ابو جعفر ہارون الرشید بن مہدی

وہب بن عبداللہ نسائی اور حمزہ خارجی کا خروج

جب عیسیٰ بن علی‘ مامون الرشید کی تقریب ولی عہدی کے سلسلہ میں بغداد کی طرف آیا تو ابو خصیب وہب بن عبداللہ بن نسائی نے علم بغاوت بلند کر کے خراسان میں لوٹ مار شروع کر دی۔ جب عیسیٰ بن علی نے واپس جا کر اس کا تعاقب کیا تو وہب نے خائف ہو کر امان طلب کی۔ چنانچہ اس کو امان دے دی گئی اور وہ خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔ اس واقعہ کے بعد ہی یہ خبر مشہور ہوئی کہ بلاد باد غیس میں حمزہ بن اترک خارجی نے خروج کیا ہے اور شہروں پر قبضہ کرتا چلا جاتا ہے۔ ہرات میں ان دنوں عمرویہ بن یزید ازدی عامل تھا اس نے چھ ہزار سواروں کی جمعیت لے کر حمزہ پر حملہ کیا۔ حمزہ نے اس کو شکست دے کر اس کے بہت سے سواروں کو قتل کر ڈالا اور اسی ہنگامہ میں عمرویہ بھی کچل کر مر گیا۔ یہ سن کر علی بن عیسیٰ نے اپنے لڑکے حسن بن علی کو دس ہزار فوج دے کر حمزہ کے مقابلہ کو روانہ کیا مگر حسن نے حمزہ کا مقابلہ نہ کیا۔ تب علی بن عیسیٰ نے اپنے دوسرے بیٹے عیسیٰ بن علی کو مامور کیا۔ مقابلہ ہوا اور حمزہ نے عیسیٰ بن علی کو شکست دے کر بھگا دیا۔ علی بن عیسیٰ نے عیسیٰ بن علی کو دوبارہ تازہ دم فوج دے کر پھر حمزہ کے مقابلہ پر بھیجا۔ مقام نیشاپور میں معرکہ کار زار گرم ہوا۔ اس معرکہ میں حمزہ شکست کھا کر قہستان کی طرف بھاگا۔ دس ہزار آدمی حمزہ کے میدان جنگ میں کام آئے اور صرف چالیس آدمی جان بچا کر حمزہ کے ساتھ قہستان کی طرف گئے۔ عیسیٰ بن علی نے ادق جوین اور ان قصبات و دیہات کی طرف اپنے لشکریوں کو متعین کیا جو حمزہ کی مدد کر رہے تھے اور نہایت بے رحمی سے چن چن کر خوارج کو قتل کیا۔ یہاں تک کہ تیس ہزار آدمی اسی طرح مارے گئے اس کے بعد عیسیٰ مقام زرنج میں عبداللہ بن عباس نسفی کو مال غنیمت جمع کرنے کے لیے چھوڑ کر کابل و زابلستان تک بڑھتا چلا گیا۔ ابو خصیب وہب بن عبداللہ جو شہر نساء میں امان طلب کرنے کے بعد خاموش بیٹھا تھا میدان خالی دیکھ کر عہد شکنی پر مستعد ہو گیا اور باغیوں کا ایک گروہ کثیر اپنے گرد جمع کر کے اجیور‘ نساء ‘ طوس اور نیشاپور پر قابض ہو گیا۔ ادھر حمزہ نے اپنی مختصر جمعیت سے گائوں اور قصبوں پر چھاپے مارنے اور راستے لوٹنے شروع کر دے۔ غرض حمزہ اور وہب نے چار سال تک علی بن عیسیٰ اور اس کے ہمراہیوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا۔ اس عرصہ میں بعض اوقات ابوخصیب نے مرو کا بھی محاصرہ کیا۔ آخر ۱۸۷ ھ میں ابو خصیب وہب کے مارے جانے سے خراسان میں امن و امان قائم ہو گیا اور علی بن عیسیٰ نے اہل خراسان پر سختی و تشدد شروع کیا۔ اسی سال ۱۸۲ھ میں عبدالرحمن بن عبدالملک بن صالح صائفہ کے ساتھ بغرض جہاد بلاد روم کی طرف روانہ ہوا۔ اسی زمانہ میں رومیوں نے اپنی بادشاہ قسطنطین کی وفات کے بعد اس کی ماں ملکہ ریبی کو عطشہ کے لقب سے تخت نشین کیا۔ ہارون الرشید کے رعب و اقتدار کا جو دربار قسطنطنیہ پر چھایا ہوا تھا‘ یہ نتیجہ ہوا کہ اس رومی ملکہ نے صلح کی سلسلہ جنبانی شروع کی اور اسلامی سرداروں کے پاس پیغامات بھیج کر ان کو صلح کی جانب مائل کیا‘ یہ وہ زمانہ تھا کہ فرانس کا بادشاہ شارلمین اٹلی کا ملک فتح کر چکا تھا اور مغربی روم پر قابض ہو کر مشرقی روم یعنی سلطنت قسطنطنیہ پر بھی دانت رکھتا تھا‘ اس لیے اس رومی ملکہ نے بڑی دانائی کے ساتھ ہارون الرشید کو جزیہ دینا منظور کر کے صلح کر لی اور اپنے آپ کو مغربی خطرہ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا لیا۔