مروان بن محمد بن مروان بن حکم

ابومسلم خراسانی

ابومسلم کا نام ابراہیم بن عثمان بن بشار تھا‘ یہ ایرانی النسل تھا اور مشہور ہے کہ برز جمہر کی اولاد سے تھا‘ اصفہان میں پیدا ہوا تھا ماں باپ نے کوفہ کے متصل ایک گائوں میں آکر سکونت اختیار کرلی تھی‘ جس وقت ابومسلم کا باپ عثمان فوت ہوا تھا تو ابومسلم کی عمر سات برس کی تھی‘ اس کا باپ مرتے وقت وصیت کر گیا تھا کہ عیسیٰ بن موسیٰ بن سراج اس کی پرورش اور تربیت کرے‘ عیسیٰ اس کو کوفہ میں لے آیا‘ ابومسلم جامہ دوزی کا کام عیسیٰ سے سیکھتا تھا اور اسی کے پاس کوفہ میں رہتا تھا۔ عیسیٰ بن موسیٰ اپنے زین اور چار جامے لیکر خراسان‘ جزیرہ اور موصل کے علاقوں میں فروخت کرنے کے لیے جاتا تھا‘ اور اس تقریب سے اکثر سفر میں رہتا اور ہر طبقہ کے آدمیوں سے ملتا تھا‘ اور اس کی نسبت یہ شبہ ہوا کہ یہ بھی بنوہاشم اور علویوں کا نقیب ہے‘ اسی طرح اس کے خاندان کے دوسرے آدمیوں پر شبہ کیا گیا‘ نتیجہ یہ ہوا کہ یوسف بن عمر گورنر کوفہ نے عیسیٰ بن موسیٰ اور اس کے چچازاد بھائی ادریس بن معقل اور ان دونوں کے چچا عاصم بن یونس عجلی کو قید کر دیا‘ اسی قیدخانہ میں خالد قسری کے گرفتار شدہ عمال بھی قید تھے۔ ابومسلم قیدخانہ میں عیسیٰ بن موسیٰ کی وجہ سے اکثر جاتا جہاں تمام قیدی وہ تھے جن کو حکومت بنوامیہ سے نفرت تھی یا قید ہونے کے بعد لازماً نفرت پیدا ہو جانی چاہئے تھی‘ ان ہی میں بعض ایسے قیدی بھی تھے جو واقعی بنوعباس یا بنو فاطمہ کے نقیب تھے‘ لہٰذا ان لوگوں کی باتیں سن کر ابومسلم کے قلب پر بہت اثر ہوا اور وہ بہت جلد ان لوگوں کا ہمدرد بن کر ان کی نگاہوں میں اپنا اعتبار قائم کر سکا‘ اتفاقاً قحطبہ بن شبیب جو امام ابراہیم کی طرف سے خراسان میں کام کرتا اور لوگوں کو خلافت عباسیہ کے لیے دعوت دیتا تھا خراسان سے حمیمہ کی طرف جا رہا تھا‘ راستے میں کوفہ کے ان قیدیوں سے بھی ملا‘ یہاں اسے معلوم ہوا کہ عیسیٰ و عاصم وغیرہ کا خادم ابومسلم بہت ہوشیار اور جوہر قابل ہے‘ اس نے عیسیٰ سے ابومسلم کو مانگ لیا اور اپنے ساتھ لے کر حمیمہ کی طرف روانہ ہو گیا‘ وہاں امام ابراہیم رحمہ اللہ تعالی کی خدمت میں ابومسلم کو پیش کیا‘ امام ابراہیم نے ابومسلم سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے‘ ابومسلم نے کہا کہ میرا نام ابراہیم بن عثمان بن بشار ہے‘ امام ابراہیم نے کہا نہیں تمہارا نام عبدالرحمن ہے‘ چنانچہ اس روز سے ابومسلم کا نام عبدالرحمن ہو گیا‘ امام ابراہیم ہی نے اس کی کنیت ابومسلم رکھی اور قحطبہ بن شبیب سے مانگ لیا۔ چند روز تک ابومسلم امام ابراہیم کی خدمت میں رہا اور انہوں نے اچھی طرح ابومسلم کی فطرت و استعداد کا مطالعہ کیا‘ اس کے بعد اپنے مشہور نقیب ابونجم عمران بن اسماعیل کی لڑکی سے اس کا عقد کر دیا‘ ابونجم عمران بن اسماعیل ان لوگوں میں سے تھا‘ جو خلافت اسلامیہ کو اولاد علی میں لانا چاھتے تھے‘ اس عقد سے یہ فائدہ حاصل کرنا مقصود تھا کہ ابومسلم کو شیعان علی کی حمایت حاصل رہے اور اس کی طاقت کمزور نہ ہونے پائے‘ اس انتظام و اہتمام کے بعد امام ابراہیم نے ابومسلم کو خراسان کی طرف روانہ کیا اور تمام دعاۃ و نقباء کو اطلاع دی کہ ہم ابومسلم کو خراسان کے تمام علاقے کا مہتمم بنا کر روانہ کیا ہے‘ سب کو دعوت بنوہاشم کے کام میں ابومسلم کی فرماں برداری کرنی چاہئے۔ خراسان کے مشہور اور کار گزار نقباء جو محمد بن علی عباسی یعنی امام ابراہیم کے باپ کے زمانہ سے کام کر رہے تھے یہ تھے‘سلیمان بن کثیر‘ مالک بن ہیثم‘ زیاد بن صالح‘ طلحہ بن زریق‘ عمر بن اعین یہ پانچوں شخص قبیلہ خزاعہ کے تھے قحطبہ بن شبیب بن خالد بن سعدان یہ قبیلہ طے سے تعلق رکھتا تھا‘ ابوعینیہ‘ موسیٰ بن کعب لاہز بن قریط‘ قاسم بن مجاشع‘ اسلم بن سلام یہ چاروں تمیمی تھے‘ ابودائود خالد بن ابراہیم شیبانی ابوعلی ہردی (اسی کو شبل بن طہمان بھی کہتے تھے) اور ابوالنجم عمران بن اسماعیل۔ جب ابومسلم خراسان میں پہنچا تو سلیمان بن کثیر نے اسکو نوعمر ہونے کی وجہ سے واپس کر دیا یہ تمام نقباس رسیدہ اور پختہ عمر کے تجربہ کار لوگ تھے‘ انہوں نے ایک نوعمر شخص کو اپنی خفیہ کاروائیوں اور رازداری کے خفیہ… کاموں کا افسر و مہتمم بنانا خلاف مصلحت سمجھا۔ جس وقت ابومسلم خراسان پہنچا تھا اس وقت ابو دائود خالد بن ابراہیم شیبانی ماوراء النہر کی طرف کسی ضرورت سے گیا ہوا تھا‘ وہ جب مرو میں واپس آیا اور امام ابراہیم کا خط اس نے پڑھا تو ابومسلم کو دریافت کیا اس کے دوستوں نے کہا کہ سلیمان بن کثیر نے اس کو نوعمر ہونے کی وجہ سے واپس لوٹا دیا ہے کہ اس سے کوئی کام نہ ہو سکے گا اور یہ ہم سب کو اور ان لوگوں کو جنہیں دعوت دی جاتی ہے خطرات میں مبتلا کر دے گا‘ ابودائود نے تمام نقباء کو جمع کر کے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خدائے تعالیٰ نے اولین و آخرین کا علم دیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی عترت واہل بیت اس علم کے وارث ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بیت معدن علوم اور ورثاء رسول ہیں‘ کیا تم لوگوں کو اس میں کچھ شک ہے‘ حاضرین نے کہا نہیں‘ ابودائود نے کہا تم نے کیوں شک وشبہ کو دخل دیا‘ اس شخص کو امام نے کچھ سوچ سمجھ کر اور اس کی قابلیت کو جانچ کر ہی تمہاری طرف بھیجا ہو گا‘ اس تقریر کو سن کر سب کو ابومسلم کے واپس کرنے کا افسوس ہوا‘ اسی وقت آدمی روانہ کیا گیا وہ ابومسلم کو راستے سے لوٹا کر واپس لایا سب نے اپنے تمام کاموں کا متولی‘ مہتمم ابومسلم کو بنا دیا اور بخوشی اس کی اطاعت کرنے لگے چونکہ سلیمان بن کثیر نے اول اس کو واپس کر دیا تھا اس لیے ابومسلم سلیمان بن کثیر کی طرف سے کچھ کبیدہ خاطر ہی رہتا تھا۔۱۲۹ھ میں امام ابراہیم نے نقباء کو ہر طرف شہروں میں پھیلا دیا اور ابومسلم کو لکھ بھیجا کہ اس سال موسم حج میں مجھ سے آکر مل جائو‘ تاکہ تم کو تبلیغ دعوت کے متعلق مناسب احکام دیئے جائیں‘ یہ بھی لکھا کہ قحطبہ بن شبیب کو بھی اپنے ہمراہ لیتے آئو‘ اور جس قدر مال واسباب اس کے پاس جمع ہو گیا ہے وہ بھی لیتا آئے‘ اس جگہ یہ تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان خفیہ سازشوں کے لیے ایام حج بہترین موقعہ تھا‘ مکۂ معظمہ میں حج کے لیے دنیا کے ہر حصہ سے لوگ آتے تھے‘ کسی کو کسی کے آنے پر کوئی شبہ کا موقعہ نہ ملتا تھا اور سازشی لوگ بہ آسانی آپس میں مل کر ہر قسم کی گفتگو کر لیتے تھے‘ اور حج کے موقعہ کو کبھی فوت نہ ہونے دیتے تھے۔ چنانچہ ابومسلم اور نقباء کو بھی ہمراہ لے کر معہ قحطبہ بن شبیب امام سے ملنے کی غرض سے مکہ کی جانب روانہ ہوا‘ مقام قومس میں پہنچا تو امام ابراہیم کا خط ملا جس میں لکھا تھا‘ کہ تم فوراً خراسان کی طرف واپس ہو جائو‘ اور اگر خراسان سے روانہ نہ ہوئے ہو تو وہیں مقیم رہو اور اب اپنی دعوت کو پوشیدہ نہ رکھو بلکہ اعلانیہ دعوت دینی شروع کر دو‘ اور جن لوگوں سے بیعت لے چکے ہو ان کو جمع کر کے قوت کا استعمال شروع کر دو‘ اس خط کو پڑھتے ہی ابومسلم تو مرو کی جانب لوٹ گیا اور قحطبہ بن شبیب مال و اسباب لیے ہوئے امام ابراہیم کی جانب روانہ ہوا‘ قحطبہ نے جرجان کا راستہ اختیار کیا‘ اطراف جرجان میں پہنچ کر خالد بن برمک اور ابوعون کو طلب کیا‘ یہ لوگ معہ مال و اسباب فوراً حاضر ہوئے‘ قحطبہ اس مال و اسباب کو بھی لے کر امام کی طرف چلا۔ جب ابومسلم کو اعلانیہ دعوت اور طاقت کے استعمال کی اجازت ملی تو یہ وہ زمانہ تھا کہ خراسان میں کرمانی اور نصر بن سیار کی لڑائیوں کا سلسلہ جاری تھا‘ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے‘ ابومسلم نے اپنی جماعت کے لوگوں کو فراہم کیا اور ان کو لیکر کرمانی اور نصر بن سیار کے درمیان خیمہ زن ہوا‘ اور بالآخر کرمانی قتل ہوا تو اس کا لڑکا علی بن کرمانی ابومسلم کے پاس آگیا اور ابومسلم نے نصر کو مرو سے خارج کر کے قبضہ کر لیا‘ مگر چند روز قیام کے بعد مرو سے خراسان کی جانب چلا آیا‘ نصر بن سیار نے مروان بن محمد خلیفہ دمشق کو امداد کے لیے خط لکھا تھا مروان بن محمد ان دنوں ضحاک بن قیس خارجی سے مصروف جنگ تھا‘ وہ کوئی مدد نصر کے پاس نہیں بھیج سکا تھا‘ جن دنوں نصر کی عرض داشت مروان کے پاس پہنچی‘ ان ہی دنوں امام ابراہیم کا خط جو ابو مسلم کے نام انہوں نے روانہ کیا تھا اور جس میں لکھا تھا کہ خراسان میں عربی زبان بولنے والوں کو زندہ نہ چھوڑنا اور نصرو کرمانی دونوں کا خاتمہ کر دینا‘ پکڑا گیا‘ اور الحمار کی خدمت میں پیش ہوا‘ یہی پہلا موقعہ تھا کہ بنوامیہ کو عباسیوں کی سازش کا حال معلوم ہوا‘ مروان نے علاقۂ بلقاء کے عامل کو لکھا کہ امام ابراہیم کو حمیمہ میں جاکر گرفتار کر لو‘ چنانچہ امام ابراہیم گرفتار ہو کر آئے اور مروان نے ان کو قید کر دیا‘ جیساکہ اوپر ذکر آچکا ہے۔ ابومسلم نے خراسان میں جب اعلانیہ دعوت و تبلیغ شروع کی ہے تو خراسان کے لوگ جوق در جوق اس کے پاس آنے لگے۔ ۱۳۰ ھ کے شروع ہوتے ہی ابومسلم نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی اور اہل بیت نبوی کی اطاعت و فرماں برداری پر لوگوں سے بیعت لینی شروع کر دی‘ کرمانی‘ شیبان خارجی اور نصر بن سیار تینوں ابومسلم کے اس بیعت لینے اور لوگوں کے فراہم کرنے سے ناراض تھے‘ لیکن وہ اس طرح اپنی لڑائیوں میں مصروف تھے کہ ابومسلم کا کچھ نہ بگاڑ سکے‘ قتل کرمانی کے بعد علی بن کرمانی اپنے باپ کی جماعت کا سردار تھا‘ ادھر ابومسلم بھی کافی طاقت حاصل کر چکا تھا‘ نصر بن سیار اور شیبان خارجی بھی اسی درجہ کی طاقت رکھتے تھے‘ اب خراسان میں یہی چار طاقتیں موجود تھیں۔ ابومسلم نے شیبان خارجی کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور ابن کرمانی کو اس کے پاس جانے کی تحریک کی‘ علی بن کرمانی شیبان خارجی کے پاس چلا گیا‘ نصر بن سیار نے شیبان خارجی سے صلح کرنی چاہی تاکہ وہ مطمئن ہو کر ابومسلم سے دو دو ہاتھ کرے‘ لیکن ابومسلم نے علی بن کرمانی کے ذریعہ ایسی کوشش کی کہ دونوں کی صلح نہ ہو سکے‘ جب ان دونوں کی صلح نہ ہوئی تو ابومسلم نے موقع مناسب دیکھ کر نصر بن نعیم کو ایک جمعیت کے ساتھ ہرات کی طرف روانہ کر دیا۔نصر بن نعیم نے ہرات پہنچ کر بحالت غفلت ہرات پر قبضہ کر لیا اور نصر بن سیار کے عامل عیسیٰ بن عقیل بن معقل قریشی کو ہرات سے نکال دیا‘ یحییٰ ابن نعیم بن ہبیرہ شیبانی یہ سن کر ابن کرمانی کے پاس آیا اور کہا کہ تم نصر سے صلح کر لو‘ اگر تم نے نصر سے صلح کر لی تو ابومسلم فوراً نصر کے مقابلہ پر آمادہ ہو جائے گا اور تم سے کوئی تعرض نہ کرے گا‘ اور اگر تم نے نصر سے صلح نہ کی تو ابومسلم نصر سے صلح کر کے تمہارے مقابلہ پر مستعد ہو گا‘ شیبانی نے فوراً نصر کو لکھا کہ ہم تم سے صلح کرنا چاہتے ہیں‘ نصر فوراً صلح پر آمادہ ہو گیا کیونکہ اس کی پہلے ہی سے یہ خواہش تھی۔ ابومسلم نے فوراً علی بن کرمانی کو جو شیبان خارجی کا شریک تھا توجہ دلائی کہ نصر بن سیار تمہارے باپ کا قاتل ہے‘ علی بن کرمانی یہ سنتے ہی شیبان خارجی سے جدا ہو گیا اور اس کے ساتھ لڑائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا‘ ابومسلم ابن کرمانی کی مدد کے لیے پہنچا ادھر نصر بن سیار شیبان خارجی کی طرف سے آمادۂ پیکار ہوا‘ یہ بھی عجیب زمانہ تھا‘ لڑنے والے چاروں گروہ مختلف الخیال اور مختلف العقیدہ تھے مگر موقع اور وقت کی مناسبت سے ہر ایک دوسرے کو اپنے ساتھ ملا کر تیسرے کو فنا کرنے کی تدبیروں میں مصروف تھا‘ خالص شیعان علی بھی خراسان میں بکثرت تھے‘ وہ بھی سب ابومسلم کے شریک تھے۔ عبداللہ بن معاویہ بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب نے کوفہ میں لوگوں سے بیعت خلافت لی تھی‘ مگر عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز کے غالب ہو جانے پر وہ مدائن کی طرف چلے گئے تھے‘ ان کے ساتھ کوفہ کے بھی کچھ لوگ آئے تھے‘ پھر انہوں نے پہاڑی علاقے کا رخ کیا اور اس پر قابض ہو کر حلوان‘ قومس‘ اصفہان اور رے پر قابض ہوئے‘ اصفہان کو اپنی قیام گاہ بنایا‘ ۱۲۸ھ میں شیراز پر قبضہ کیا‘جب یزید بن عمر بن ہبیرہ عراق کا گورنر مقرر ہو کر آیا تو اس نے عبداللہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کو لشکر روانہ کیا‘ اصطخر کے قریب جنگ ہوئی‘ عبداللہ بن معاویہ کو شکست ہوئی‘ ان کے بہت سے ہمراہی مارے گئے‘ منصور بن جمہور سندھ کی طرف بھاگ گیا‘ اس کا تعاقب کیا گیا لیکن وہ ہاتھ نہ آیا‘ عبداللہ بن معاویہ کے ہمرائیوں سے جو لوگ گرفتار ہوگئے ان میں عبداللہ بن علی بن عبداللہ بن عباس بھی تھا‘ جس کو یزید بن عمر گورنر کوفہ نے رہا کر دیا‘ عبداللہ بن معاویہ فرار ہو کر ابومسلم کی طرف چلے کیونکہ اس سے امداد کی توقع تھی کہ وہ اہل بیت کا ہوا خواہ ہے‘ لیکن وہ شیراز سے کرمان اور وہاں سے اول ہرات پہنچے‘ ہرات میں ابومسلم کے عامل نصر بن نعیم نے ان کو ٹھہرا کر ابومسلم کو ان کے آنے کی اطلاع دی‘ ابومسلم نے لکھ بھیجا کہ عبداللہ بن معاویہ کو قتل کر دو اور ان کے دونوں بھائیوں حسن و یزید کو رہا کر دو۔ چنانچہ نصر بن نعیم نے اس حکم کی تعمیل کر دی۔ ۱۳۰ ھ کے شروع ہوتے ہی خراسان میں مذکورہ بالا چاروں طاقتیں ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں‘ آخر علی بن کرمانی اور ابومسلم نے نصر بن سیار اور شیبان خارجی کو شکست دیکر مرو پر مستقل قبضہ کر لیا‘ ابومسلم نے مرو کے دارالامارۃ میں جا کر لوگوں سے بیعت لی اور خطبہ دیا‘ نصر مرو سے شکست خوردہ سرخس اور طوس ہوتا ہوا نیشاپور میں آکر مقیم ہوا‘ اور علی بن کرمانی ابومسلم کے ساتھ ساتھ رہنے لگا اور ہاں میں ہاں ملاتا رہا‘ شیبان خارجی جو مرو کے قریب ہی شکست خوردہ قیام پذیر تھا اس کے پاس ابومسلم نے پیغام بھیجا کہ تم بیعت کر لو‘ اس نے جواب میں کہلا بھجوایا کہ تم ہی میری بیعت کر لو‘ اس کے بعد شیبان خارجی سرخس چلا گیا اور ایک گروہ بکر بن وائل کا اپنے گرد جمع کر لیا‘ یہ سن کر ابومسلم نے ایک دستہ فوج سرخس کی طرف روانہ کیا‘ وہاں لڑائی ہوئی اور شیبان خارجی مارا گیا۔ اس کے بعد ابومسلم نے اپنے نقیبوں میں سے موسیٰ بن کعب کو ابیورو کی طرف اور ابودائود خالد بن ابراہیم کو بلخ کی جانب بھیجا‘ دونوں کو کامیابی ہوئی‘ ابیورو اور بلخ پر جب قبضہ ہو گیا تو ابومسلم نے ابو دائود کو تو بلا بھیجا‘ اور یحییٰ بن نعیم کو بلخ کا حاکم مقرر کر کے بھیج دیا۔ زیاد بن عبدالرحمن قسری نے جو حکومت بنو امیہ کی طرف سے بلخ کا عامل تھا اور ابودائود سے شکست کھا کر ترمذ چلا گیا تھا۔ یحییٰ ابن نعیم سے خط و کتابت کر کے اس کو اپنا ہم خیال بنا لیا‘ اور مسلم بن عبدالرحمن باہلی اور عیسیٰ بن زرہ سلمیٰ‘ ملوک طخارستان ‘ ملوک ماوراء النہر اور اہل بلخ و اہل ترمذ سب کو مجتمع کر کے اور یحییٰ بن نعیم کو معہ اس کے ہمراہیوں کے ہمراہ لے کر ابومسلم کی جنگ کے لیے روانہ ہوئے‘ سب نے متفق ہو کر سیاہ پھریرے والوں (دعاۃ بنوعباس) سے لڑنے کی قسمیں کھائیں‘ اور مقاتل بن حیان نبطی کو اپنا شریک لشکر بنایا۔ ابومسلم نے یہ کیفیت سن کر ابو دائود کو دوبارہ بلخ کی جانب روانہ کیا‘بلخ سے تھوڑے فاصلہ پر فریقین کا مقابلہ دریا کے کنارے ہوا‘ مقابل بن حیان نبطی کے ساتھ سردار ابوسعید قرشی تھا‘ ساقہ فوج کا پچھلا حصہ ہوتا ہے‘ اس حصہ کو مسلح اور زبردست اس لیے رکھا تھا کہ کہیں حریف دھوکہ دے کر پیچھے سے حملہ نہ کرے‘ جب لڑائی خوب زور شور سے شروع ہو گئی تو ابوسعید قرشی نے بھی اپنی متعلقہ فوج سے دشمنوں کا مقابلہ کرنا اور ان کو مار کر پیچھے بھگانا ضروری سمجھا‘ اتفاقاً ابوسعید کا جھنڈا بھی سیاہ تھا‘ وہ جب اپنی فوج لے کر متحرک ہوا تو لڑنے والے اگلی صفوں کے لوگ یہ بھول گئے کہ ہمارا بھی ایک جھنڈا سیاہ ہے‘ وہ ابوسعید کے جھنڈے کو دیکھتے ہی یہ سمجھے کہ دشمنوں کی فوج نے پیچھے سے ہم پر زبردست حملہ کیا ہے اور یہ ان ہی کی فوج فاتحانہ پیچھے سے بڑھتی چلی آتی ہے‘ چنانچہ ان کے ہاتھ پائوں پھول گئے اور میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے‘ بہت سے دریا میں غرق ہو کر ہلاک ہوئے‘ زیاد و یحییٰ ترمذ کی طرف چلے گئے اور ابودائود نے بلخ پر قبضہ کیا۔ اس فتح کے بعد ابومسلم نے ابودائود کو بلخ سے واپس بلا لیا اور بلخ کی حکومت پر نصر بن صبیح مزنی کو مامور کیا‘ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے علی بن کرمانی ابومسلم کے پاس رہتا تھا اس کے ساتھ اس کا بھائی عثمان بن کرمانی بھی تھا‘ ابودائود نے ابو مسلم کو رائے دی کہ ان دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دینا نہایت ضروری ہے‘ ابو مسلم نے اس رائے کو پسند کر کے عثمان بن کرمانی کو بلخ کی حکومت پر نامزد کر کے بھیج دیا‘ عثمان بن کرمانی نے بلخ پہنچ کر فرافصہ بن ظہیر کو اپنا نائب بنایا اور خود معہ نصر بن صبیح کے مرورود چلا گیا‘ یہ خبر سن کر مسلم بن عبدالرحمن باہلی نے ترمذ سے مصریوں کو ہمراہ لے کر بلخ پر حملہ کیا اور بزور شمشیر اس پر قابض ہو گیا۔ عثمان و نصر کو اس اطلاع ہوئی تو وہ مرورود سے بلخ کی طرف روانہ ہوئے ان کے آنے کی خبر سن کر عبدالرحمن کے ہمراہی راتوں رات بھاگ نکلے‘ نصر نے ایک سمت سے اور عثمان نے دوسری سمت سے بلخ پر حملہ کیا تھا‘ نصر کے ہمراہیوں نے تو بھاگنے والوں سے کوئی تعرض نہ کیا لیکن عثمان بن کرمانی نے لڑائی چھیڑ دی اور خود ہزیمت اٹھا کر بھاگ نکلے اور بہت سے مارے گئے اور بلخ پر قبضہ ہوتے ہوتے رہ گیا‘ یہ خبر سن کر ابومسلم اور ابودائود نے مشورہ کیا‘ ابومسلم تو نیشاپور کی طرف روانہ ہوا اور ابودائود پھر بلخ کی جانب آیا‘ ابومسلم کے ہمراہ علی بن کرمانی تھا‘ ابومسلم نے نیشاپور کے راستے میں علی بن کرمانی کو قتل کیا اور ابودائود نے مشورہ کے موافق بلخ پر قابض ہو کر اور عبدالرحمن کو بلخ سے بھگا کر عثمان بن کرمانی کو قتل کر دیا اس طرح ان دونوں بھائیوں کے خرخشے کو مٹایا‘ اوپر پڑھ چکے ہو کہ امام ابراہیم نے ابومسلم کو اول بلایا تھا‘ پھر اس کو روک دیا تھا کہ اعلانیہ دعوت شروع کر دے‘ ابومسلم نے قحطبہ بن شبیب کو مال و اسباب کے ساتھ روانہ کیا تھا امام ابراہیم سے قحطبہ نے ملاقات کی‘ مال و اسباب پیش کیا‘ امام ابراہیم نے ایک جھنڈا قحطبہ کے ہاتھ روانہ کیا اور مکہ معظمہ سے خراسان کی جانب رخصت کر دیا اور حمیمہ کی طرف چلے آئے‘ یہاں آتے ہی گرفتار ہو کر قید ہوئے‘ قحطبہ یہ جھنڈا لے کر ابومسلم کے پاس آیا اور ابومسلم نے اس جھنڈے کو مقدمۃ الجیش میں رکھا اور قحطبہ بن شبیب کو مقدمۃ الجیش کا سردار بنایا اور ۱۳۰ھ کے ختم ہونے سے پہلے پہلے خراسان کے بڑے حصے پر قابض و متصرف ہو کر ایک ایک دشمن کا قصہ پاک کیا‘ علی بن کرمانی کے قتل سے فارغ ہو کر ابومسلم مرو کی طرف لوٹ آیا اور قحطبہ کو چند سرداران لشکر ابوعون عبدالملک بن یزید‘ خالد بن برمک عثمان بن نہیک اور خازم بن خزیمہ وغیرہ کے ساتھ طوس کی جانب روانہ کیا‘ اہل طوس نے مقابلہ کیا اور شکست کھائی‘ قحطبہ نے بڑی بے دردی سے ان کا قتل عام کیا اس کے بعد قحطبہ نے تمیم بن نصر پر جو مقام سوزقان میں تھا حملہ کی تیاری کی‘ تمیم بن نصر بن معہ تین ہزار ہمراہیوں کے مقتول ہوا‘ قحطبہ نے شہر میں داخل ہو کر قتل عام کیا اور خالد بن برمک کو مال غنیمت کی فراہمی پر مامور کیا‘ اس کے بعد قحطبہ نے نیشاپور کا قصد کیا‘ یہاں نصر بن سیار مقیم تھا‘ وہ نیشاپور سے قومس بھاگ آیا‘ قحطبہ شروع رمضان ۱۳۰ھ میں نیشاپور پر قابض ہوا اور آخر شوال تک نیشاپور میں مقیم رہا‘ نصر بن سیار کی مدد کے لیے یزید بن عمر بن ہبیرہ کے گورنر کوفہ نے نباتہ بن حنظلہ کے ماتحت ایک فوج کوفہ سے بھیجی تھی‘ نصر بن سیار قومس میں بھی زیادہ دنوں نہ ٹھہرا وہاں سے وہ جرجان چلا آیا‘ وہیں نباتہ بن حنظلہ معہ اپنی فوج کے نصر بن سیار کے پاس پہنچا قحطبہ نے شروع ذی قعدہ میں نیشاپور سے جرجان کی جانب کوچ کیا۔ قحطبہ کے ہمراہیوں نے جب یہ سنا کہ نباتہ بن حنظلہ عظیم الشان لشکر شام کے ساتھ جرجان میں پہنچ گیا ہے تو وہ خوفزدہ ہوئے‘ قحطبہ نے ان کو ایک پرجوش خطبہ دیا اور کہا کہ امام ابراہیم نے پیشگوئی کی ہے کہ تم لوگ ایک بڑی فوج کا مقابلہ کر کے اس پر فتح پائو گے‘ اس سے لشکریوں کے دل بڑھ گئے‘ آخر معرکۂ کارزار گرم ہوا‘ نباتہ بن حنظلہ معہ دس ہزار آدمیوں کے مارا گیا‘ قحطبہ کو فتح عظیم حاصل ہوئی‘ اس نے نباتہ بن حنظلہ کا سرکاٹ کر ابومسلم کے پاس بھیج دیا‘ یہ لڑائی شروع ماہ ذی الحجہ ۱۳۰ھ میں ہوئی‘ قحطبہ نے جرجان پر قبضہ کیا تیس ہزار اہل جرجان کو قتل کر ڈالا۔ شکست جرجان کے بعد نصر بن سیار خوارالرائے کی طرف چلا آیا‘ وہاں کا امیر ابوبکر عقیلی تھا‘ یزید بن عمر ہبیرہ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو اس نے ایک بہت بڑا لشکر ابن غعلیف کی سرداری میں نصر بن سیار کی امداد کے لیے روانہ کیا‘ قحطبہ نے جرجان سے اپنے لڑکے حسن بن قحطبہ کو خوارالرائے کی طرف روانہ کیا اور عقب سے ایک لشکر ابو کامل اور ابوالقاسم صحرز بن ابراہیم اور ابوالعباس مروزی کی سرداری میں حسن کی امداد کے لیے روانہ کیا‘ لیکن جب یہ لوگ حسن کے لشکر کے قریب پہنچے تو ابوکامل اپنے ہمراہیوں سے جدا ہو کر نصر سے جا ملا اور اس کو حسن کے لشکر کی نقل و حرکت سے آگاہ کر دیا‘ آخر لڑائی ہوئی اور حسن بن قحطبہ کو شکست فاش حاصل ہوئی‘ نصر نے مال غنیمت اور فتح کا بشارت نامہ یزید بن عمر بن ہبیرہ کے پاس روانہ کیا یہ واقعہ محرم ۱۳۱ھ کا ہے ادہر سے نصر بن سیار کے قاصد مال غنیمت اور فتح کی خوشخبری لیے ہوئے جا رہے تھے‘ ادہر سے ابن غعلیف فوج لیے ہوئے آرہا تھا‘ مقام رے میں دونوں کی ملاقات ہوئی‘ ابن غعلیف نے خط اور مال غنیمت لے لیا اور رے میں قیام کردیا۔ نصر کو یہ خبر سن کر سخت ملال ہوا‘ جب نصر نے خود رے کا قصد کیا تو ابن غعلیف معہ فوج ہمدان کی جانب روانہ ہو گیا مگر ہمدان کو چھوڑ کر اصفہان چلا گیا‘ نصر دو روز تک رے میں مقیم رہا تیسرے روز بیمار ہو گیا‘ بیمار ہوتے ہی رے سے کوچ کر دیا‘ مقام سادہ میں پہنچا تھا کہ ۱۲ربیع الاول ۱۳۱ھ کو فوت ہو گیا اس کے ہمراہی اس کی وفات کے بعد ہمدان چلے گئے۔ رے کا عامل حبیب بن یزید نہشلی تھا‘ نصر کی وفات کے بعد جب قحطبہ بن شبیب جرجان سے فوج لے کر رے کی طرف آیا تو حبیب بن یزید اور اہل شام جو اس کے پاس موجود تھے‘ بلامقابلہ رے چھوڑ کر چل دیئے‘ قحطبہ نے رے پر قبضہ کیا اور اہل رے کے اموال و اسباب ضبط کئے‘ رے کے اکثر مفرور ہمدان چلے گئے۔ قحطبہ نے رے سے ہمدان کی طرف اپنے بیٹے حسن کو روانہ کیا لیکن یہ لوگ ہمدان چھوڑ کر نہاوند کی جانب چلے گئے‘ حسن نے نہاوند پہنچ کر نہایت مضبوطی سے محاصرہ ڈال دیا۔ یزید بن عمر بن ہبیرہ نے ۱۲۹ھ میں اپنے بیٹے دائود بن یزید کو عبداللہ بن معاویہ سے لڑنے کو بھیجا تھا‘ اور دائود بن یزید کرمان تک ان کا مقابلہ کرتا ہوا چلا گیا تھا‘ دائود کے ساتھ عامر بن صبارہ بھی تھا‘ یہ دونوں کرمان میں پچاس ہزار کی جمعیت سے مقیم تھے۔ جب یزید بن عمر بن ہبیرہ کو نباتہ بن حنظلہ کے مارے جانے کا حال معلوم ہوا تو اس نے دائود اور ابن صبارہ کو لکھا کہ تم قحطبہ کے مقابلہ کو بڑھو‘ یہ دونوں پچاس ہزار فوج کے ساتھ کرمان سے روانہ ہوئے اور اصفہان جا پہنچے‘ قحطبہ نے ان کے مقابلہ کے لیے مقاتل بن حکیم کہبعی کو مامور کیا‘ اس نے مقام قم میں قیام کیا۔ ابن صبارہ نے یہ سن کر کہ حسن بن قحطبہ نے نہاوند کا محاصرہ کر رکھا ہے‘ نہاوند کے بچانے کا ارادہ کیا اور اس طرف روانہ ہوا اور مقاتل سے مل کر اور اس کو ہمراہ لے کر ابن صبارہ قحطبہ کے مقابلہ کو روانہ ہوا جب دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا تو قحطبہ کے ہمراہیوں نے ایسی جاں بازی سے حملہ کیا کہ ابن صبارہ کے لشکر کو ہزیمت ہوئی اور وہ خود بھی مارا گیا۔ یہ واقعہ ماہ رجب ۱۳۱ھ کا ہے۔ قحطبہ نے اس فتح کی خوشخبری اپنے بیٹے حسن کے پاس کہلا بھجوائی اور خود اصفہان میں بیس روز قیام کیا‘ پھر حسن کے پاس آکر محاصرہ میں شریک ہو گیا‘ تین مہینے تک اہل نہاوند محاصرہ میں رہے‘ آخر نہاوند فتح ہو گیا اور بہت سے آدمی اہل نہاوند کے قتل کئے گئے‘ اس کے بعد قحطبہ نے حسن کو حلوان کی طرف روانہ کیا‘ حلوان بآسانی قبضہ میں آگیا‘ پھر قحطبہ نے ابوعون عبدالملک بن یزید خراسانی کو شہر زور پر حملہ کرنے کو بھیجا‘ یہاں کا عامل عثمان بن سفیان تھا‘ اس کے مقدمۃالجیش پر عبداللہ بن مروان بن محمد تھا‘ ابوعون اور عثمان کی آخری ذی الحجہ تک لڑائی ہوتی رہی‘ آخر عثمان مارا گیا‘ اس کی فوج کو شکست ہوئی‘ ابو عون عبدالملک نے بلاد موصل پر قبضہ کر لیا۔ جب عامر بن صبارہ مارا گیا تو دائود بن یزید اپنے باپ کے پاس بھاگ آیا‘ دائود بن یزید نے جب یزید بن عمر بن ہبیرہ کو اس شکست کا حال سنایا تو وہ ایک عظیم الشان لشکر لے کر چلا‘ خلیفہ مروان بن محمد نے بھی حوثرہ بن سہیل باہلی کو اس کی کمک کے لیے روانہ کیا‘ یزید بن عمر بن ہبیرہ معہ حوثرہ بن سہیل حلوان پہنچا‘ قحطبہ بھی یہ سن کو حلوان کی طرف چلا اور دجلہ کو انبار کی طرف عبور کیا‘ یزید بن عمر نے بھی کوفہ کی طرف مراجعت کی اور حوثرہ کو پندرہ ہزار کی جمعیت سے آگے کوفہ کی طرف بڑہنے کا حکم دیا‘ قحطبہ نے انبار سے ۸ محرم ۱۳۲ھ کو دریائے فرات عبور کیا۔ اس وقت ابن ہبیرہ دہانۂ فرات پر ۲۳ فرسنگ۱؎ کے فاصلہ پر خیمہ زن تھا‘ ہمراہیوں نے اس کو رائے دی کہ کوفہ چھوڑ کر خراسان کا قصد کیجئے‘ قحطبہ مجبوراً کوفہ کا ارادہ ترک کر کے ہمارے تعاقب میں آئے گا‘ یزید بن عمر نے اس رائے سے اختلاف کر کے دجلہ کو مدائن سے عبور کیا اور دونوں لشکر بقصد کوفہ فرات کے دونوں جانب سفر کرنے لگے‘ فرات کے ایک پایاب مقام پر قحطبہ نے دریا کو عبور کیا‘ سخت لڑائی ہوئی‘ یزید بن عمر بن ہبیرہ کی فوج کو شکست ہوئی مگر قحطبہ بن شبیب بھی مارا گیا‘ قحطبہ جب معن بن زائدہ کے مارنے سے زخمی ہو کر گرا تو اس نے وصیت کی کہ کوفہ میں شیعان علی کی امارت قائم ہونی چاہئے اور ابوسلمہ کو امیر بنانا چاہئے۔ حوثرہ و یزید بن عمر بن ہبیرہ و ابن نباتہ بن حنظلہ واسط کی ۱؎ایک فرسنگ‘ تین میل کے برابر ہوتا ہے۔ طرف بھاگے‘ قحطبہ کی فوج نے حسن بن قحطبہ کو اپنا سردار بنایا‘ اس واقعہ کی خبر کوفہ میں پہنچی تو محمد بن خالد قصر امارت میں داخل ہو کر قابض ہو گیا۔ اس واقعہ کا حال سن کر حوثرہ واسط سے کوفہ کی طرف لوٹا‘ محمد بن خالد قصر امارت میں محصور ہوگیا مگر حوثرہ کے ہمراہیوں نے دعوت عباسیہ کو قبول کر کے حوثرہ سے جدا ہونا شروع کیا‘ وہ مجبوراً واسط کی طرف واپس چلا گیا‘ محمد بن خالد نے اس واقعہ کی اطلاع اور اپنے قصر امارت میں قبضہ ہونے کی اطلاع ابن قحطبہ کو دی‘ حسن بن قحطبہ کوفہ میں داخل ہوا اور محمد بن خالد کو ہمراہ لے کر ابوسلمہ کے پاس حاضر ہوا اور ابوسلمہ کو بطور امیر منتخب کر کے بیعت کی‘ ابوسلمہ نے حسن بن قحطبہ کو ابن ہبیرہ کی جنگ کے لیے واسط کی طرف روانہ کیا اور محمد بن خالد کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا‘ اس کے بعد ابوسلمہ نے حمید بن قحطبہ کو مدائن کی طرف روانہ کیا اہواز میں عبدالرحمن بن عمر بن ہبیرہ امیر تھا‘ اس سے اور بسام سے جنگ ہوئی‘ عبدالرحمن شکست کھا کر بصرہ کی جانب بھاگا‘ بصرہ میں مسلم بن قتیبہ باہلی عامل تھا‘ بسام نے عبدالرحمن کو شکست دے کر بصرہ کی حکومت پر سفیان بن معاویہ بن یزید بن مہلب کو مامور کر کے بھیجا‘ ماہ صفر ۱۳۲ھ میں لڑائی ہوئی اور مسلم نے فتح پائی اور وہ بصرہ پر اس وقت تک قابض رہا جب تک کہ اس کے پاس یزید بن عمر کے مارے جانے کی خبر پہنچی‘ اس خبر کو سن کر وہ بصرہ سے نکل کھڑا ہوا‘ اور میدان خالی پا کر محمد بن جعفر نے خروج کر کے بصرہ پر قبضہ کیا‘ چند روز کے بعد ابومالک عبداللہ بن اسید خزاعی ابومسلم کی طرف سے وارد بصرہ ہوا‘ ابوالعباس سفاح نے اپنی بیعت خلافت کے بعد سفیان بن معاویہ کو بصرہ کا عامل مقرر کیا۔ امام ابراہیم کی وفات کے وقت حمیمہ میں ان کے خاندان کے مندرجہ ذیل حضرات موجود تھے۔ ابوالعباس عبداللہ سفاح‘ ابوجعفر‘ اور عبدالوہاب یہ تینوں امام ابراہیم کے بھائی تھے‘ محمد بن ابراہیم‘ عیسیٰ بن موسیٰ‘ دائود‘ عیسیٰ‘ صالح‘ اسماعیل‘ عبداللہ‘ عبدالصمد۔ یہ آخرالذکر شخص جو امام ابراہیم کے چچا تھے‘ امام ابراہیم نے گرفتاری سے پہلے اپنے بھائی ابوالعباس عبداللہ سفاح کو اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا اور مرتے وقت ابوالعباس عبداللہ سفاح کے لیے وصیت کی تھی کہ کوفہ میں جا کر قیام کریں‘ چنانچہ اس وصیت کے موافق ابوالعباس عبداللہ سفاح معہ مذکورہ بالا اہل خاندان حمیمہ سے روانہ ہو کر کوفہ میں آیا‘ ابوالعباس جب کوفہ میں پہنچا ہے تو یہ زمانہ تھا کہ کوفہ میں ابوسلمہ کی حکومت قائم ہو چکی تھی‘ ابوسلمہ کوفہ میں امام ابراہیم کی طرف سے قائم مقام اور مرکز کوفہ میں تحریک کا مہتمم تھا‘ لیکن اب اس کی تمام تر کوششیں اولاد علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے میں صرف ہونے لگی تھیں‘ قحطبہ بن شبیب بھی اسی خیال کا آدمی تھا‘ لیکن چونکہ ابوہاشم بن محمد نے وصیت کر دی تھی کہ محمد بن علی عباسی کو ان کی جماعت کے تمام آدمی اپنا پیشوا تسلیم کریں اس لیے وہ اس آخری نتیجے کے متعلق کوئی فیصلہ نہ کر سکا تھا۔ جب ابوالعباس کے قریب پہنچنے کی خبر پہنچی تو ابوسلمہ معہ شیعان علی بغرض استقبال حمام اعین تک آیا اور ابوالعباس کو ولید بن سعد کے مکان پر ٹھہرایا اور کل شیعان علی و سپہ سالاران لشکر سے چالیس دن تک اس راز کو پوشیدہ رکھا‘ ابوسلمہ نے چاہا کہ آل ابی طالب میں سے کسی شخص کو خلیفہ منتخب کر کے اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے لیکن ابوجہم نے جو شیعان علی میں سے تھا اس رائے کی مخالفت کی اور کہا کہ کہیں آل ابی طالب خلیفہ سے محروم نہ رہ جائیں اور لوگ ابوالعباس ہی کو خلیفہ تسلیم نہ کر لیں‘ اگر ابوالعباس امام ابراہیم کی وصیت کے موافق کوفہ میں نہ آگیا ہوتا تو بہت زیادہ ممکن تھا کہ ابوسلمہ آل ابوطالب کو خلیفہ بنانے میں کامیاب ہو جاتا۔ ابوسلمہ نہیں چاہتا تھا کہ لوگوں کو ابوالعباس کے آنے کی اطلاع ہو اور وہ اس کی طرف متوجہ ہونے لگیں‘ چنانچہ ابوسلمہ نے اس عرصہ میں امام جعفر صادق بن امام باقر بن امام زین العابدین بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ کوفہ میں آیئے اور خلیفہ بن جایئے‘ انہوں نے جواب میں انکار کیا‘ اتفاقاً لوگوں کو ابوالعباس سفاح کے کوفہ میں آجانے کی اطلاع ہو گئی‘ کوفہ میں اب دو قسم کے لوگ موجود تھے‘ ایک وہ جو آل عباس کی خلافت کے خواہاں تھے‘ دوسرے وہ جو آل ابی طالب کو خلیفہ بنانے کے خواہش مند تھے عباسیوں کے طرف داروں نے سنتے ہی ابوالعباس سفاح کے پاس آنا جانا شروع کیا اور ان کے ساتھ ہی شیعان علی بھی ان کے پاس آنے جانے لگے‘ جب لوگوں کو یہ معلوم ہوا کہ ابوسلمہ حاکم کوفہ نے جو وزیر اہل بیت کے لقب سے مشہور تھا ابوالعباس عبداللہ سفاح کے ساتھ مہمان نوازی کے لوازم و شرائط میں ادائیگی میں کوتاہی کی ہے تو بہت سے شیعان علی بھی عبداللہ سفاح کے ہمدرد و ہوا خواہ بن گئے‘ اور اس طرح ابوالعباس عبداللہ سفاح کی کوفہ کی موجودگی نے لوگوں کی توجہ اور ہمدردی کو اپنی طرف منعطف کر لیا۔ آخر ۱۲؍ ربیع الاول بروز جمعہ ۱۳۲ھ ۳۰؍ اکتوبر ۷۲۹ء کو لوگوں نے مجتمع ہو کر ابوالعباس عبداللہ سفاح کو اس کی جائے قیام سے ہمراہ لیا اور دارالامارۃ میں داخل ہوئے‘ عبداللہ سفاح دارالامارۃ سے جامع مسجد میں آیا‘ خطبہ دیا نماز جمعہ پڑھائی اور نماز جمعہ کے بعد پھر منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا اور لوگوں سے بیعت لی‘ یہ خطبہ نہایت فصیح و نصیح تھا‘ اس میں اپنے آپ کو مستحق خلافت ثابت کیا اور لوگوں کے وظائف بڑھانے کا وعدہ کیا‘ اہل کوفہ کی ستائش کی۔ اس خطبہ کے بعد عبداللہ سفاح کے چچا دائود نے منبر پر چڑھ کر تقریر کی اور بنوعباس کی خلافت کے متعلق مناسب الفاظ بیان کر کے بنوامیہ کی مذمت کی اور لوگوں سے بیان کیا کہ آج امیرالمئومنین عبداللہ سفاح کسی قدر بخار و اعضاء شکنی کی تکلیف میں مبتلا ہیں اس لیے زیادہ بیان نہ کر سکے‘ آپ سب لوگ ان کے لیے دعا کریں۔ اس کے بعد ابوالعباس عبداللہ سفاح قصر امارت کی طرف روانہ ہوا اور اس کا بھائی ابوجعفر منصور مسجد میں بیٹھا ہوا رات تک لوگوں سے بیعت لیتا رہا‘ ابوالعباس عبداللہ سفاح بیعت خلافت لینے کے بعد قصر امارت میں گیا‘ پھر وہاں سے ابوسلمہ کے خیمہ میں جا کر اس سے ملاقات کی‘ ابوسلمہ نے بھی بیعت تو کر لی مگر وہ دل سے اس بیعت اور عباسیوں کی خلافت پر رضا مند نہ تھا۔ عبداللہ سفاح نے مضافات کوفہ کی نیابت اپنے چچا دائود کو دی اور اپنے دوسرے چچا عبداللہ بن علی کو ابوعون کی کمک کے لیے روانہ کیا‘ اور اپنے بھتیجے عیسیٰ بن موسیٰ کو حسن بن قحطبہ کی مدد کے لیے بھیجا جو واسط کا محاصرہ کئے ہوئے پڑا تھا اور ابن ہبیرہ کو محصور کر رکھا تھا‘ اور یمیمی بن جعفر بن تمام بن عباس کو حمید بن قحطبہ کی امداد پر مدائن کی طرف روانہ کیا‘ اسی طرح سرداروں کو ہر طرف متعین و مامور کیا۔ ابومسلم خراسان ہی میں موجود تھا اور وہ خراسان کو جلد از جلد دشمنوں سے صاف کر رہا تھا‘ عبداللہ سفاح کوفہ میں خلیفہ ہو کر ہر ایک اہم معاملہ میں ابومسلم کا مشورہ طلب کرتا تھا اور جیسے ابومسلم لکھتا تھا اسی کے موافق عمل درآمد کرتا تھا۔ یہ زمانہ تمام عالم اسلامی میں بڑا نازک اور خطرناک زمانہ تھا‘ ہر ایک ملک اور ہر ایک صوبہ میں جابجا لڑائیاں اور فسادات برپا تھے‘ واسط میں ابن ہبیرہ کو مغلوب کرنا آسان نہ تھا‘ ادھر مروان بن محمد اموی خلیفہ شام میں موجود تھا‘ حجاز میں بھی طوائف الملوکی برپا تھی‘ مصر کی حالت بھی خراب تھی‘ اندلس میں عباسی تحریک کا کوئی مطلق اثر نہ تھا‘ جزیرہ و آرمینیا میں اموی سردار موجود تھے اور عباسیوں کے خلاف تحریک پر آمادہ ہوگئے تھے‘ خراسان بھی پورے طور پر قابو میں نہ آیا تھا‘ بصرہ میں بھی عباسی حکومت قائم نہ ہو سکتی تھی‘ حضر موت و یمامہ و یمن کی بھی یہی حالت تھی۔ عبداللہ سفاح کے خلیفہ ہوتے ہی آل ابی طالب یعنی علویوں میں جو اب تک شریک کار تھے ایک ہلچل سی پیدا ہو گئی تھی اور وہ اس نتیجہ پر حیران اور ناراض تھے کیونکہ ان کو اپنی خلافت کی توقع تھی‘ عباسیوں کی اس کامیابی میں سب سے بڑا دخل محمد بن حنفیہ کے بیٹے ابوہشام عبداللہ کی اس وصیت کو ہے جو انہوں نے مرتے وقت محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس کے حق میں کی تھی‘ اس وصیت کی وجہ سے شیعوں کے فرقہ کیسانیہ۱؎ کا یہ عقیدہ قائم ہوا کہ سیدنا علی ابی طالب کے بعد محمد بن حنفیہ امام تھے‘ ان کے ۱؎اس فرقہ کے لوگ محمد بن حنفیہ کو جو علی رضی اللہ عنہ کی غیر فاطمی اولاد تھے‘ اپنا امام مانتے ہیں اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ انہوں نے بصرہ میں اپنی امامت کا اعلان کیا تھا۔ (غنیۃ الطالبین‘ شیخ عبدالقادر جیلانی‘ ص ۲۰۰) بعد انکے بیٹے ابوہشام عبداللہ امام ہوئے‘ ان کے بعد محمد بن علی عباسی ان کے جانشین اور امام تھے‘ اس طرح شیعوں کی ایک بڑی جماعت شیعوں سے کٹ کر عباسیوں میں شامل ہو گئی اور علویوں یا فاطمیوں کو کوئی موقع عباسیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا نہ مل سکا‘ وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا کر رہ گئے۔ جب مروان بن محمد آخری اموی خلیفہ مارا گیا تو حبیب بن مرہ حاکم بلقاء نے عبداللہ سفاح کے خلاف خروج کیا اور سفید جھنڈے لے کر نکلا‘ ادہر عامل قنسرین بھی اٹھ کھڑا ہوا حالانکہ اس سے پہلے وہ عبداللہ بن علی عباسی کے ہاتھ پر بیعت کر چکا تھا‘ اہل حمص بھی اس کے شریک ہو گئے‘ ادہر آرمینیا کے گورنر اسحاق بن مسلم عقیلی نے عباسیوں کے خلاف خروج کیا‘ ان تمام بغاوتوں کو فرو کرنے کے لیے عبداللہ سفاح نے اپنے سرداروں اور رشتہ داروں کو بھیجا اور بتدریج کامیابی حاصل کی‘ لیکن یزید بن عمر بن ہبیرہ ابھی تک واسط پر قابض و متصرف تھا اور کوئی سردار اس کو مغلوب و مفتوح نہ کر سکا تھا‘ آخر مجبور ہو کر یزید بن عمر بن ہبیرہ سے ابوجعفر منصور اور عبداللہ سفاح نے جا کر صلح کی اور یزید بن عمر بیعت پر آمادہ ہوا لیکن ابو مسلم نے خراسان سے عبداللہ بن سفاح کو لکھا کہ یزید بن عمر کا وجود بے حد خطرناک ہے اس کو قتل کر دو‘ چنانچہ دھوکہ سے منصور عباسی نے اس کو قتل کرا دیا اور اس خطرہ سے نجات حاصل کی۔ اب کوفہ میں ابومسلمہ باقی تھا اور بظاہر کوئی موقع اس کے قتل کا حاصل نہ تھا کیونکہ عباسی اس ابتدائی زمانہ میں شیعان علی کی مخالفت اعلانیہ نہیں کرنا چاہتے تھے‘ ابوسلمہ کے متعلق تمام حالات لکھ کر ابومسلم کے پاس خراسان بھیجے گئے اور اس سے مشورہ طلب کیا گیا‘ ابومسلم نے لکھا کہ ابوسلمہ کو فوراً قتل کرا دینا چاہیئے‘ اس پر عبداللہ سفاح نے اپنے چچا دائود بن علی کے مشورہ سے ابومسلم کو لکھا کہ اگر ہم اس کو قتل کریں گے تو ابوسلمہ کے طرف داروں اور شیعان علی کی جانب سے اعلانیہ مخالفت اور بغاوت کا خطرہ ہے‘ تم وہاں سے کسی شخص کو بھیج دو جو ابوسلمہ کو قتل کر دے‘ ابومسلم نے مراد بن انس کو ابوسلمہ کے قتل پر مامور کر کے بھیج دیا‘ مراد نے کوفہ میں آکر ایک روز کوفہ کی کسی گلی میں جب کہ ابوسلمہ جا رہا تھا اس پر تلوار کا وار کیا‘ ابوسلمہ مارا گیا‘ مراد بن انس بھاگ گیا اور لوگوں میں مشہور ہوا کہ کوئی خارجی ابوسلمہ کو قتل کر گیا۔ اس قتل کے بعد ابومسلم نے اسی طرح سلیمان بن کثیر کو بھی قتل کرا دیا یہ وہی سلیمان بن کثیر ہے جس نے ابومسلم کو شروع میں وارد خراسان ہونے پر واپس کرا دیا تھا اور ابودائود نے ابومسلم کو راستے سے واپس بلایا تھا‘ غرض ابومسلم نے چن چن کر ہر ایک اس شخص کو جو اس کی مخالفت کر سکتا تھا قتل کرا دیا۔