سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما

مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما کا قتل

آخر عبدالملک اپنی مکمل تیاریوں کے بعد شام سے عراق کی جانب فوج لے کر چلا‘ عبدالملک دمشق سے اس وقت روانہ ہوا جب کہ اس کے پاس رئوساء کوفہ کے بہت سے خطوط پہنچ چکے تھے‘ کہ آپ کو عراق پر فوراً حملہ آور ہونا چاہیئے‘ عبدالملک کے مشیروں نے روانگی کے وقت اس کو روکا کہ کہیں اہل عراق اور اہل کوفہ کے یہ خطوط اسی قسم کے نہ ہوں جیسے انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لکھے تھے‘ عبدالملک نے کہا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تو محض کوفہ کے بھروسے پر چل دئیے تھے‘ اور میں ایک زبردست فوج کے ساتھ جا رہا ہوں‘ مجھ کو ان کی بدعہدی یا بے وفائی سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا‘ اور مجھ کو یقین ہے کہ وہ جب مجھ کو ایک طاقت ور فوج کے ساتھ دیکھیں گے‘ تو ہر گز اپنے ان وعدوں سے جو وہ خطوط میں کر رہے ہیں نہ پھریں گے۔ آخر عبدالملک فوج لے کر چلا‘ ادھر سے اس کے آنے کی خبر سن کر مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما بھی روانہ ہوئے‘ جس زمانے میں عبدالملک کی فوج کشی کی خبر کوفہ میں پہنچی اس سے پہلے مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما عمر بن عبداللہ بن معمر کو خوارج کے مقابلہ کے لیے بصرہ سے فارس کی طرف بھیج چکے تھے‘ لہٰذا عمر بن عبداللہ بھی اس لڑائی میں موجود نہ تھا‘ دار جاثلیق کے قریب دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابلہ پہنچ کر خیمہ زن ہوئے‘ مصعب بن زبیر کی فوج بہت تھوڑی تھی‘ کیوں کہ عین روانگی کے وقت بہت سے لوگوں نے حیلے بہانے کر کے جانے سے انکار کر دیا تھا‘ جو لوگ میدان میں ساتھ آئے تھے‘ ان میں سے بھی زیادہ حصہ دشمن سے ملا ہوا تھا‘ اور اس بات کا منتظر تھا کہ لڑائی شروع ہو تو دشمن سے جا ملیں‘ غرض لڑائی شروع ہوئی‘ عبدالملک نے پوری طاقت سے اول اسی حصہ فوج پر حملہ کیا‘ جو ابراہیم بن مالک کی ماتحتی میں تھی‘ کیوں کہ اس کو ابراہیم بن مالک کی طرف سے بہت خوف تھا‘ یہ حملہ عبدالملک کے بھائی محمد بن مروان نے کیا تھا‘ طرفین سے خوب خوب دادشجاعت دی گئی‘ آخر ابراہیم نے محمد بن مروان کو پیچھے دھکیل دیا‘ محمد بن مروان کو ہزیمت ہوتے ہوئے دیکھ کر عبدالملک نے عبیداللہ بن زید کو ایک تازہ دم فوج کے ساتھ محمد کی مدد پر بھیجا‘ اب جم کا مقابلہ ہونے لگا‘ اسی معرکہ میں مسلم بن عمرو باہلی (قتیبہ بن مسلم کا باپ) بھی کام آیا۔ ابراہیم پر دشمنوں کا ہجوم دیکھ کر مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما نے عتاب بن ورقاء کو ابراہیم کی مدد کے لیے بھیجا‘ عتاب بن ورقاء پہلے ہی درپردہ عبدالملک کی بیعت کر چکا تھا‘ وہ قرارداد کے موافق فوراً میدان سے فرار ہو گیا‘ ابراہیم دشمنوں کے نرغہ میں گھر کر بڑی بہادری سے لڑتا ہوا مارا گیا‘ ابراہیم بن مالک کے مارے جاتے ہی عبدالملک اور اہل شام کا دل بڑھ گیا اور انکو اپنی فتح کا کامل یقین ہو گیا۔ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما نے دوسرے سرداروں اوراپنے ہمراہیوں سے آگے بڑھنے اور حملہ کرنے کے لیے کہا مگر کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلا‘ سب نے اس کان سنا اور اس کان اڑا دیا‘ معدودے چند آدمی تھے جو میدان میں لڑ رہے تھے‘ باقی تمام فوج کوفیوں کی کھڑی ہوئی تماشا دیکھ رہی تھی۔۱؎ کوفیوں کی یہ غداری درحقیقت اس غداری سے جو انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کی بہت بڑھی ہوئی تھی‘ کیوں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہ دینے میں ان کو ابن زیاد اور اس کے لشکر نے مجبور کر دیا تھا‘ اور خوف و ہراس ان پر غالب ہو گیا تھا۔ لیکن مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما کا ساتھ نہ دینا سراسر ان کی شرارت و غداری اور محسن کشی تھی۔ عبدالملک یہ نہیں چاہتا تھا‘ کہ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما قتل کئے جائیں‘ اس لیے اس اپنے بھائی محمد بن مروان کو مصعب کے پاس بھیجا‘ اور کہلا بھجوایا‘ کہ آپ کی طرف سے اب لڑائی کی شکل بگڑ چکی ہے‘ آپ کو کسی طرح فتح نہیں ہو سکتی‘ میں آپ کو امان دیتا ہوں‘ آپ میری امان قبول کر لیں‘ مصعب نے اس کا انکاری جواب دیا‘ اور کہا کہ مجھ کو صرف اللہ تعالیٰ کی امان کافی ہے‘ اس کے بعد مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما کے بیٹے عیسیٰ سے محمد بن مروان نے کہا کہ تم کو اورتمہارے باپ مصعب دونوں کو امیر المومنین عبدالملک نے امان دی ہے‘ عیسیٰ نے یہ سن کر باپ سے آکر کہا‘ مصعب نے کہا کہ ہاں یہ تو مجھ کو بھی یقین ہے کہ اہل شام تمہارے ساتھ وعدہ پورا کریں گے اگر تمہارا جی چاہے تو تم ان کی امان میں چلے جائو۔ عیسیٰ نے کہا کہ میں قریش کی عورتوں کو یہ کہنے کا موقع ہر گز نہ دوں گا کہ عیسیٰ اپنی جان بچانے کے لیے باپ سے جدا ہو گیا‘ مصعب نے کہا‘ اچھا تم اپنے چچا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے پاس مکہ کی جانب روانہ ہو جائو‘ اور ان کو اہل عراق کی غداری کا حال سنائو‘ مجھ کو یہیں چھوڑ جائو‘ میں نے اپنے آپ کو مقتول سمجھ لیا ہے‘ عیسیٰ نے کہا میں یہ خبر جا کر نہ سنائوں گا‘ مناسب یہ ہے کہ آپ اس میدان جنگ ۱؎کوفی تو پہلے ہی کوفی لا یوفی مشہور اور بدنام تھے۔ اس واقعہ نے ان کے اس کردار کو مزید واضح کر دیا۔ سے واپس چلیں اور سیدھے بصرہ پہنچیں‘ وہاں کے لوگ آپ سے بہت خوش ہیں اور آپ کے ہر طرح مطیع ہیں‘ بصرے پہنچ کر کچھ تدارک کیا جا سکے گا‘ یا پھر مکہ کی طرف چلیے۔ مصعب نے کہا صاحب زادے یہ ممکن نہیں ہے‘ کیوں کہ تمام قریش میں میرے میدان سے بھاگنے کا چرچا ہو جائے گا‘ بہتر یہ ہے کہ تم ہر ایک خیال کو چھوڑ دو‘ اور دشمن پرحملہ کرو‘عیسیٰ یہ سنتے ہی اپنے چند ہمراہیوں سمیت دشمن پر حملہ آور ہوا‘ اور سینکڑوں کو خاک و خون میں لٹا کر مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما کی آنکھوں کے سامنے خود بھی ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ اس کے بعد عبدالملک آگے بڑھ کر آیا‘ اور مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما سے بڑی منت اور اصرار کے ساتھ کہا‘ کہ آپ اب میدان سے واپس چلے جائیں‘ یا امان قبول کر لیں‘ یہاں تک کہ اس نے اس اصرار میں الحاح و عاجزی سے کام لیا‘ مگر مصعب نے اس کی طرف مطلق التفات نہ کیا‘ یہ وقت بھی عجیب و غریب وقت ہو گا کہ عبدالملک اپنی خفیہ تدابیر کے نتائج دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہا ہو گا‘ کوفیوں کا لشکر میدان میں موجود ہے‘ مگر اپنے امیر کا ساتھ نہیں دیتا اور دور سے تماشا دیکھ رہا ہے‘ دوسری طرف مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما حیران ہوں گے‘ کہ جو لشکر میرے اشاروں پر کام کرتا اور گردنیں کٹواتاتھا‘ وہ میری مدد نہیں کرتا‘ کوفیوں نے مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما اور امام حسین رضی اللہ عنہ دونوں کے قتل کرانے میں ایک ہی درجہ کا جرم کیا‘ لیکن یہ دونوں جرم دو مختلف شکلوں میں ظاہر ہوئے‘ وہاں امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے دشمنوں سے چاہتے تھے‘ کہ وہ ان کو میدان جنگ سے مکہ یا دمشق یا کسی او طرف کو بچ کر جانے دیں‘ یہاں مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما کے دشمنوں نے ان کی بات قبول نہیں کی اور یہاں مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما نے اپنے دشمنوں کی بات نہیں مانی نتیجہ دونوں کا ایک ہی ہوا۔ سیدنا مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما اپنے بیٹے عیسیٰ کے مارے جانے کے بعد اپنے خیمہ میں گئے سر میں تیل ڈالا‘ خوشبو‘ لگائی‘ اور باہر آکر شمشیر بدست دشمن پر حملہ آور ہوئے‘ اس حملہ میں آپ کا ساتھ دینے والے صرف سات آدمی باقی تھے‘ جو ان کے ساتھ ہی مارے گئے‘ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما نے ایسا سخت حملہ کیا‘ کہ شامیوں کی صفوں کو درہم برہم کر دیا‘ آخر تیروں تلواروں اورنیزوں کے زخموں سے چور چور ہو کر بے ہوش ہو گئے‘ ان کے گرتے ہی شامیوں نے ان کا سر کاٹ لیا اور ۷۱ھ میں دس برس بعد کربلا کا تماشا دار جاثلیق میں دہرایا گیا۔ عبدالملک نے اسی میدان میں تمام لشکر کوفہ سے اپنی خلافت کی بیعت لی اور وہاں سے روانہ ہو کر کوفہ کے قریب مقام نخیلہ میں چالیس دن ٹھہرا رہا‘ جب اہل کوفہ کی طرف سے بہر طور اطمینان حاصل ہو گیا‘ تو شہر میں داخل ہوا‘ جامع مسجد میں خطبہ دیا لوگوں سے حسن سلوک کا وعدہ کیا انعام و اکرام سے خوش کیا‘ فارس و خراسان و بصرہ واہواز کے عاملوں کو لکھا کہ رعایا سے ہمارے نام پر بیعت لے لو۔ مہلب بن ابی صفرہ کو بھی اس کی جگہ بدستور قائم رکھا‘ سب نے عبدالملک کی خلافت کا تسلیم کر لیا‘ بجز تسلیم کے اب ان کے لیے کوئی چارہ بھی نہ تھا‘ صرف عبداللہ بن حازم نے کہ وہ بھی ایک حصہ خراسان کے حاکم تھے‘ بیعت سے انکار کیا اور بحرین بن ورقاء صریمی کے ہاتھ سے چند ہی روز کے بعد مارے گئے۔ بصرہ کی گورنری عبدالملک نے خالد بن اسید کے سپرد کی اور اپنے بھائی بشیر بن مروان کو کوفہ کا گورنربنایا‘ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما کا سر عبدالملک نے کوفہ سے دمشق کی جانب بھیج دیا تھا یہ سب جب دمشق میں پہنچا‘ تو لوگوں نے اس کا تشہیر کا ارادہ کیا‘ لیکن عبدالملک کی بیوی عاتکہ بنت یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ممانعت کی اور اس سر کو لے کر غسل دینے کے بعد دفن کر دیا‘ مہلب بن ابی صفرہ نے بھی عبدالملک کی اطاعت اختیار کر کے لوگوں سے بیعت لے لی۔