہت سے قتل اور تھوڑے سے بچ کر واپس آئے تھے۔