یزید بن ولید بن عبدالملک
یزید بن ولید بن عبدالملک
ابوخالد یزید بن ولید بن عبدالملک بن مروان بن حکم کو یزید ثالث اوریزیدالناقص بھی کہتے ہیں‘یزیدالناقص اس کو اس لیے کہا جاتا تھا‘کہ اس نے لوگوں کے وظائف یعنی فوج کی تنخواہوں کو کم کر دیا تھا‘ولید بن یزید نے خلیفہ ہو کر فی کس دس درہم کا اضافہ وظائف میں کر دیا تھا‘یزید نے خلیفہ ہو اس اضافہ کو موقوف کر کے وہی تنخواہیں مقرر کیں‘جو ہشام بن عبدالملک کے زمانہ میں مقرر تھیں۔
یزید نے خلیفہ ہو کر لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ ولید بدعقیدہ بداعمال تھا اسی لیے وہ مارا گیا ہے‘ میں اب تمہارے ساتھ اچھا برتائو کروں گا‘ تمہاری تنخواہیں مقررہ وقت پر ضرور مل جایا کریں گی‘ میں جب تک حدود ممالک اسلامیہ کو مضبوط اور عدل و انصاف سے شہروں کو آباد نہ کر لوں گا اس وقت تک بلا ضرورت کسی کو کوئی جاگیر نہ دی جائے گی‘ میں اپنے دروازے پر دربان نہ رکھوں گا تاکہ ہر شخص بآسانی مجھ تک پہنچ سکے‘ اگر میں غلط روی اختیار کروں تو تم کو اختیار ہے کہ مجھ کو معزول کر دو‘اس کے بعد یزید بن ولید نے لوگوں سے اپنے بھائی ابراہیم بن ولید اور اس کے بعد عبدالعزیز بن حجاج بن عبدالملک کی ولی عہدی کے لیے بیعت لی۔
اہل حمص کو جب یہ معلوم ہوا کہ ولید بن یزید قتل ہو گیا ہے‘ تو انہوں نے بغاوت کی اور ولید کے خون کا بدلہ لینے کی غرض سے یزید بن خالد بن یزید بن معاویہ کو اپنا سردار بنا کر دمشق کی طرف روانہ ہوئے‘ یزیدبن ولید نے سلیمان بن ہشام بن عبدالملک کو فوج دے کر مقابلے کے لیے روانہ کیا‘ اول اہل حمص کے سامنے صلح کی درخواست پیش کی گئی‘ لیکن جب وہ نہ مانے تو لڑائی شروع ہوئی‘ نتیجہ یہ ہوا کہ یزید بن خالد گرفتار ہو کر قید ہوا اور اہل حمص بہت سے مارے گئے‘ جو باقی رہے وہ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔
یہ خبر سن کر اہل فلسطین نے بھی بغاوت کی اور یزید بن سلیمان بن عبدالملک کو اپنا سردار بنایا‘اہل اردن نے سنا تو محمد بن عبدالملک کو اپنا بادشاہ بنا لیا اور اہل فلسطین کے ساتھ شریک ہو گئے اور دونوں جگہ کی فوجیں مل کر دمشق کی طرف بڑھیں‘ان تمام مقامات کے لوگوں کو یزید بن ولید نے پہلے اپنا ہم خیال بنا لیا تھا‘ لیکن خلیفہ کے قتل کا حادثہ تھا لٰہذا ان لوگوں کے دل میں یکایک مقتول خلیفہ کی ہمدردی اور موجودہ خلیفہ کی نفرت کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا‘یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے‘ہم دیکھتے ہیں کہ ایک قاتل ڈاکو کو جب پھانسی کی سزا دی جاتی ہے تو اگرچہ معقول طور پر ہر شخص اس کو پھانسی کا مستحق یقین کرتا ہے لیکن جب اس کو پھانسی پر لٹکتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس وقت تمام ہمدردی اسی کے ساتھ شامل حال ہو جاتی ہے اور وہ نفرت جواس کی نسبت پہلے دل میں موجود تھی کافور ہو جاتی ہے‘اس لشکر کا حال سن کر یزید نے سلیمان بن ہشام کو ایک زبردست لشکر کے ساتھ ان لوگوں کی سرکوبی کے لیے مامور کیا‘چنانچہ سلیمان نے ان سب کو شکست دے کر خلیفہ وقت کی بیعت و اطاعت پر آمادہ کر دیا۔
ملک شام کے مذکورہ فسادات کو فرو کرنے کے بعد یزید نے یوسف بن عمر کو عراق و خراسان کی امارت سے معزول کر کے اس کی جگہ منصور بن جمہور کو عراق و خراسان کا حاکم مقرر کیا‘ یوسف نے منصور کو باقاعدہ اپنی امارت کا چارج نہیں دیا بلکہ عراق سے دمشق کی جانب پوشیدہ طور پر روانہ ہوا‘ دمشق کے قریب پہنچا تھا‘ کہ یزید بن ولید نے گرفتار کراکر قید کر دیا‘اوراسی حالت میں مقتول ہوا‘ منصور بن جمہور نے کوفہ پہنچ کر یوسف کے زمانے کے قیدیوں کو رہا کیا اور اپنی طرف سے خراسان کی گورنری پر اپنے بھائی کو بھیجا وہاں نصر بن سیار نے خراسان میں اس کو داخلہ نہیں دیا‘ابھی یہ جھگڑا طے نہیں ہونے پایا تھا اور منصور بن جمہور کو کوفہ میں آئے ہوئے دو مہینے بھی نہ گذرے تھے کہ یزید بن ولید نے منصور کو معزول کر کے اس کی جگہ عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز کو عراق کی امارت پر روانہ کر دیا۔
منصور بن جمہور عراق کی امارت عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز کے سپرد کر کے شام کی طرف روانہ ہوا‘ عبداللہ بن عمر نے خراسان کی حکومت پر باقاعدہ طور پر نصر بن سیار کو مقرر فرمایا‘ ان دنوں یمامہ کی ولایت بھی عراق کے صوبہ سے متعلق تھی‘ کبھی یمامہ حجاز میں شامل کر دیا جاتا تھا‘ کبھی عراق میں‘ یوسف بن عمر کے زمانے سے اہل یمامہ علی بن مہاجر حاکم یمامہ کو نکال کر اپنی خود مختاری کا اعلان کر چکے تھے‘ ابھی تک وہ بدستور اپنی خود مختاری پر قائم تھے اور کوئی بندوبست اس علاقہ پر قبضہ قائم کرنے کے لیے نہ ہو سکا تھا۔
عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز نے عراق کی امارت اپنے ہاتھ میں لے کر جب نصر بن سیار کو خراسان کا حاکم اپنی طرف سے مقرر کیا تو وہاں جدیع بن علی کرمانی ازدی نے نصر بن سیار سے بغاوت و سرکشی اختیار کی ‘ جدیع بن علی اصل میں ازدی تھا لیکن چونکہ وہ کرمان میں پیدا ہوا تھا اس لیے کرمانی مشہور تھا‘ وہ یہ دیکھ کر کہ نصر بن سیار جو پہلے خراسان کا خود مختار حاکم تھا اب کوفہ کے گورنر کی طرف سے نامزد و مامور ہو کر مرکز حکومت سے متعلق ہو گیا ہے رنجیدہ ہوا‘ اور اس نے اپنے دوستوں سے کہا کہ یہ لوگ فتنہ میں پڑ رہے ہیں تم اپنے کاموں کے لیے کسی کو اپنا امیر منتخب کر لو‘ اور نصر بن سیار اور کرمانی کے دلوں میں پیشتر سے کچھ کدورت تھی اب کرمانی کے اس جدید فتنہ برپا کرنے پر نصر نے اس کو گرفتار کرالیا اور ۲۷ رمضان ۱۲۶ھ کو قید کر دیا۔
کرمانی چند روز قید رہا اس کے بعد قیدخانہ میں نقب لگا کر نکل آیا‘ اور فورا تین ہزار آدمیوں کو اپنے گرد جمع کر لیا‘ ادھر سے نصر نے بھی اس کی سرکوبی کے لیے ایک سردار کو مامور کیا مگر لوگوں نے درمیان میں پڑ کر لڑائی کو روکنے اور صلح کرانے کی کوشش کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کرمانی نصر کے پاس چلا آیا اور نصر بن سیار نے اس کو خانہ نشینی کی ہدایت کی‘ چند روز کے بعد پھر کرمانی نے بغاوت و سرکشی کا ارادہ کیا‘ غرض اس طرح کئی مرتبہ جنگ کی تیاری اور کئی مرتبہ صلح ہوئی‘ آخر یہ تجویز ہوئی کہ کرمانی خراسان کو چھوڑ کر جرجان کی طرف چلا جائے‘ چنانچہ اس پر عمل درآمد ہوا۔
جن دنوں نصر اور کرمانی کے درمیان بار بار نزاع پیدا ہو کر صورت حال خطرناک ہو رہی تھی‘ نصر کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں کرمانی بلاد ترکستان سے حرث بن شریح کو بلوا کر اپنی طاقت کو نہ بڑھا لے‘ حرث بن شریح کا ذکر اوپر آچکا ہے‘ وہ بارہ تیرہ سال سے بلاد ترک میں مقیم تھا‘ چنانچہ نصر نے حرث کو بلانے اور اپنے پاس لانے کے لیے مقاتل بن حیانی نبطی کو بھیجا‘ ادھر عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز کے پاس کوفہ میں اور یزید بن ولید کے پاس دمشق میں خطوط بھیجے جن میں حرث بن شریح کے متعلق اندیشہ و خطرہ کی اطلاع دے کر اس کی سفارش کی تھی کہ اس کو امان دے کر بلوا لینے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے‘ دونوں جگہ سے امان نامے آگئے۔
ادھر حرث بن شریح بھی بلاد ترکستان سے خراسان میں آ گیا‘ نصر نے اس کی خوب خاطر و مدارات کی اور مرورود میں اس کو ٹھہرایا‘ پچاس درہم روزانہ اس کا روزینہ مقرر کیا اور کہا کہ آپ جس شہر کی حکومت پسند کریں وہاں کا عامل آپ کو بنا دیا جائے‘ حرث نے کہا کہ میں حکومت اور دولت کا خواہش مند نہیں ہوں‘ میں تو کتاب و سنت پر عمل در آمد کرنے کا خواہش مند ہوں‘ ظلم و تعدی سے پریشان ہو کر ان شہروں سے نکل گیا تھا‘ اب بارہ تیرہ برس کے بعد تم نے مجھ کو پھر اس طرف واپس بلایا ہے‘ نصر یہ سن کر خاموش ہو گیا‘ حرث نے اس کے بعد کرمانی کے پاس کہلا کر بھجوایا کہ اگر نصر بن سیار نے کتاب و سنت پر عمل کیا تو میں اس کا طرفدار ہو کر اس کے دشمنوں سے لڑوں گا اوراگر اس نے کتاب و سنت پر عمل نہ کیا تو پھر میں تمہارا شریک ہو جائوں گا بشرطیکہ تم نے کتاب و سنت پر عمل کرنے کا اقرار کیا‘ اس کے بعد حرث نے قبائل تمیم اور دوسرے لوگوں کو اپنی امارت کی طرف متوجہ کیا‘ چند روز میں تین ہزار آدمیوں نے اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
خراسان کی تو یہ کیفیت تھی جو مذکور ہوئی‘ ادھر آرمینیا میں مروان بن محمد بن مروان اور جزیرہ میں عبدہ بن ریاح غسانی امارت کر رہے تھے‘ جب ولید بن یزید مقتول ہوا تو عبدہ غسانی جزیرہ سے ملک شام کی طرف چلا گیا‘ مروان بن محمد کے بیٹے عبدالملک نے جزیرہ کے صوبہ کو خالی دیکھ کر اس پر قبضہ کر کے جا بجا اپنے گماشتے بھیج دیئے اور اپنے باپ مروان بن محمد بن مروان کو لکھا کہ یہ موقع نہایت ہی موزوں ہے‘ آپ خون ولید کا معاوضہ لینے کے لیے کھڑے ہو جائیں‘ ادھر حمص و اردن و فلسطین کی بغاوتوں سے یزید بن ولید کو فرصت نہ ملنے پائی تھی کہ مروان بن محمد کے خروج کی خبر ملی‘ یزید کے لیے یہ موقع چونکہ بہت ہی نازک تھا‘ اس نے مروان کو لکھ بھیجا‘ کہ تم میری بیعت کر لو‘ میں تم کو جزیرہ‘ آذربائیجان‘ آرمینیا‘ موصل تمام ولائتوں کی حکومت دے دوں گا اور سند گورنری تمہارے پاس بھیجوں گا‘ مروان بن محمد نے بیعت کر لی اور یزید نے جیسا کہ وعدہ کیا تھا سند گورنری اس کے پاس بھیج دی‘ اس طرح راستے ہی سے مروان واپس چلا گیا اور اپنے متعلقہ صوبوں پر حکومت کرنے لگا‘ پہلے وہ صرف آرمینیا پر حاکم تھا اب موصل تک تمام علاقہ کا حکمران مقرر ہو گیا۔
یزید بن ولید المشہور بہ یزیدالناقص اپنے اخلاق و قابلیت کے اعتبار سے برا نہ تھا‘ لیکن اس کی عمر نے وفا نہ کی اور ۲۰ ماہ ذوالحجہ ۱۲۶ھ کو چند روز کم چھ مہینے خلافت کر کے ۳۵ سال کی عمر میں مرض طاعون سے وفات پائی۔