مروان بن حکم
مروان بن حکم کی وفات
یہ بیعت چوں کہ خالد بن یزید کے خلاف تھی‘ اور خالد بن یزید کے طرف داروں کو مروان نے پہلے ہی اپنی طرف مائل کر لیا تھا‘ لہٰذا خالدبن یزید کو سخت صدمہ ہوا اور وہ کچھ نہ کر سکا‘ اس کے بعد مروان نے خالد بن یزید کے اثر و قبولیت کو نقصان پہنچانے کی کوششیں جاری رکھیں اوراس کی تذلیل و تخفیف کے در پے رہا‘ پھر اس پر صبر نہ کر کے اس کے قتل کی تدبیریں کرنے لگا۔
خالد نے اپنی ماں یعنی مروان کی بیوی سے شکایت کی کہ مروان میرے قتل پر آمادہ ہے‘ ام خالد نے کہا کہ تم بالکل خاموش رہو‘ میں مروان سے پہلے ہی انتقام لے لوں گی چنانچہ اس نے اپنی چار پانچ باندیوں کو آمادہ کیا‘ رات کو مروان محل سرائے میں آکر لیٹ گیا‘ ام خالد کے حکم کے موافق عورتوں نے مروان کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر کہ آواز بھی نہ نکال سکے اور قابو کر کے گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔
یہ واقعہ ۳ رمضان المبارک ۶۵ ہجری کو وقوع پذیر ہوا‘ اسی روز دمشق میں عبدالملک کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت خلافت کی اور عبدالمالک نے مروان کے قصاص میں ام خالد کو قتل کیا‘ مروان بن حکم کی عمر ۶۳ سال کی ہوئی‘ اور ساڑھے نو مہینے خلافت و حکومت کی۔