مروان بن محمد بن مروان بن حکم

خلافت بنوامیہ پر ایک نظر

(۱)سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے نصف آخر سے جو اندرونی خرخشے اور خفیہ سازشیں شروع ہوئیں ان کا ایک ابتدائی حصہ اس نتیجہ پر ختم ہوا کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ تسلیم کئے گئے اور خلافت بنوامیہ کی بنیاد رکھی گئی‘ خلافت کی ابتداء ہی میں اس کی ہلاکت و بربادی اور عالم اسلام کی بد نصیبی کا سب سے بڑا کام بانی خلافت بنوامیہ یعنی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ پیدا ہوا کہ انہوں نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا‘ یہ ولی عہدی کی وبا ایسی شروع ہوئی کہ اس نے آج تک مسلمانوں کا پیچھا نہیں چھوڑا‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اسی عمل کا نتیجہ تھا کہ وہ خوش گوار اور نافع نوع انسانی جمہوریت جو اسلام نے قائم کی تھی ضائع ہو کر اس کی جگہ خاندانوں کی حکومتیں جو نوع انسان کے لیے ایک لعنت ہیں‘ برباد ہونے کے بعد دوبارہ قائم ہو گئیں۔ خاندان بنو امیہ میں سیدنا امیر معاویہ ضض‘ عبدالملک بن مروان‘ ولید بن عبدالملک‘ تین خلیفہ اپنی فتوحات ملکی اور قابلیت ملک داری کے اعتبار سے ممتاز حیثیت رکھتے ہیں‘ ان کے بعد سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی اس خاندان میں بالکل ایک نرالی قسم کے خلیفہ تھے‘ ان کی خلافت بالکل خلافت راشدہ کے اولین زمانے کا نمونہ تھی‘ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی پر چونکہ مذہبیت اور للہیت غالب تھی لہٰذا وہ کسی پہلومیں بھی کسی اموی خلیفہ کے مشابہ نہیں کہے جا سکتے‘ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کی خلافت کا زمانہ اگرچہ بہت ہی تھوڑا زمانہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی خلافت نے خلافت بنو امیہ کے مرتبہ کو بلند کر دیا ہے اور باوجود ہر قسم کی اعتراض اور قابل ملامت حرکات کے خلافت بنوامیہ کو محض سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کی وجہ سے قابل فخر خلافت کہا جا سکتا ہے‘ ان کے بعد ہشام بن عبدالملک بھی ایک ایسا خلیفہ گزرا ہے جس کو اول الذکر تین خلیفوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ہشام بن عبدالملک کے بعد پورے دس برس بھی گزرنے نہ پائے تھے کہ خلافت بنوامیہ کا عالی شان قصر منہدم ہو کر زمین کے برابر ہو چکا تھا اور اس کی بنیادیں بھی اکھیڑ کر پھینک دی گئی تھیں‘ جن پانچ خلیفوں کے نام اوپر لیے گئے ہیں ان کے علاوہ سب کے سب عیش پرست‘ پست ہمت‘ تن آسان اور عقل و بصیرت سے نا آشنا تھے اور ہرگز اس قابل نہ تھے کہ کسی ایسی بڑی شہنشاہی کے فرماں روا ہوں جیسی کہ خلافت بنوامیہ تھی‘ اسلام نے آکر موسیقی اور شراب نوشی کو مٹا دیا تھا لیکن انہیں خلفاء بنوامیہ نے ان دونوں پلید اور مضر چیزوں کو پھر رواج دیا ‘ جن کا سلسلہ آج تک بھی مسلمانوں میں موجود پایا جاتا ہے۔ (۲)بنوامیہ کے جرموں کی فہرست میں ایک یہ جرم بھی قابل تذکرہ ہے کہ اسلام نے خاندانوں اور قبیلوں کی تفریق و امتیاز کو مٹا کر سب کی ایک ہی برادری اور ایک ہی قبیلہ بنا دیا تھا‘ بنوامیہ نے قبیلوں کی عصبیت اور امتیاز کو ازسرنو پھر زندہ کر دیا اور حمیت الجاہلیتہ کو پھر واپس بلانے کے سامان فراہم کر دیئے‘ انہوں نے عربوں کے فراموش شدہ سبق کو پھر یاد دلایا اور مسلمان قوم و قبیلے کو اسلامی اخوت پر ترجیح دینے لگے‘ جس چیز کو بنو امیہ نے دوبارہ پیدا کیا‘ بالآخر وہی چیز ان کی بربادی کا باعث ہوئی‘ یعنی علویوں اور عباسیوں نے اسی خاندانی امتیاز کو آلہ کار بنا کر بنوامیہ کی بربادی کے سامان فراہم کئے۔ (۳)بنوامیہ نے اپنی حکومت و خلافت کے قیام و استحکام کے لیے ظلم و تشدد اور لوگوں کے قتل کرنے میں دریغ و تامل نہیں کیا‘ خلفاء بنوامیہ کے سب سے زیادہ نامور اور کار گزار اہل کار و صوبہ دار وہی تھے جو سب سے زیادہ لوگوں کو بلا دریغ قتل کرنے اور سختی سے کام لینے والے تھے‘ بنوامیہ کو ظلم و تشدد کا طرز عمل مجبوراً اپنی حکومت قائم رکھنے کے لیے اختیار کرنا پڑا تھا‘ لیکن آخر میں یہی طرز عمل ان کی بربادی کا باعث ثابت ہوا‘ کیونکہ رعایا کے دلوں سے ان کی حمایت و ہمدردی مسلسل خوف و دہشت کے جاری رہنے سے جاتی رہی تھی۔ (۴)بنوامیہ اس میں شک نہیں کہ قبائل قریش اور ملک عرب میں ایک نامور اور سردار قبیلہ تھا‘ اس قبیلے میں اکثر ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جو تدبیر و رائے میں اپنے ہم عصروں پر فوقیت رکھتے تھے اور حکومت و ملک داری کے اصولوں سے واقف تھے‘ یہ خصوصیتیں اس قبیلہ کو عہد جاہلیت میں بھی حاصل تھیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ بنوامیہ کے گھروں میں کوئی نالائق پیدا ہی نہیں ہو سکتا تھا‘ اگر بنوامیہ میں ولی عہدی کی رسم جاری نہ ہوتی اور خواہ خلیفہ کا انتخاب صرف قبیلہ بنوامیہ میں محدود کر دیا جاتا یعنی مسلمان اپنی مرضی اور کثرت رائے سے بنوامیہ کے کسی قابل و لائق ترین شخص کو خلافت کے لیے منتخب کر لیا کرتے‘ تب بھی اگرچہ بڑی بے انصافی اور غلطی ہوتی‘ تاہم خلافت بنوامیہ کی یہ حالت نہ ہوتی اور عالم اسلام کو اتنا بڑا نقصان نہ پہنچتا جو پہنچا‘ اس طرح ممکن تھا کہ خلافت بنوامیہ کی عمر بہت زیادہ طویل ہوتی اور وہ شکائتیں جو خلافت بنوامیہ سے پیدا ہوئیں‘ شاید پیدا نہ ہوتیں۔ (۵)خفیہ تدبیروں‘ سازشوں اور چالاکیوں میں بنوامیہ کو عرب کے دوسرے قبائل پر فضیلت حاصل تھی اور ان کی خلافت کا قیام انہیں چیزوں سے امداد حاصل کرنے کا نتیجہ تھا‘ لیکن تعجب ہے کہ انہیں چیزوں کے ذریعہ ہاشمیوں نے ان کو مغلوب کیا حالانکہ ہاشمی ان چیزوں میں ان کے شاگرد تھے‘ اس کا سبب بجز اس کے اور کچھ نہ تھا کہ دولت و حکومت کے مردم افگن نشے نے ان کو جاہل و غافل بنا دیا تھا اور ولی عہدی کی رسم بد نے اس جہالت و غفلت کو اور بھی بڑھا دیا تھا۔ (۶)مذکورہ بالا باتوں کے علاوہ بنوامیہ کی خلافت میں بعض ایسی خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں جو ان کے بعد بہت ہی کم دیکھی گئیں اور ان کے جانشینوں کو نصیب نہ ہوئیں‘ مثلاً خلافت بنوامیہ نے خلافت راشدہ کی فتوحات کو وسعت دے کر مشرق و مغرب میں دور دور تک پھیلا دیا‘ مشرق میں چین اور مغرب میں بحر ظلمات تک انہوں نے گویا اپنے زمانے کی تمام متمدن دنیا کو فتح کر ڈالا‘ انہیں کے زمانہ میں سمندروں کے دور دراز جزیروں‘ براعظم افریقہ کے ریگستانوں اور ہندوستان کے میدانوں تک اسلام پہنچا‘ خلافت بنوامیہ کے زمانہ میں اسلامی حکومت زیادہ سے زیادہ دنیا میں پھیل چکی تھی اور حکومت اسلامیہ کا ایک مرکز تھا‘ بنوامیہ کے بعد مسلمانوں کو جدید فتوحات ملکی کا بہت ہی کم موقع ملا‘ گویا ملک گیری بنو امیہ پہ ختم ہو گئی‘ اس کے بعد صرف ملک داری باقی رہی‘ بنوامیہ کے بعد اسلامی حکومت کا مرکز بھی ایک نہیں رہا بلکہ ایک سے زیادہ الگ الگ حکومتیں قائم ہونے لگیں جن میں خلافت عباسیہ سب سے بڑی حکومت تھی۔ (۷)بنوامیہ کے عہد خلافت میں عربوں کی حیثیت ایک فاتح قوم کی رہی‘ عربی اخلاق‘ عربی زبان‘ عربی تمدن‘ عربی مراسم سب پر غالب و فائق تھے‘ لیکن بنوامیہ کے بعد عجمیوں اور دوسری مفتوح قوموں کو یہ مرتبہ حاصل ہونے لگا کہ وہ عربوں پر حکومت کریں اور عربوں کی کسی فضیلت و خصوصیت میں فاتحانہ عظمت کو تسلیم نہ کریں۔ (۸)عہد بنوامیہ میں اگرچہ خارجی‘ شیعہ اور بعض دوسرے گروہ پیدا ہو گئے تھے لیکن سب کا عمود مذہب اور مداراستدلال قرآن و حدیث کے سوا اور کچھ نہ تھا‘ کتاب و سنت کے سوا کسی تیسری چیز کو قاضی نہ سمجھتے تھے‘ لیکن بعد میں ایسے بہت سے فرقے مسلمانوں میں پیدا ہونے لگے جنہوں نے کتاب و سنت کو پس پشت ڈال کر اپنے پیروں‘ مرشدوں‘ اماموں اور صاحب گروہ علماء کے اقوال و اجتہاد کی پیروی کو کافی سمجھا‘ یہی وجہ تھی کہ خلافت بنوامیہ کے زمانہ میں مسلمانوں کی تمام تر توجہ قرآن مجید اور سنت رسول اللہ کی طرف منعطف رہی اس کے بعد قرآن مجید کی طرف سے مسلمانوں نے کم التفاتی و غفلت کا برتائو شروع کیا اور یہ نحوست یہاں تک ترقی پزیر ہوئی کہ آج ہمارے زمانہ میں ایک واعظ اور ایک فارغ التحصیل مولوی کے لیے بھی یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ وہ قرآن مجید کو ترتیل و تدبر کے ساتھ پڑھ اور سمجھ چکا ہو۔ (۹)خلافت راشدہ میں اعلیٰ درجہ کی کامیابی اور فتح یہ سمجھی جاتی تھی کہ لوگ شرک و گمراہی سے نجات پاکر توحید اور عبادت الہٰی کی طرف متوجہ ہو جائیں اور مذہب اسلام لوگوں کا دستورالعمل زندگی بن جائے‘ مال و دولت اور مادی شان و شوکت کی کوئی قدر و قیمت اور عزت و وقعت نہ تھی‘ لیکن خلافت بنوامیہ میں مال و دولت اور شان و شوکت کو کامیابی سمجھا جانے لگا اور بیت المال کا روپیہ ان لوگوں کے لیے زیادہ صرف ہونے لگا‘ جو خلافت و سلطنت یعنی خاندان بنی امیہ کے لیے موجب تقویت اور مفید ثابت ہو سکتے تھے جن لوگوں سے بنوامیہ کو کسی امداد و اعانت کی توقع نہ ہوتی تھی یا جن کا خوش رکھنا وہ اپنے لیے ضروری نہ سمجھتے تھے‘ ان کی طرف سے بے التفاتی برتی جاتی تھی اور ان کے حقوق ان کو نہ ملتے تھے‘ یہ رسم بد بعد کی خلافتوں میں اور بھی زیادہ ترقی کر گئی تھی‘ اسی نسبت سے عام طور پر مسلمانوں میں اغراض پرستی اور باہمی رقابت بڑھتی چلی گئی (۱۰) ابتدائے اسلام اور خلافت راشدہ کے زمانہ میں مسلمانوں کی زندگی نہایت سادہ اور ان کی ضروریات زندگی بہت ہی محدود تھیں‘ عہد بنوامیہ میں سامان عیش کا استعمال شروع ہوا اور وہ سپاہیانہ انداز جو پہلے موجب فخر تھا بتدریج مٹتے مٹتے بالکل دور ہونے لگا‘ خوبصورت لباس‘ پرتکلف مکانات اور زیب و زینت کے سامان ضروریات زندگی میں داخل ہونے لگے اور اسی نسبت سے مسلمانوں کے اندر صدیق و فاروق اور خالد و ضرار رضی اللہ عنہ کے نمونے کم نظر آنے لگے۔