ابوجعفر منصور

خروج استاد سیس

سنہ ۱۵۰ھ میں استاد سیس نامی ایک شخص خراسان میں مدعی نبوت ہوا۔ خراسان میں ہزار ہا اشخاص نے فوراً اس کی نبوت کو تسلیم کر لیا۔ ہرات‘ بادغیس اور سیستان وغیرہ کے لوگ اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے اور خراسان کے اکثرحصہ پر اس نے قبضہ کر یا۔ یہ خبر سن کر منصور بہت فکر مند ہوا۔ مرورود کا حاکم مسمی جثم یہ حالت دیکھ کر استاد سیس پر اپنے پورے لشکر کے ساتھ حملہ آور ہوا اور شکست فاش کھا کر مقتول ہوا۔ اس کے بعد خازم بن خزیمہ نے خدعہ حرب سے کام لے کر استاد سیس کی فوج کو بیچ میں لے کر دو طرف سے حملہ کیا۔ استاد سیس کے ستر ہزار ہمراہی میدان جنگ میں قتل ہوئے اور وہ ۱۴ ہزار ہمراہیوں کے ساتھ ایک پہاڑ میں محصور کر لیا گیا۔ عرصہ تک محاصرہ جاری رہنے کے بعد استاد سیس نے اپنے آپ کو مع ہمراہیوں کے خازم بن خزیمہ کے سپرد کر دیا۔ استاد سیس کی گرفتاری کے بعد منصور کو اطلاع دی گئی۔