مروان بن محمد بن مروان بن حکم
خوارج
مروان بن محمد بن مروان خاندان بنوامیہ کا آخری خلیفہ ہے‘ اس کو لوگ مروان الحمار بھی کہتے تھے‘ حمار ملک عرب میں صابر ہونے کی وجہ سے مشہور ہے‘ صعوبت کش آدمی کو حمار کہہ دیا جاتا تھا‘ اس لیے اس خلیفہ کو بھی حمار کہنے لگے‘ کیونکہ اس کی خلافت کا تمام زمانہ لڑائیوں میں بسر ہوا اور اس نے نہایت صعوبت کش اور صابر ہونے کا ثبوت بہم پہنچایا‘ مروان بن محمد نے بجائے دمشق کے مقام حران میں اقامت اختیار کی‘ تدمر سے ابراہیم (معزول خلیفہ)کو اپنے پاس بلا لیا اور اس کا وظیفہ مقرر کر دیا۔
یکم شوال کو مروان کے پاس خبر پہنچی کہ اہل حمص بغاوت و سرکشی کی پوری تیاری کر کے خروج پر آمادہ ہیں اور اطراف و جوانب سے عرب قبائل ان کے پاس پہنچ گئے ہیں‘ مروان اس خبر کے سنتے ہی فوراً فوج لے کر حمص کی جانب روانہ ہوا‘ ابراہیم اور سلیمان بھی اس کے ہمراہ تھے‘ ۳۰ شوال کو حمص کے قریب پہنچے‘ دیکھا کہ اہل حمص نے شہر کے دروازے بند کر لیے ہیں‘ مروان کے منادی نے پکار کر کہا کہ تم لوگوں نے امیرالمئومنین کی بیعت کیوں توڑ دی ہے‘ شہر والوں نے جواب دیا کہ ہم نے بیعت نہیں توڑی بلکہ ہم مطیع و فرماں بردار اور اپنی بیعت پر قائم ہیں‘ چنانچہ انہوں نے شہر کے دروازے کھول دیئے اور مروان کے ہمراہی شہر میں داخل ہوئے تو اہل شہر اور مخالفین نے مقابلہ کیا‘ یہ حالت دیکھ کر مروان شہر کے دروازے پر چڑھ گیا اور مخالفین کا مقابلہ کر کے ان کو شکست دی‘ شہر پناہ تین سو گز کے قریب ڈھا کر زمین کے برابر کر دی‘ اہل شہر سے اپنی بیعت لی۔
ابھی مروان حمص ہی میں تھا کہ خبر پہنچی کہ یزید بن خالد کو اہل غوطہ نے اپنا سردار بنا کر دمشق پر حملہ کیااور والی دمشق کو محصور کر لیا‘ مروان نے والی دمشق کی امداد کے لیے حمص سے دس ہزار فوج کو روانہ کیا‘ اس فوج نے پہنچ کر باہر سے اور اہل دمشق نے اندر سے مقابلہ کیا‘ اہل غوطہ کو شکست ہوئی‘ یزید بن خالد مارا گیا‘ اس کا سر کاٹ کر مروان کے پاس بھیج دیا گیا۔
اس فتنے کے فرو ہوتے ہی ثابت بن نعیم نے اہل فلسطین کو مجتمع کر کے طبریہ کا محاصرہ کیا‘ طبریہ میں اس وقت ولید بن معاویہ بن مروان بن حکم والی تھا‘ مروان بن محمد نے یہ سنتے ہی ابوالورد اپنے فوجی سردار کو اس طرف بغاوت فرو کرنے کے لیے روانہ کیا‘ ابوالورد کے پہنچتے ہی اہل طبریہ نے شہر سے نکل کر محاصرین کا مقابلہ کیا‘ اہل فلسطین نے شکست فاش کھائی‘ اور ثابت بن نعیم کے تین لڑکے ابوالورد نے گرفتار کر کے مروان کے پاس بھیج دیئے‘ مروان نے فلسطین کی حکومت پر رماحس بن عبدالعزیز کنانی کو مامور کیا اس نے تلاش کر کے ثابت بن نعیم کو گرفتار کیا اور مروان کے پاس بھیج دیا مروان نے اس کے اور اس کے تینوں لڑکوں کے ہاتھ پائوں کٹوا کر صلیب پر چڑھا دیا۔
ان واقعات سے فارغ ہو کر مروان بن محمد نے دیر ایوب میں اپنے لڑکوں عبداللہ و عبیداللہ کی ولی عہدی کی بیعت لی اور ہشام کی لڑکیوں سے ان کا عقد کر دیا‘ اس کے بعد مروان نے تدمر کی جانب فوج کشی کی‘ کیونکہ اہل تدمر ابھی تک خود مختاری پر قائم تھے‘ اہل تدمر کو بیعت اور اطاعت کرنی پڑی۔
اس کے بعد مروان نے یزید بن عمر بن ہبیرہ کو عراق کی جانب روانہ کیا کہ وہ ضحاک شیبانی خارجی کو جو کوفہ پر مسلط ہو گیا تھا خارج کرے اور امدادی فوجیں عقب سے بھیجتے رہنے کا انتظام کرنے کے لیے خود قرقیسا میں آ ٹھہرا‘ اس سے پیشتر سلیمان بن ہشام آرام کرنے کے لیے رصافہ ٹھہر گیا تھا‘ اہل شام کا ایک گروہ کثیر جس کو مروان نے یزید بن عمر ہبیرہ کے ساتھ عراق کی جانب روانہ کیا تھا اس سے جدا ہو کر رصافہ میں سلیمان بن ہشام کے پاس پہنچا اور کہا کہ آپ خلافت قبول کر لیں‘ سلیمان نے اس بات کو قبول کر لیا اور ان لوگوں کو ہمراہ لیے ہوئے قنسرین کی جانب روانہ ہوا‘ قنسرین پہنچ کر سلیمان نے اہل شام کو خطوط لکھے جن کا اثر یہ ہوا کہ اہل شام ہر طرف سے سلیمان بن ہشام کی طرف متوجہ ہوئے اور ایک زبردست فوج سلیمان کے پاس جمع ہو گئی۔
مروان نے یہ خبر سنی تو یزید بن عمر بن ہبیرہ کو قیام کر دینے کا حکم بھیجا اور خود قرقیسیا سے سلیمان کی طرف چلا‘ قنسرین کے باہر مقام حناف میں مروان و سلیمان کی صف آرائی ہوئی اور سلیمان کو مروان نے شکست دیکر بھگا دیا‘ سلیمان کے ہمراہیوں کو جو گرفتار ہوئے قتل کیا‘ سلیمان بن ہشام کا لڑکا اور ہشام بن عبدالملک کا ماموں خالد بن ہشام مخزومی میدان جنگ میں مارے گئے‘ سلیمان بھاگ کر حمص پہنچا اور دوبارہ لشکر مرتب کر کے شہر پناہ کو درست کرایا۔
مروان یہ سنکر حمص پہنچا‘ نہایت خوں ریز جنگ ہوئی‘ پھر مروان نے حمص کا محاصرہ کر لیا‘ قریباً دس مہینے حمص کا محاصرہ جاری رہا‘ اسی (۸۰) منجنیقیں برابر مصروف سنگ باری تھیں‘ مجبور ہو کر اہل حمص نے امان طلب کی اور سلیمان تدمر کی طرف چلا گیا‘ یہاں سے فارغ ہو کر مروان کوفہ کی طرف ضحاک خارجی سے جنگ کرنے کے لیے روانہ ہوا۔
یزید عمر بن ہبیرہ نے کوفہ کی طرف بڑھ کر ضحاک خارجی کے لشکر کو شکست دی‘ ضحاک نے دوبارہ لشکر مرتب کیا‘ یزید بن عمر نے دوبارہ اس کو شکست دی اور کوفہ میں داخل ہوا‘ خارجیوں نے کئی مرتبہ خروج کیا مگر ہر مرتبہ ان کو شکست حاصل ہوئی‘ یزید بن عمر بن ہبیرہ نے عراق پر قابض و متصرف ہو کر اپنی طرف سے نصر بن سیار کو خراسان کی گورنری پر قائم رکھا‘ اس نے مروان بن محمد کی بیعت کر لی۔
جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے‘ خراسان میں حرث بن شریح موجود تھا اور اس کے گروہ میں دن بدن اضافہ ہو رہا تھا‘ حرث بن شریح کو یہ بھی خیال ہوا کہ مجھ کو یزید بن ولید نے امان دے دی تھی‘ مروان بن محمد نے تو امان نہیں دی‘ ادھر عبداللہ بن عبدالعزیز گورنر کوفہ نے بھی امان دی تھی‘ لیکن یزید بن عمر بن ہبیرہ موجودہ گورنر کوفہ نے امان نہیں دی‘ لہٰذا حرث بن شریح نے مخالفت کا اعلان کیا‘ نصر بن سیار نے اس کو بہت سمجھایا‘ لیکن وہ نہ مانا‘ بالآخر نوبت لڑائی تک پہنچی خاص شہر مرو کی گلیوں میں جنگ و پیکار کے شعلے بلند ہوئے۔
ادھر کرمانی بھی کرمان میں کافی قوت حاصل کر چکا تھا‘ نصر بن سیار نے کرمانی کو بلوایا‘ لیکن اس کا بھی دل صاف نہ ہوا اور اعلانیہ مخالفت پر آمادہ ہو گیا‘ غرض مرو میں کرمانی‘ حرث‘ نصر تین شخص جمع ہو گئے‘ تینوں کی طاقت مساوی تھی‘ اور تینوں اپنے الگ الگ مقاصد و اغراض رکھتے تھے‘ کوئی کسی کا ہمدرد یا شریک نہ تھا‘ آخر حرث و کرمانی دونوں نے متفق ہو کر نصر بن سیار کو ہزیمت دیکر مرو سے نکال دیا اور چند روز کے بعد دونوں آپس میں لڑے‘ اس لڑائی میں حرث بن شریح مارا گیا اور کرمانی مرو پر قابض و متصرف ہوا یہ ۱۲۸ھ کا واقعہ ہے۔
جب حرث بن شریح مارا گیا تو نصر نے اپنی جمعیت فراہم کر کے کرمانی کے مقابلے پر یکے بعد دیگرے فوجیں بھیجنی شروع کیں‘ لڑائیاں۔ ۔ ۔ہوئیں اور قریباً ہر ایک معرکہ میں نصر کے سرداروں کو کرمانی کے مقابلے میں شکست ہوئی‘ آخر نصر بن سیار خود بڑی جمعیت لے کر مرو پہنچا‘ طرفین سے مورچے قائم ہوئے اور لڑائیوں کا سلسلہ جاری ہوا‘ یہ لڑائیاں ابھی جاری تھیں اور کوئی فریق غالب یا مغلوب نہ ہونے پایا تھا کہ مسلم خراسانی نے جس کا بیان مفصل آگے آتا ہے اس موقع کو بہت غنیمت سمجھا اور اپنی جمعیت کو فراہم کر کے ادھر نصر سے خط و کتابت جاری کی اور ادھر کرمانی سے‘ نصر کو لکھا کہ امام ابراہیم نے تمہارے متعلق کچھ مجھ کو ہدایات بھیجی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ان سے تم کو فائدہ پہنچے گا‘ اسی مضمون کا خط کرمانی کو لکھا کہ میں تمہارا ہمدرد ہوں اور امام ابراہیم نے تمہارے متعلق مجھ کو لکھا ہے کہ ضرورت کے وقت تمہاری مدد کروں۔
یہ خطوط جن قاصدوں کے ہاتھ روانہ کرتا ان کو ہدایت کرتا کہ جو قبائل نصر کے ہمدرد ہیں راستے میں ان کو نصر کے نام خط دکھاتے ہوئے جائیں اور جو قبائل کرمانی کے ہمدرد ہیں ان کو کرمانی کے نام کا خط دکھاتے ہوئے جائیں‘ منشاء اس سے یہ تھا کہ تمام قبائل کی ہمدردی حاصل ہو جائے‘ اسی طرح اس نے خارجیوں کی ہمدردی و حمایت بھی مناسب تدبیروں سے حاصل کر لی‘ آخر ابومسلم خراسانی اپنی جمعیت لیکر کرمانی اور نصر بن سیار کے مورچوں کے درمیان آکر خیمہ زن ہوا‘ فریقین یہ اندازہ نہ کر سکے کہ یہ کس کی حمایت کرے گا اور کس کی مخالفت‘ اگلے روز ابومسلم نے کرمانی کو کہلا بھجوایا‘ کہ میں تمہاری طرف سے نصر کا مقابلہ کروں گا‘ کرمانی یہ سن کر خوش ہوا‘ نصر نے اس خبر سے مطلع ہو کر کرمانی کو لکھ بھیجا کہ ابومسلم چالاکی سے تم کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تم اس کے فریب میں نہ آنا‘ اس کے مقابلہ میں ہم کو اپنی مخالفت فراموش کر دینی چاہیئے‘ کرمانی نے نصر کی رائے کو پسند کیا اور اگلے روز دونوں میں ملاقات کی تجویز منظور ہوئی‘ کرمانی دو سو آدمی لے کر نصر بن سیار کی ملاقات کے لیے نکلا‘ نصر کے آدمیوں نے موقع پا کر کرمانی اور اس کے ہمراہیوں کو قتل کر دیا۔
کرمانی کا بیٹا علی بھاگ کر ابو مسلم کے پاس آیا کرمانی کی فوج اور ابومسلم کی جمعیت نے مل کر ابومسلم اور علی بن کرمانی کی سرداری میں نصر بن سیار پر حملہ کیا‘ نصر بن سیار کو شکست ہوئی اور وہ بھاگ کر کسی معمولی شخص کے مکان میں چھپا‘ اور ابومسلم و علی نے مرو پر قبضہ کیا‘ علی بن کرمانی نے ابومسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہی‘ لیکن ابومسلم نے کہا کہ تم ابھی اسی حالت میں رہو‘ امام کا حکم آنے پر جو مناسب ہو گا کیا جائے گا‘ نصر بن سیار نے مرو سے نکل کر پھر اپنے گرد لوگوں کو جمع کرنا شروع کیا‘ ابومسلم اور علی بن کرمانی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے‘ ابومسلم نے خارجیوں کے سردار شیبان خارجی کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا‘ کیونکہ نصر بن سیار خارجیوں کا دشمن تھا ‘ علی بن کرمانی اس لیے ابومسلم کا شریک تھا کہ وہ نصر بن سیار سے اپنے باپ کے خون کا انتقام لینا چاہتا تھا‘ نصر بن سیار نے خارجیوں کے سردار کو یہ پیغام بھیج کر جدا کرنا چاہا کہ ابو مسلم شیعۂ علی ہے۔
غرض خارجی کبھی ابو مسلم سے جدا ہوئے‘ کبھی ابن کرمانی الگ ہو گیا‘ یہ چاروں گروہ یعنی ابو مسلم‘ شیبان خارجی‘ ابن کرمانی‘ نصر بن سیار تمام ملک خراسان میں ادھر ادھر پھر رہے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف اتفاق و مخالفت جلد جلد قائم ہو ہو کر ٹوٹ جاتی تھی‘ ان چاروں میں نصر بن سیار اور ابومسلم خراسانی بہت ہوشیار اور مآل اندیش تھے‘ نتیجہ یہ ہوا کہ ابومسلم خراسانی نے یکے بعد دیگرے مناسب موقع پاکر شیبان خارجی اور ابن کرمانی کو ۱۳۰ھ میں قتل کرا دیا اور ۱۳۱ھ میں رے کے متصل نصر بن سیار خود بیمار ہو کر مر گیا اور ملک خراسان میں ابومسلم کا کوئی رقیب باقی نہ رہا۔
خوارج
خراسان کے مجمل حالات اوپر مذکور ہو چکے ہیں‘ اسی سلسلہ میں یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ خارجیوں نے سلطنت اسلامیہ میں خانہ جنگیوں کی کثرت اور ضعف کے آثار دیکھ کر خروج کیا اور خراسان کے خارجیوں نے مل کر ضحاک بن قیس شیبانی کو اپنا سردار بنایا‘ ضحاک نے کوفہ پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز کو کوفہ سے واپس آنا پڑا‘ سلیمان بن ہشام ‘ مروان بن محمد سے ہزیمت پا کر ضحاک بن قیس سے آملا‘ اس طرح ضحاک کی طاقت اور بھی بڑھ گئی‘ ضحاک نے طاقت پا کر موصل پر چڑھائی کی‘ وہاں مروان بن محمد کے بیٹے عبداللہ بن مروان نے مقابلہ کیا‘ لیکن اس کے پاس کل سات ہزار فوج تھی اور ضحاک کے ساتھ ایک لاکھ آدمی تھے‘ ضحاک نے عبداللہ بن مروان کا محاصرہ کر لیا‘ مروان بن محمدیہ خبر سن کر اس طرف متوجہ ہوا‘ خوب زور شور کا مقابلہ ہوا‘ ضحاک مارا گیا‘ خارجیوں نے سعید بن بہدل کو اپنا امیر بنایا‘ وہ بھی مارا گیا‘ اس کے بعد شیبان بن عبدالعزیز کو خارجیوں نے اپنا امیر منتخب کیا۔
مروان نے یزید بن ہبیرہ کو کوفہ کی طرف روانہ کیا‘ اس نے وہاں سے خارجیوں کو خارج کیا‘ ادہر شیبان بن عبدالعزیز خارجیوں کی تمام جمعیت کو لے کر فارس کی طرف چلا گیا‘ وہاں جا کر وہ ابومسلم کا شریک ہوا جیسا کہ اوپر مذکور ہو چکا ہے‘ اور ۱۳۰ھ میں مقتول ہوا۔
حجاز ویمن و حضر موت میں بھی بغاوتیں نمودار ہوئیں‘ ابو حمزہ مختار بن عوف ازدی نے علم بغاوت بلند کیا‘ حضر موت کا رئیس عبداللہ بن یحییٰ بھی اس کا شریک ہو گیا ابو حمزہ نے اول مدینہ پر قبضہ کیا‘ اس کے بعد شام کی طرف بڑھا‘ مروان بن محمد نے ابن عطیہ سعدی کو اس کے مقابلہ پر مامور کیا‘ وادی القریٰ میں لڑائی ہوئی‘ ابو حمزہ مارا گیا‘ ابن عطیہ یمن کی طرف بڑھا‘ وہاں عبداللہ بن یحییٰ کو مقابلہ پر مستعد پایا‘ دونوں میں لڑائی ہوئی‘ عبداللہ بن یحییٰ مارا گیا‘ ابن عطیہ نے اس کا سر کاٹ کر مروان کے پاس بھیجا۔
جس وقت مروان بن محمد ضحاک خارجی سے موصل کے قریب برسر مقابلہ تھا اس وقت اس کے پاس ایک خط امام ابراہیم کا لکھا ہوا جو ابومسلم خراسانی کے نام لکھا تھا پکڑا ہوا پیش کیا گیا تھا‘ اس خط میں امام ابراہیم نے ابومسلم کو ہدایات لکھی تھیں اور یہ بھی لکھا تھا کہ خراسان میں کسی عربی النسل یا عربی انسان کو زندہ نہ چھوڑنا‘ خراسان کے اصلی باشندے جو مسلمان ہو گئے ہیں وہ ہمارے بہت کام آئیں گے اور انھیں پر زیادہ اعتماد رکھنا چاہیئے‘ اسی خط سے یہ راز بھی منکشف ہوتا تھا کہ بنو عباس نے بنو امیہ کے خلاف عرصہ سے سازش کا جال پھیلا رکھا ہے اور امام ابراہیم اس سازش کے موجودہ امام ہیں جو مقام حمیمہ علاقہ بلقاء میں سکونت پذیر ہیں۔
مروان بن محمد نے اس خط کو پڑھ کر اپنے عامل کو جو بلقاء میں مامور تھا لکھا کہ ابراہبم بن محمد کو حمیمہ سے گرفتار کر کے بھیج دو‘ چنانچہ ابراہیم بن محمد اور ان کے ساتھ کئی اور اہل خاندان گرفتار ہو کر مروان کے پاس بھیجے گئے‘ مروان بن محمد نے ان کو مقام حران میں قید کر دیااور امام ابراہیم کے ساتھ سعید بن ہشام بن عبدالملک اور اس کے دونوں لڑکے عثمان و مروان اور عباس بن ولید بن عبدالملک اور عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز اور ابو محمد سفیانی بھی قید کر دیئے گئے‘ چند روز کے بعد حران میں وبائی بیماری پھیلی‘ اسی میں بحالت قید امام ابراہیم‘ عباس بن ولید‘ عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز فوت ہو گئے۔
سعید بن ہشام معہ اور قیدیوں کے داروغہ جیل کو قتل کر کے اور جیل خانہ توڑ کر بھاگ نکلا‘ اہل حران نے ان مفرور قیدیوں کو پکڑ کر مار ڈالا‘ صرف ابو محمد سفیانی قید خانہ سے نہ نکلا‘ اس کو مروان بن محمد نے نہر زاب سے شکست خوردہ واپس آکر آزاد کیا۔
امام ابراہیم نے اپنی گرفتاری و قید کے وقت وصیت کر دی تھی کہ میرے بعد میرا جانشین میرا بھائی عبداللہ بن محمد المشہور بہ ابوالعباس سفاح ہو گا‘ ساتھ ہی یہ بھی وصیت کر دی تھی کہ اب ابوالعباس سفاح کو علاقہ بلقاء میں سکونت نہیں رکھنی چاہیے‘ بلکہ کوفہ میں جا کر رہنا چاہیے‘ چنانچہ عبداللہ بن محمد سفاح معہ اہل خاندان اسی وصیت کے موافق کوفہ میں آکر اقامت پذیر ہوا تھا‘ امام ابراہیم نے اپنی گرفتاری سے پیشتر حکم دیا تھا کہ ابومسلم خراسانی کو اپنا افسر سمجھ کر اس کے احکام کی تعمیل کرو‘ اس کے بعد وہ قحطبہ بن شبیب کو ایک سیاہ پھریرہ دے کر ابومسلم کے پاس روانہ کر چکے تھے کہ اس جھنڈے کو بلند کر کے خراسان میں خروج اور ملکوں پر قبضہ شروع کر دو۔
ابومسلم نے ۱۳۰ھ سے ۱۳۱ھ تک تمام خراسان پر قبضہ کر لیا‘ اس کے بعد قحطبہ بن شبیب کو فوج دے کر کوفہ کی طرف بھیجا کہ کوفہ پر قبضہ کرنے کے بعد ابوالعباس سفاح عبداللہ بن محمد کے ہاتھ پر بیعت کر لو۔ چنانچہ اس کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوئی‘ یہ خبر سن کر مروان بن محمد حران سے کوفہ کی طرف ایک لاکھ بیس ہزار فوج لے کر چلا‘ راستے میں نہرزاب کے کنارے سفاح کی فوج سے جس کا سردار سفاح کا چچا عبداللہ بن علی تھا مقابلہ ہوا‘ مروان بن محمد کی فوج اگر لڑنا چاہتی تو بڑی آسانی سے عبداللہ بن علی کے لشکر کو شکست دے سکتی تھی لیکن عین معرکۂ جنگ میں جب کہ مروان بن محمد عبداللہ بن علی کی فوج کے اکثر حصے کو شکست دے کر بھگا چکا تھا اور فتح میں کوئی کسر باقی نہ رہ گئی تھی‘ مروان کی فوج کے اکثر حصے نے لڑنے اور حملہ کرنے سے انکار کر دیا‘ گویا وہ مروان بن محمد کو شکست ہی دلانا چاہتے تھے۔
عبداللہ بن علی نے اپنے آپ کو شکست خوردہ دیکھ کر اور اپنی جان پر کھیل کر اپنے مخصوص ہمرائیوں کے ساتھ حملہ کیا‘ مگر مروان کی طرف سے ان کی مدافعت میں کوئی سردار نہ بڑھا‘ مروان نے ان کو انعام و اکرام کا لالچ دیا‘ جب یوں بھی کام نہ چلا تو جس قدر خزانہ اس کے ہمراہ تھا وہ سب مروان نے میدان میں ڈلوا دیا اور کہا کہ حملہ کرو اور کمزور دشمن کو مار کر یہ تمام خزانہ آپس میں تقسیم کرلو‘ یہ دیکھ کر لشکر اس خزانہ کے لوٹنے میں مصروف ہو گیا اور جو لوگ ابھی تک لڑ رہے تھے وہ بھی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہو گئے‘ اس بد نظمی و افراتفری کو دیکھ کر مروان نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بھیجا کہ لوگوں کو اس حرکت سے روکے‘ اس کے پہنچتے ہی سب کے سب میدان سے بھاگنے لگے اور مروان کو چند ہمراہیوں کے ساتھ تنہا چھوڑ کر چل دئیے۔
مروان اپنے لشکر کی اس بیوفائی سے مجبور ہو کر میدان سے بھاگا اور موصل پہنچا‘ وہاں لوگوں نے مروان پر اس شکست کی وجہ سے آوازے کسے‘ وہاں ٹھہرنا مناسب نہ سمجھ کر مقام حران کی طرف آیا‘ جہاں اس کا بھتیجا ابان بن یزید بن محمد عامل تھا‘ نہرزاب کے کنارے یوم شنبہ ۱۱ جمادی الثانی ۱۳۰ھ کو مروان بن محمد نے شکست کھائی تھی‘مقام حران میں مروان صرف بیس ہی روز قیام کرنے پایا تھا‘ کہ عبداللہ بن علی کے آنے کی خبر سنی۔
مروان وہاں سے حمص کی طرف روانہ ہوا‘ جب عبداللہ بن علی حران کے قریب پہنچا‘ تو حران کا عامل ابان بن یزید بن محمد سیاہ کپڑے پہن کر اور سیاہ جھنڈا لے کر اس کے استقبال کو نکلا اور اس کے ہاتھ پر سفاح کی خلافت کی بیعت کرلی‘ عبداللہ بن علی نے اس کو امان دے دی۔
مروان حمص پہنچا‘ تو وہاں کے لوگوں نے اول تو فرمانبرداری و عقیدت کا اظہار کیا‘ لیکن مروان کے ہمراہیوں کو کم دیکھ کر سرکشی اور مقابلہ پر آمادہ ہوئے‘ مروان وہاں سے تین دن کے بعد ہی چل دیا‘ لیکن اہل حمص نے اس کے مال و اسباب کے چھیننے کا ارادہ کیا‘ مروان نے ان کو اول سمجھایا‘ لیکن جب وہ باز نہ آئے تو مقابلہ پر آمادہ ہو کر ان کو مار کر بھگا دیا۔
حمص سے مروان دمشق میں پہنچا‘ یہاں کا عامل اس کا چچازاد بھائی ولید بن معاویہ بن مروان بن حکم تھا‘ یہاں بھی قیام مناسب نہ سمجھ کر اور ولید بن معاویہ کو مخالفین دولت امویہ سے لڑنے کی ترغیب دے کر فلسطین کی طرف روانہ ہوا‘ اور وہاں خاموش اور بے تعلق زندگی بسر کرنے کے ارادے سے ٹھہر گیا۔
ادھر عبداللہ بن علی حران میں اس قید خانے کو جس میں ابراہیم بن محمد قید تھے مسمار کر کے دمشق کی طرف روانہ ہوا‘ راستے میں اس کا بھائی عبدالصمد بن علی جس کو سفاح نے آٹھ ہزار کی جمعیت سے اس کی مدد کے لیے روانہ کیا تھا آ پہنچا‘ اس کے بعد عبداللہ بن علی قنسرین و بعلبک ہوتا اور لوگوں سے بیعت لیتا ہوا دمشق آ پہنچا‘ دمشق کا محاصرہ کیا‘ چند روز محاصرہ کے بعد بتاریخ ۵ رمضان ۱۳۲ھ بروز چار شنبہ بزور شمشیر دمشق میں داخل ہوا اور دمشق کی گلیوں میں خون کے دریا بہا دیئے‘ اسی معرکہ میں ولید بن معاویہ حاکم دمشق مارا گیا اس فتح اور قتل عام کے بعد عبداللہ بن علی پندرہ روز دمشق میں مقیم رہا‘ اس کے بعد فلسطین کی طرف روانہ ہوا‘ عبداللہ اپنا لشکر لیے ہوئے ابھی سرحد فلسطین پر ہی پہنچا تھا‘ کہ عبداللہ سفاح کا فرمان پہنچا کہ مروان بن محمد کے تعاقب میں اپنے بھائی صالح بن علی کو مامور کر دو‘ یہ فرمان شروع ذیقعدہ ۱۳۲ھ میں پہنچا‘ صالح بن علی فوج لے کر مروان کے تعاقب میں روانہ ہوا‘ مروان یہ سنکر فلسطین سے روانہ ہو کر مقام عریش میں چلا گیا‘ وہاں سے نہر نیل کی طرف گیا‘ وہاں سے صید کی طرف روانہ ہوا۔
صالح بن علی بھی تعاقب میں بڑھتا چلا گیا‘ اس نے خود فسطاط میں ڈیرہ ڈال کر فوجی دستوں کو آگے مروان کے تعاقب اور سراغ میں روانہ کیا‘ اتفاقاً صالح کے دستوں سے مروان کے سواروں کا مقابلہ ہو گیا۔ مروان کے سوار پہلے ہی سے افسردہ خاطر اور بد دل تھے انہوں نے مقابلہ نہ کیا اور بھاگ پڑے‘ ان بھاگنے والوں میں چند گرفتار بھی ہو گئے‘ ان گرفتار شدہ سواروں سے پوچھا گیا تو انہوں نے مروان بن محمد کے قیام کا پتہ بتلا دیا کہ وہ قصبہ بوصیر میں مقیم ہے‘ صالح کی فوج کے افسر ابوعون نے یہ سن کر رات ہی میں مروان کی جائے قیام پر شب خون مارنا مناسب سمجھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مروان کا مقابلہ آسان نہیں ہے‘ چنانچہ شب خون مارا گیا اس اچانک حملہ سے گھبرا کر مروان اپنے مکان سے باہر نکل آیا‘ ایک شخص نے جو پہلے ہی اس تاک میں کھڑا تھا برچھے کا وار کیا‘ مروان گرا اور اس کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا کہ افسوس امیرالمومنین مارے گئے‘ اس آواز کو سن کر ابوعون اور اس کے ہمراہی دوڑ پڑے فوراً مروان کا سرکاٹ لیا اور ابوالعباس عبداللہ سفاح کے پاس روانہ کر دیا۔
یہ واقعہ ۲۸ھ ذی الحجہ ۱۳۲ھ مطابق ۵ اگست ۷۵۰ء کو وقوع پزیر ہوا اور اس کے ساتھ خلافت بنوامیہ کا خاتمہ ہو کر خلافت بنو عباس کی ابتدا ہوئی‘ قتل مروان کے بعد اس کے لڑکے عبداللہ و عبیداللہ سر زمین حبشہ کی طرف بھاگے‘ حبشیوں نے بھی ان کو امان نہ دی‘ عبیداللہ حبشیوں کے ہاتھ سے مارا گیا اور عبداللہ فلسطین میں آکر پوشیدہ طور پر رہنے لگا‘ جس کو خلافت مہدی کے زمانے میں عامل فلسطین نے گرفتار کر کے مہدی کے دربار میں بھیج دیا اور اس نے اس کو قید کر دیا۔