ملک عرب
عرب جاہلیت اور دوسرے ممالک
اوپر کی فصل میں عرب اور اس کے باشندوں کی نسبت جو کچھ بیان ہوا ہے یہ ظہور اسلام اور بعثت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے کی حالت ہے‘ اہل عرب کے اخلاق‘ عادات معاشرت‘ مذہب‘ عقائد وغیرہ کی نسبت جو کچھ اوپر بیان ہوا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ سے قریباً ایک صدی پہلے تک کی حالت ہے‘ اور یہی حالت بعثت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم تک قائم تھی‘ قارئین کرام خود غور فرمائیں کہ جن لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث ہوئے اور جو اسلام کے اول مخاطبین بنے کس قدر پست اور ذلیل حالت میں تھے‘ پھر آئندہ صفحات میں رسول عربی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات اور اسلام کے اثر سے عرب کے انقلاب کا حال پڑھ کر زیادہ صحیح اندازہ ہو سکے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی روحانیت اور اسلام کا اثر کس عظیم الشان طاقت کا نام ہے اور یہ اندازہ اور بھی زیادہ صحیح اس وقت تک ہو سکے گا جب کہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت کی ساری دنیا پر ایک مجموعی نظر ڈالیں اور پھر بعد میں دیکھیں کہ اسلام نے ساری دنیا میں شائع ہو کر دنیا کی ہر حالت میں کیا تغیر پیدا کیا۔
لہذا عرب کی مذکورہ حالت ظاہر کرنے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ممالک عالم کی وہ حالت جو اسی مذکورہ عرب کی ہم عہد حالت ہے نہایت مختصر اور اجمالی طور پر بیان کر دی جائے۔