ابو جعفر ہارون الرشید بن مہدی
خاندان برمک
ایرانیوں میں سب سے قدیم مہ آبادی مذہب تھا‘ جس میں ستارہ پرستی زیادہ اور آتش پرستی کم تھی۔ مہ آباد کے بعد اس کے مذہب کی تجدید کے لیے یکے بعد دیگرے بہت سے پیغمبر بطور مجدد آئے۔ ان سب کے بعد شت و خشور زردشت کا ظہور ہوا۔ زردشت نے جس مذہب۱؎ کو رواج دیا اللہ تعالیٰ جانے اس کی اصلی صورت کیا ہو گی۔ مگر آج کل جو کچھ پتہ چلتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زردشت کی شریعت میں آتش پرستی زیادہ اور ستارہ پرستی کم تھی۔ زردشت کی زندگی ہی میں اس کا مذہب شاہی مذہب ہو کر ایران کے اکثر حصے میں پھیل گیا تھا۔ اسفند یار کی پہلوانی دروئین تنی نے افغانستان و پنجاب تک اس مذہب کو پھیلایا اور ہندوستان کے اعلم العلماء و شمس الفضلا سنگراچہ و بیاس جی نے زردشت کے پاس بلخ میں حاضر ہو کر بیعت کی اور ہندوستان میں واپس آ کر آتش پرستی کی اشاعت شروع کی‘ جس کی یادگار اب تک ہندوئوں میں ہون کی شکل میں نمودار ہے۔
زردشت اور اس کے مرید باخاص تارک السلطنت بادشاہ لہرا سب کا آخری قیام گاہ بلخ ہی تھا۔ بلخ کو دین آتش پرستی کے ساتھ وہی تعلق ہے جو بیت المقدس یا یروشلم کو عیسویت کے ساتھ یا بودھ مت کو گیا جی کے ساتھ ہے۔ سکندر یونانی نے اصطخر‘ سمر قند‘ کانگڑہ‘ کراچی‘ بابل کا درمیانی رقبہ انپی تاخت و تاراج سے بالکل تہ و بالا کر دیا تھا۔ یہی رقبہ کیانی خاندان کی آتش پرست سلطنت کا محکوم و مغلوب رقبہ تھا‘ اسی رقبہ میں آتش پرستی رائج تھی۔ یونانیوں کے سیلاب نے کیانیوں کی حکومت کے ساتھ ہی آتش پرستی کو ٹھنڈا کر دیا۔
سینکڑوں برس کے بعد یونانیوں کے شکنجے سے ایرانیوں کی گردنیں چھوٹیں اور ساسان اول نے ایرانی طائف الملوکی کو پھر ایک شہنشاہی کی شکل میں تبدیل کر کے دین زردشتی کی خاکستر میں سے چنگاریاں نکال کر جا بجا آتش کدے روشن کر دئیے۔
۱؎زرتشت نے آتش پرستی یعنی آگ کی پوجا کرنے کا مذہب پھیلایا یعنی خالص شرکیہ مذہب۔ اب یہ پارسی مذہب کہلاتا ہے۔
بلخ کو چینیوں نے زردشت ہی کے زمانے میں حملہ کر کے ویران کر دیا تھا۔ لیکن بلخ چند ہی روز کے بعد پھر آباد اور آتش پرستوں کا قبلہ تھا۔ سکندری سیلاب نے بلخ کی گرم بازاری کو سرد کر دیا تھا‘ لیکن راسخ العقیدت زردشتیوں کا وہ بدستور امید گاہ تھا۔ ساسانیوں کے عہد میں اس کی عظمت نے دوبارہ عہد شباب پایا۔ جب قادسیہ نہاوند کے میدانوں میں ساسانی سلطنت کے سانس پورے ہو گئے تو بلخ کے آتش کدے کی رونق اور بھی زیادہ بڑھ گئی۔ کیونکہ ایران کا شکست خوردہ شہنشاہ اور دربار ایران کے بقیہ مفرور سرداروں کا جمگھٹ بلخ ہی کی طرف متوجہ ہو کر بلخ کے آتش کدہ موسومہ نوبہار میں مصروف یزداں۱؎ پرستی ہوا۔ اس زمانہ میں نو بہار کے مغ اعظم کی شان و عظمت قابل دید ہو گی اور وہ دین آتش پرستی کے سرپرست اعظم شہنشاہ۲؎ ایران کی بربادی و بے کسی دیکھ دیکھ کر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہو گا‘ وہ سوچتا ہو گا کہ جس دین کے پیشوائوں میں میرا شمار ہے وہ دین ہی اب ذلیل و برباد ہونے والا ہے اور اس کے ساتھ ہی میری اور میرے خاندان کی عظمت بھی رخصت ہوا چاہتی ہے۔
آتش کدے کے امام یا متولی کو مغ کہتے تھے۔ ان مغوں میں جو سب سے بڑا اور سب کا افسر اور اپنے صوبہ کے تمام آتش کدوں کا مہتمم اور مرکزی آتش کدہ کا مغ ہوتا تھا وہ برمغ کہلاتا تھا۔ ایران کے چار مرکزی آتش کدوں میں سے ایک آتش کدہ نوبہار تھا۔ اس آتش کدہ کو سب سے شہرت و عظمت حاصل تھی۔ کیونکہ بلخ لہرا سپ کا مقتل‘ اور زردشت کی قیام گاہ‘ اور دین زردشتی کا مرکز سمجھا جاتا تھا‘ اس لیے نوبہار کے برمغ کی عزت و عظمت آتش پرستوں اور ایرانیوں میں یقینا بہت بلند ہو گی۔
۳۱ھ میں مسلمان فتح مندوں کا سیلاب مرو کی طرف سے بڑھتا‘ میدانوں کو سمیٹتا اور پہاڑوں کو لپیٹتا ہوا بلخ تک پہنچا اور وہ آگ جس کی نسبت مشہور تھا کہ ہزاروں برس سے برابر روشن چلی آتی ہے‘ افسردہ ہو گئی۔ نہ آتش پرست رہے نہ آتش کدہ کی ضرورت رہی۔ نہ برمغ صاحب کی عزت و توقیر کرنے والا کوئی گروہ تھا نہ ان کی آمدنی و آسائش کے سامان رہے۔ مگر وہ اپنے اسی خطاب یعنی برمغ کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ فتح مند اہل عرب اس نام کو برمک کہنے لگے۔
اس موقعہ پر یہ خیال کرنا غلطی ہو گی کہ اہل عرب نے نوبہار کو مسمار و منہدم کر کے آتش پرستوں کو عبادت سے روک دیا اور زبردستی مسلمان بنا لیا تھا۔ مسلمان اگر زبردستی آتش پرستوں کو مسلمان بناتے تو سب سے پہلے برمک کو مسلمان بناتے۔ لیکن انھوں نے برمک سے قطعاً کوئی تعرض نہیں کیا
۱؎آتش پرستوں یعنی مجوسیوں کے دو ’’خدا‘‘ تھے : خدائے یزداں اور خدائے اہرمن… ایک نیکی کا خدا اور دوسرا بدی کا۔ یہ تصور اور نظریہ کس قدر فاسد‘ لا یعنی اور خلاف دین و عقل ہے‘ وہ ظاہر ہے۔
۲؎ایران کے بادشاہ کو لوگ شہنشاہ کہتے تھے حالانکہ شہنشاہ تو اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ذات جلیل و کمال ہے۔
بلکہ آتش پرست خود ہی اسلام میں داخل ہوتے اور اپنے مذہب کو چھوڑتے جاتے تھے‘ اور اسی تبدیلی مذہب کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کو حیرت انگیز سرعت کے ساتھ فتوحات حاصل ہوئیں۔ مسلمانوں کا بلخ تک پہنچنا گویا مذہب اسلام کا بلخ تک پہنچنا تھا۔ جس کا لازمی نتیجہ آتش کدہ نو بہار کی بربادی اور اس کے مغ کی تباہ حالی تھا۔ برمک چونکہ مذہبی پیشوا تھا اس لیے اس نے مذہب اسلام قبول نہ کیا۔ کیونکہ اسلام کے اس ملک میں آنے سے اس کو ہر قسم کا نقصان پہنچا تھا اور وہ مسلمانوں کو طیش و غضب کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔
مسلمانوں کے آنے کے بعد سرحد چین کے مغل اور ترک قبائل جو ایرانیوں کی قوم اور مذہب سے کوئی تعلق نہ رکھتے مگر ایرانی شہنشاہی کے رعب سے بلخ پر حملہ آور نہ ہو سکتے تھے اب بلخ پر چھاپے مارنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہی مغل سردار مسلمانوں کو جزیہ دینے کا اقرار کر کے بلخ پر حکمرانی کرنے لگے اور بعد میں قوت پا کر مسلمانوں کے لیے موجب مشکلات بھی ہونے لگے۔ ان مغلوں نے بلخ میں آتش پرستی کے تمام سامانوں کو مٹایا اور خاندان برمک کو ذلیل کر کے ادنیٰ طبقہ میں پہنچایا۔ عربوں نے پہلی مرتبہ اس طرف آ کر زیادہ دنوں قیام نہیں کیا‘ اور اندرونی جھگڑوں نے ان کو سرحدوں کی طرف زیادہ متوجہ ہی نہ ہونے دیا اور بلخ مغلوں کا تختہ مشق بنا رہا۔
وہ برمک جو نوبہار کا مغ اور مجوسی سلطنت کا زمانہ دیکھے ہوئے تھا‘ فوت ہو گیا۔ اس کا بیٹا بھی جو دین زردشتی کا پیرو تھا اسی نام سے مشہور ہوا۔ اس دوسرے برمک نے نوبہار کی بہار کا زمانہ نہیں دیکھا تھا۔ ۸۶ھ میں جب قتیبہ بن مسلم گورنر خراسان نے بلخ پر چڑھائی کی تو وہاں سے کچھ لونڈیاں بھی گرفتار ہو کر آئیں۔ ان میں اس برمک دوم کی بیوی بھی تھی جو قتیبہ بن مسلم کے بھائی عبداللہ بن مسلم کے حصے میں آئی تھی۔ چند روز کے بعد جب اہل بلخ سے صلح ہوئی تو یہ تمام لونڈیاں اور قیدی واپس کئے گئے‘ چنانچہ عبداللہ بن مسلم کو بھی یہ عورت واپس کرنی پڑی۔۱؎ اس عورت نے رخصت ہوتے وقت عبداللہ سے کہا کہ میں تجھ سے حاملہ ہو گئی ہوں۔ برمک کے یہاں پہنچ کر اس عورت کے پیٹ سے لڑکا پیدا ہوا۔ یہی لڑکا جعفر برمکی کا دادا تھا‘ جس کا نام خالد تھا۔
ممکن ہے یہ روایت بھی اسی قسم کی فرضی کہانی ہو جیسی کہ عجائب پسند اور عجائب پرست لوگ تصنیف کیا کرتے ہیں۔ بہرحال برمک دوم کے یہاں ۸۶ھ یا ۸۷ھ میں خالد پیدا ہوا۔ ۱۶۴ھ میں امام ابراہیم عباسی نے ابو مسلم خراسانی کو خراسان کے دعاۃ کا افسر و مہتمم بنا کر بھیجا۔ ابو مسلم نے خالد بن برمک کو جب کہ اس کی عمر چالیس سال کے قریب تھی‘ اپنی جماعت میں شامل کیا۔ ابو مسلم کو خالد برمک
۱؎باوجود خرابیوں کے مسلمانوں کا اخلاقی رویہ بہت بہتر تھا‘ یہ واقعہ اس کی واضح عکاسی کر رہا ہے۔
کے ساتھ بہت محبت تھی اور اس کی خصوصی توجہ خالد کی تربیت اور افزائش مرتبت میں صرف ہوتی تھی۔ ابو مسلم نے جب خراسان سے ایک شخص کو بھیج کر ابو سلمہ خلال معروف بہ وزیر آل محمد کو قتل کرا دیا تو سفاح کو لکھا کہ آپ اب خالد بن برمک کو اپنا وزیر بنا لیں۔ چنانچہ عبداللہ سفاح پہلے عباسی خلیفہ نے خالد بن برمک کو اپنا وزیر بنا لیا اور سفاح کی وفات تک خالد بن برمک وزیر رہا۔
سفاح کے بعد منصور عباسی تخت نشین ہوا تو اس نے بھی خالد کو وزارت پر قائم رکھا۔ منصور نے اپنی خلافت کے پہلے ہی سال ابو مسلم کو جو خالد کا مربی و ہم خیال و محسن تھا قتل کرا دیا۔ خالد نے ابو مسلم کے قتل ہونے پر اپنے کسی عمل سے اپنی دلی ناراضی اور ملال کا اظہار نہ ہونے دیا۔ مگر منصور نے پھر بھی احتیاطاً قتل ابو مسلم سے چار پانچ مہینے کے بعد خالد کو کسی بغاوت کے فرو کرنے کے بہانے سے روانہ کر کے ابو ایوب کو اپنا وزیر بنایا۔ چونکہ خالد سے کوئی علامت سرکشی اور بے وفائی ظاہر نہیں ہوئی تھی اس لیے خلیفہ منصور نے ایک کار گزار اور قابل شخص سے کام لینے اور فائدہ اٹھانے میں کمی نہیں کی۔
خالد کے آئندہ طرز عمل نے منصور کو مطمئن کر دیا۔ چونکہ وہ ابو مسلم جیسے سازشی‘ باہمت اور ابوالعزم شخص کا شاگرد رشید اور سیاسی معاملات میں خوب تجربہ کار تھا۔ ایرانی عصبیت بھی اس کے دل میں موجود تھی‘ ابو مسلم کا انجام بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا اور اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا لہٰذا وہ ابو مسلم سے بھی زیادہ گہرا بن گیا اور منصور جیسے چوکس رہنے والے اور ادا شناس خلیفہ سے بھی اپنے اصلی رنگ کو چھپا لینے میں کامیاب ہو گیا۔ موصل کی ولایت کا والی اور منصور کے بیٹے مہدی کا اتالیق رہا‘ اور اپنے وقار و مرتبہ کو آخر عمر تک قائم رکھا۔ خلیفہ مہدی کا اتالیق ہونا اس کے اور اس کے خاندان کے لیے بے حد مفید اور ضروری تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ اس نے خود اس بات کی کوشش کی ہو کہ مہدی کی اتالیقی اس کو مل جائے۔ مہدی کی تخت نشینی اور منصور کی وفات کے بعد بھی خالد زندہ تھا۔ اب اس کے عزت و مرتبہ میں اور بھی اضافہ ہو گیا تھا۔
مہدی کے عہد خلافت یعنی ۱۶۳ھ میں قریباً ۷۷ سال کی عمر میں خالد کا انتقال ہوا۔ اس کی آخری آدھی عمر سلطنتوں کے بننے اور بگڑنے کا تماشا دیکھنے میں صرف ہوئی تھی اور وہ خود سلطنتوں کو برباد کرنے اور نئی سلطنت قائم کرنے کے کام میں شریک غالب کی حیثیت سے کام کر چکا تھا۔ اس کی وفات کے وقت اس کے بیٹے یحییٰ کی عمر ۴۵ یا ۵۰ سال کی تھی‘ اور اس نے بھی ہوش سنبھالتے ہی یہ تمام تماشے اور ہنگامے دیکھے تھے۔ وہ اپنے باپ سے اس کے تمام عزائم‘ تمام خیالات‘ تمام خواہشات‘ تمام احتیاطیں ورثہ میں پا چکا تھا۔ وہ اپنے باپ دادا کی بربادی‘ اپنے خاندانی احترام‘ ایرانی شہنشاہی کے افسانے نہایت عقیدت و حسرت کے ساتھ سن چکا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ایرانی قوم کا نمائندہ اور پیشوا سمجھتا اور اس بات کو بخوبی جانتا تھا کہ ایک ذرا سی لغزش پا اس رسوخ کو جو خلافت اسلامیہ میں حاصل ہے ضائع کر کے تحت الثریٰ میں پہنچا سکتی ہے۔ دوسری طرف اس کو اور اس کے باپ کو خاندان خلافت کے اندرونی اور خاندانی معاملات میں بھی دخل تھا۔ صحبت مدام نے اس کے قلب کو رعب سلطنت کے بوجھ سے چور چور اور مرعوب ہونے سے بھی بچا لیا تھا۔
خالد بن برمک نے سب سے بڑا کام اور نہایت گہری تدبیر یہ کی تھی کہ ۱۶۱ھ میں مہدی کو مشورہ دیا کہ شہزادہ ہارون الرشید کا اتالیق یحییٰ کو بنایا جائے۔ مہدی چونکہ خود خالد کی اتالیقی میں رہ چکا تھا لہٰذا اس نے اپنے بیٹے کو خالد کے بیٹے کی تالیقی میں سپرد کرنا بالکل بے ساختہ چیز سمجھا۔ اس سے بھی پہلے جبکہ ہارون الرشید بمقام رے خیز ران کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا تو خالد مہدی کے ساتھ رے میں موجود تھا۔ خالد ہی نے ہارون الرشید کو یحییٰ کی بیوی کا اور اپنے پوتے یعنی یحییٰ کے بیٹے فضل کو خیز ران کا دودھ پلوا کر فضل اور ہارون کو دودھ شریک بھائی بنوایا تھا۔ خالد کی ان تمام تدابیر کو اگر بنظر غور دیکھا جائے تو اس نے نہایت ہی خوبی کے ساتھ اپنے خاندان کی پوری پوری حفاظت کر لی تھی کیونکہ وہ ایک نہایت عظیم الشان کام انجام دینا یعنی ابو مسلم کا بدلہ لے کر ایرانیوں میں حکومت و سلطنت کو واپس لانا چاہتا تھا۔
یحییٰ بن خالد نے ہارون کو تعلیم و تربیت کیا تھا‘ اس نے ہارون پر یہاں تک اپنا اثر قائم کر لیا تھا کہ ہارون تخت خلافت پر متمکن ہونے کے بعد بھی یحییٰ کو پدر‘ بزگروار ہی کہہ کر مخاطب کرتا تھا اور اس کے سامنے بے تکلفانہ گفتگو کرتا ہوا شرماتا تھا۔ خلیفہ ہادی کا عہد خلافت کسی طرح بھی خاندان برمک کے منصوبوں کے موافق نہ تھا اور ہادی پر یحییٰ کا کوئی اثر بھی نہ تھا۔ اگر تھا تو صرف اسی قدر کہ وہ متوسلین میں سے ایک تھا۔ لیکن یحییٰ نے وہ تدابیر اختیار کیں کہ ہادی کی حقیقی ماں خیز ران اپنے بیٹے ہادی کی دشمن بن کر اس کی جان کی خواہاں ہو گئی اور یحییٰ دخیز ران نے مل کر جلدی ہی اس کا کام تمام کر دیا‘ اور سال بھر سے زیادہ اس کو حکومت کا موقعہ نہ مل سکا۔ ہارون کی تخت نشینی کے لیے یحییٰ کا کوشش کرنا ظاہر ہے کہ خود اپنی ہی ذات کے لیے کوشش کرنا تھا۔
ہارون نے خلیفہ ہوتے ہی جیسا کہ توقع تھی یحییٰ بن خالد کو وزیراعظم اور مدار المہام خلافت بنا دیا۔ یحییٰ ایسا بے وقوف نہ تھا کہ ہارون کی ماں خیزران کو ناراض رکھتا۔ اس نے ہر ایک کام خیزران کے مشورہ سے کرنا شروع کیا۔ یعنی اپنی ہر ایک تجویز کے لیے پہلے خیزران سے مشورے لیتا تھا۔ چند روز کے بعد خیزران فوت ہو گئی اور یحییٰ کو اس تکلف کی بھی ضرورت باقی نہ رہی۔ یحییٰ نے امور خلافت اور مہمات سلطنت میں اس انہماک‘ دل سوزی اور خوبی سے کام کیا کہ ہارون الرشید کے دل میں یحییٰ کی عزت اور محبت بڑھتی چلی گئی۔ یحییٰ نے یہ بھی احتیاط رکھی کہ ہارون کی آزاد مرضی اور دلی خواہش میں کسی مقام پر بھی یحییٰ کا اختیار سد راہ محسوس نہ ہونے پائے۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ یحییٰ کا کام صرف ہارون کی خواہش اور منشاء کو کامیاب بنانے کی سعی بجا لانا ہے اور بس۔
لیکن یحییٰ نے جو سب سے بڑا کام کیا وہ یہ تھا کہ اس نے غیر محسوس طریقے پر اپنے خاندان والوں‘ اپنے بھائیوں‘ بھتیجوں اور اپنے ہم خیال ایرانیوں کو ذمہ داری کے عہدوں‘ اہم ولایتوں کی حکومتوں اور فوجوں کی سرداریوں پر مامور و مقرر کرنا شروع کیا۔ اپنے بیٹوں فضل و جعفر وغیرہ کو اس نے ہارون الرشید کا بھائی بنا ہی دیا تھا‘ ہارون بھی یحییٰ کے بیٹوں کو اپنا بھائی کہتا اور انھیں سب سے زیادہ اپنا عزیز و رفیق جانتا تھا۔ اپنے بیٹوں کو ہارون نے فضل و جعفر کی اتالیقی میں دے دیا تھا۔ ۱۷۴ھ میں جب کہ یحییٰ بوڑھا اور ضعیف ہو گیا تھا ہارون نے اس کے بیٹے فضل کو مہمات وزارت میں اس کا مددگار و شریک بنا دیا تھا۔
جب یحییٰ بن عبداللہ نے ۱۷۶ھ میں دیلم میں خروج کیا ہے تو فضل بن یحییٰ ہی نے اس مہم کو طے کیا تھا ۔۔۔۔۔ اور یحییٰ بن عبداللہ کے لیے جاگیر مقرر کرائی تھی۔ چند روز کے بعد ہارون نے یحییٰ بن عبداللہ کو جعفر بن یحییٰ ہی کے سپرد کر دیا کہ اپنے پاس نظر بند رکھو۔ فضل کو ہارون نے ۱۷۸ھ میں خراسان و طبرستان ورے و ہمدان کا گورنر بھی بنا دیا تھا۔ فضل بن یحییٰ کو ہارون نے اپنے بیٹے امین کا اتالیق بنایا تھا۔ یحییٰ نے اپنی گورنری خراسان کے زمانہ میں پانچ لاکھ ایرانیوں کی ایک نہایت زبردست اور آراستہ فوج تیار کی۔ مگر ایک ہی سال کے بعد ۱۷۹ھ میں ہارون نے اس کو خراسان سے بلا کر مستقل وزیراعظم بنا دیا۔ مگر یحییٰ سے اہم معاملات میں ضرور مشورہ لیا جاتا تھا۔ یعنی وہ بھی بدستور مہمات سلطنت میں دخیل رہا۔
یحییٰ کا دوسرا بیٹا جعفر ہارون الرشید کا مصاحب خاص اور نہایت بے تکلف دوست تھا۔ ہارون سفر و حضر میں اس کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ جعفر نہایت خوش مزاج اور سلیقہ شعار تھا۔ ۱۷۶ھ میں جعفر کو محلات شاہی کی داروغگی کے علاوہ ملک مصر کی گورنری بھی عطا ہوئی تھی۔ جعفر نے اپنی طرف سے مصر کی حکومت پر عمران بن مہران کو روانہ کر دیا تھا اور خود ہارون کی خدمت میں رہتا تھا۔ ۱۸۰ھ میں دمشق و شام میں فسادات پیدا ہوئے تو جعفر ہی نے جا کر ان کو فرو کیا۔ پھر ہارون نے جعفر کو خراسان کی گورنری عطا کی۔ مگر ایک مہینہ بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ خاص بغداد کی حکومت و کوتوالی اس کے سپرد کی۔ جعفر نے یہ کام ہرثمہ بن اعین کے سپرد کیا اور خود بدستور ہارون الرشید کا مصاحب رہا۔ ہارون الرشید نے یحییٰ بن خالد کو بلا کر کہا کہ آپ فضل سے کہہ دیں کہ وہ قلم دان وزارت جعفر کے سپرد کر دیں کیونکہ مجھ کو فضل سے یہ کہتے ہوئے شرم آتی ہے کہ وہ وزارت کا کام جعفر کو سپرد کر دیں۔ چنانچہ یحییٰ نے فضل سے ہارون کا منشاء ظاہر کیا اور جعفر وزیراعظم ہو گیا۔ اس بات سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس خاندان کا ہارون پر کس قدر قوی اثر تھا۔
جعفر بن یحییٰ نے اپنے عہد وزارت میں سلطنت کے تمام عہدوں اور تمام صیغوں پر اس طرح تسلط جما لیا کہ حقیقتاً وہی سلطنت کا مالک اور اصل فرمانروا سمجھا جانے لگا۔ بغداد کی تمام پولیس بغداد کے بڑے بڑے محلات سب اس کے قبضہ میں تھے۔ ولایتوں کے عامل‘ صوبوں کے گورنر فوج کے افسر سب اسی کے آوردے تھے۔ خزانہ کا وہی مالک و مہتمم تھا۔ حتیٰ کہ ضرورت کے وقت ہارون الرشید کو جعفر ہی سے روپیہ مانگنا پڑتا تھا۔ یحییٰ بن خالد کے اور بھی کئی بیٹے تھے جو بڑی بڑی فوجوں کے افسر تھے۔ اپنے ان اختیارات اور اقتدار سے یحییٰ اور اس کے بیٹوں نے نہایت خوبی کے ساتھ فائدہ اٹھایا یعنی انھوں نے بڑی بڑی جاگیروں اور وظیفوں کی آمدنی کے علاوہ خزانہ سلطنت کے روپیہ کو بھی سخاوت اور داد و دہش میں بے دریغ خرچ کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی سخاوت حاتم کی طرح مشہور ہو گئی۔
کوئی شخص ایسا نہ تھا جو خاندان برمک کا مداح اور ہوا خواہ نہ ہو‘ انھوں نے خوب روپیہ حاصل کیا اور اس کو بلا دریغ خرچ کر کے اپنی قبولیت و ناموری خریدی۔ یہاں تک کہ صرف خراسان و عراق ہی میں نہیں‘ بلکہ شام و مصر و عرب و یمن اور دور دور کے ملکوں میں لوگ ان کی مدح سرائی کرتے اور ان کی سخاوت اور بذل مال کی تعریف میں قصائد لکھتے تھے۔ خاندان برمک کی عزت‘ قبولیت‘ اختیار‘ اقتدار‘ قوت و طاقت‘ مال و دولت معراج کمال کو پہنچ چکی تھی۔ بجز اس کے کہ وہ تخت خلافت پر نہیں بیٹھے تھے باقی اور تمام چیزیں ان کو حاصل تھیں۔ وہ ان کے باوجود ہارون الرشید کی منشاء کے خلاف کوئی حرکت نہیں کرتے تھے۔ اس لیے ہارون الرشید کے کسی ہوا خواہ کو یہ موقعہ ہی حاصل نہ تھا کہ ان کے اس اقتدار و عظمت کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھے۔ لیکن اگر اس اقتدار و قوت اور اس اختیار و تسلط کی تہ میں کوئی بد نیتی یا بغاوت پوشیدہ ہو تو پھر ہارون الرشید کے لیے ان سے بڑھ کر کوئی دوسرا دشمن نہیں ہو سکتا تھا۔
۱۸۷ھ کی ابتداء میں یکایک دیکھا گیا کہ ہارون الرشید نے خاندان برمک کے ساتھ وہ برتائو کیا جو دشمنوں سے کیا جاتا ہے۔ پس ہم کو اس وقت یہ دیکھنا اور تحقیق کرنی چاہیئے کہ آیا برامکہ نے حقیقتاً ہارون الرشید کی سلطنت کے خلاف کوئی منصوبہ اور سازش شروع کر رکھی تھی یا نہیں‘ اور ہارون ان کے اس مخالف منصوبے سے واقف ہو گیا تھا یا نہیں۔ اگر واقعی برامکہ ہارون اور عباسی خلافت کے خلاف کچھ کرنا چاہتے تھے تو ہارون نے ان کے ساتھ جو آخری سلوک کیا وہ سراسر جائز اور ہر طرح مناسب تھا۔ لیکن اگر برامکہ کا ظاہر اور باطن یکساں تھا اور وہ خلوص کے ساتھ ہارون کے فرماں بردار تھے تو ہارون سے بڑھ کر کوئی نا قدر شناس اور ظالم نہیں ہو سکتا۔ سطحی نگاہ والوں کے لیے برامکہ کی بربادی کا مسئلہ ایک عقیدئہ لاینحل خیال کہا جاتا ہے۔ اور انھوں نے چانڈو خانے۱؎ کی بے سروپا باتوں کو اس عقدئہ دشوار کے حل کرنے کے لیے ذریعہ بنا کر حقیقت کا جامہ پہنا دیا ہے۔