ہادی بن مہدی
حسین بن علی کا خروج
ہادی بن مہدی بن منصور ۱۴۷ھ میں بمقام رے خیزران کے بطن سے پیدا ہوا۔ خیزران بربر کی رہنے والی ایک پرستار تھی جو مہدی کی مملوکہ تھی‘ جب اس کے پیٹ سے ہادی اور ہارون پیدا ہوئے تو مہدی نے اس کو آزاد کر کے اس ساتھ ۱۵۹ھ میں نکاح کر لیا تھا‘ خلیفہ ہادی نے تخت نشین ہو کر اپنے باپ کی وصیت کے موافق زنادقہ کی خوب خبر لی اور ان کے قتل و استیصال میں کمی نہیں کی‘ خلیفہ ہادی کی تخت نشینی کے وقت صوبوں اور ولایتوں کے حاکم اس طرح تھے کہ:
مدینہ منورہ میں عمر بن عبدالعزیز عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب یمن میں ابراہیم بن مسلم بن قتیبہ‘ مکہ و طائف میں عبداللہ بن قثم۔ یمامہ و بحرین میں سوید قائد خراسانی۔ عمان میں حسن بن سلیم حواری‘ کوفہ میں موسیٰ بن عیسیٰ۔ بصرہ میں ابن سلیمان۔ جرجان میں خلیفہ ہادی کا آزاد کردہ غلام حجاج۔ قومس میں زیاد بن حسان۔ طبرستان میں صالح بن شیخ بن عمیرہ اسدی۔ موصل بن ہاشم بن سعید بن خالد۔ ہاشم کو ہادی نے اس کی کج خلقی کے سبب معزول کر کے عبدالملک بن صالح بن علی ہاشمی کو موصل کی حکومت پر مامور کیا تھا۔
حسین بن علی کا خروج
حسین بن علی بن حسن مثلث بن حسن مثنیٰ بن حسن بن علی بن ابی طالب اور حسن بن محمد بن
۱؎’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔‘‘ (الاحزاب : ۳۳/۵۶)
عبداللہ بن حسن‘ ان کے چچا یحییٰ بن عبداللہ بن حسن اور دوسرے آل ابی طالب نے مل کر حکومت عباسیہ کے خلاف خروج کی سازش کی تھی اور یہ بات قرار پائی تھی کہ ۱۵۹ھ کے موسم حج میں خروج کرنا چاہیئے۔ مگر ایام حج سے پہلے ہی مدینہ کے عامل عمر بن عبدالعزیز بن عبیداللہ سے ان لوگوں کی کچھ ان بن ہو گئی اور انھوں نے خروج کر کے عامل مدینہ کے مکان کا محاصرہ کر کے حسین بن علی بن حسن مثلث کے ہاتھ پر بیعت کرنی شروع کی اور اہل مدینہ اس بیعت میں شامل ہونے لگے۔
اس اثناء میں خالد یزیدی دو سو آدمیوں کی جمعیت سے آ پہنچا۔ دوسری جانب سے عمر بن عبدالعزیز بھی محاصرہ سے نکل کر اور ایک جماعت کو ہمراہ لے کر مسجد کی طرف جہاں حسین بن علی کے ہاتھ پر بیعت ہو رہی تھی آ پہنچا۔ جو لوگ مسجد میں موجود تھے انھوں نے مقابلہ کیا‘ اس لڑائی میں خالد یزیدی یحییٰ و ادریس پسران عبداللہ بن حسن کے ہاتھ مارا گیا۔ اس کے مارے جاتے ہی سب کو شکست ہوئی اور حسین بن علی کی جماعت نے بیت المال کا دروازہ توڑ کر سرکاری خزانہ لوٹ لیا۔ اگلے دن بنو عباس کے حامیوں نے جمع ہو کر پھر مقابلہ کیا۔ کئی روز تک مدینہ میں لڑائی کا یہ سلسلہ جاری رہا‘ آخر حسین بن علی نے سب کو خارج کر کے مدینہ پر مکمل قبضہ حاصل کیا۔ اکیس روز تک مدینہ میں قیام کر کے مکہ کی جانب کو کوچ کیا۔ مکہ معظمہ میں پہنچ کر منادی کرا دی کہ جو غلام ہمارے پاس آئے گا ہم اس کو آزاد کر دیں گے۔ یہ سن کر غلاموں کا ایک گروہ حسین بن علی کے گرد فراہم ہو گیا۔
اس سال سلیمان بن منصور‘ محمد بن سلیمان بن علی۔ عباس بن محمد بن علی۔ موسیٰ و اسمعیٰل پسران عیسیٰ بن موسیٰ وغیرہ عباسیہ خاندان کے چند آدمی حج کے لیے آئے تھے۔ ان لوگوں کے روانہ ہونے کے بعد ہادی کے پاس حسین بن علی کے خروج کی خبر پہنچی۔ ہادی نے فوراً محمد بن سلیمان کو ایک خط لکھا کہ تم اپنے تمام ہمراہیوں کو لے کر حسین بن علی کا مقابلہ کرو۔ محمد بن سلیمان اپنے ساتھ کچھ فوج بھی لایا تھا۔ محمد بن سلیمان نے مقام ذی طویٰ میں سب کو فراہم کر کے لشکر کو باقاعدہ مرتب کیا اور مکہ معظمہ میں پہنچ کر عمرہ ادا کیا۔ وہاں مختلف صوبوں اور ملکوں سے جو سرداران عباسیہ حج کے لیے آئے تھے‘ وہ سب محمد بن سلیمان کے ساتھ شامل ہو گئے۔
یوم الترویہ کو مقام فخ میں صف آرائی و جنگ آزمائی کی نوبت پہنچی۔ بہت سے آدمی مارے گئے۔ آخر حسین بن علی کو شکست حاصل ہوئی اور ان کے ہمراہی فرار ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک شخص حسین بن علی کا سر لے کر آیا۔ ان کے ہمراہیوں کے قریباً سو سر جمع کئے گئے۔ انہیں میں سلیمان برادر محمد مہدی کا سر بھی تھا۔ ہزیمت یافتہ لوگ میدان سے بھاگ کر حجاج میں شامل ہو گئے‘ ادھر محمد بن سلیمان نے امان کی منادی کرا دی۔ حسن بن محمد بن عبداللہ امان کی منادی کے بعد گرفتار ہوا‘ اس کو موسیٰ بن عیسیٰ نے قتل کر دیا۔ محمد بن سلیمان نے اس پر اظہار ناراضگی کیا اور ہادی کو بھی جب یہ بات معلوم ہوئی تو موسیٰ بن عیسیٰ کے مال و اسباب کو ضبط کر لیا۔
اس لڑائی میں ادریس بن عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب برادر محمد مہدی بھی بچ کر نکل گیا تھا۔ وہ وہاں سے فرار ہو کر مصر پہنچا۔ وہاں صالح بن منصور کا آزاد غلام واضح محکمہ ڈاک کا افسر تھا اس کو آل ابی طالب کے ساتھ ہمدردی تھی۔ اس نے ادریس کو تیز رفتار گھوڑے پر سوار کرا کر بلاد مغرب کی طرف روانہ کر دیا۔ وہاں ادریس شہر دلیلہ مضافات طبخہ میں پہنچا اور بربریوں کو دعوت دینی شروع کی‘ (اولاد کا حال آئندہ جدا گانہ بیان ہو گا) چند روز کے بعد خلیفہ ہادی کو اس بات کی اطلاع ہوئی کہ واضح نے ادریس کو مغرب کی طرف بھگا دیا ہے۔ چنانچہ ہادی نے واضح اور اس کے ہمراہیوں کو گرفتار کرا کر قتل کرا دیا۔ ادریس بن عبداللہ کا دوسرا بھائی یحییٰ بن عبداللہ مقام فخ سے فرار ہو کر دیلم پہنچا۔