ابو جعفر ہارون الرشید بن مہدی

خراسان میں بغاوت

اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ علی بن عیسیٰ کے گورنر خراسان مقرر ہونے پر برامکہ نے وہب بن عبداللہ اور حمزہ بن اترک کو بغاوت پر آمادہ کر دیا تھا۔ وہب تو مارا گیا تھا لیکن حمزہ باقی تھا۔ وہ ابھی تک ہاتھ نہیں آیا تھا اور جا بجا ڈاکہ زنی کرتا پھرتا تھا۔ علی بن عیسیٰ امیر خراسان نے سمر قند و ماوراء النہر کی ولایت پر اپنی طرف سے یحییٰ بن اشعث کو عامل مقرر کر رکھا تھا۔ ماوراء النہر کی فوج میں رافع بن لیث بن نصر بن سیار مشہور سردار تھا۔ رافع بن لیث بھی برامکہ کی جماعت کا آدمی تھا اور علی بن عیسیٰ خلیفہ ہارون سے متنفر تھا۔ اتفاقاً یحییٰ بن اشعث نے ایک عورت سے نکاح کیا۔ چند روز کے بعد رافع بن لیث نے اس عورت کو بہکایا‘ اس نے یحییٰ سے علیحدگی چاہی مگر یحییٰ نے اس کو طلاق نہ دی۔ رافع نے اس کو یہ تدبیر بتائی کہ تو اپنے مرتد ہونے کا اعلان کر اور دو گواہ مرتد ہونے کے پیش کر دے‘ فوراً یحییٰ سے تیرا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اس کے بعد پھر اسلام قبول کر لینا‘ میں تجھ سے نکاح کر لوں گا۔ عورت نے یہی تدبیر کی اور رافع کے نکاح میں آ گئی۔ غالباً نکاح فسخ کرانے کی یہ تدبیر سب سے پہلے رافع نے ایجاد کی تھی۔ یحییٰ بن اشعث نے یہ تمام کیفیت خلیفہ ہارون الرشید کی خدمت میں لکھ کر بھیج دی‘ ہارون الرشید نے علی بن عیسیٰ گورنر خراسان کو لکھا کہ رافع اور اس عورت میں علیحدگی کرا کر رافع پر حد شرعی جاری کرو اور شہر سمر قند میں گدھے پر سوار کرا کر تشہیر کرائو۔ چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں رافع کو اس عورت سے جدا کرا کر سمر قند کے جیل خانہ میں قید کر دیا گیا۔ ایک روز موقع پا کر رافع قید خانہ سے نکل بھاگا اور گورنر خراسان علی بن عیسیٰ کے پاس بلخ میں پہنچا۔ علی بن عیسیٰ نے اس کو قتل کرنا چاہا مگر علی کے بیٹے عیسیٰ بن علی نے سفارش کی اور علی بن عیسیٰ نے اس کو حکم دیا کہ تم سمر قند میں یحییٰ بن اشعث کے پاس جائو۔ رافع نے سمر قند پہنچ کر عامل سمر قند کو دھوکہ سے قتل کر دیا اور خود سمر قند پر قابض ہو گیا۔ یہ خبر سن کر علی بن عیسیٰ نے اپنے بیٹے عیسیٰ بن علی کو سمر قند کی طرف روانہ کیا۔ رافع سے لڑتا ہوا عیسیٰ بن علی لڑائی میں مارا گیا۔ یہ خبر سن کر علی بن عیسیٰ لشکر لے کر بلخ سے مرو کی طرف اس خیال سے آیا کہ کہیں رافع مرو پر قبضہ نہ کر لے۔ یہ ۱۹۱ھ کا واقعہ ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے رافع کی چیرہ دستی کا حال سن کر علی بن عیسیٰ کو خراسان کی حکومت سے معزول کر کے ہرثمہ بن اعین کو خراسان کی امارت و حکومت پر روانہ کیا۔ حقیقت یہ تھی کہ رافع کے ساتھ لشکر خراسان کے تمام بڑے بڑے سردار اور برامکہ کی جماعت کے آدمی شامل ہو گئے تھے۔ ہرثمہ بن اعین نے سمر قند پہنچ کر رافع بن لیث کو محصور کر لیا۔ رافع نے سمر قند میں محصور ہو کر مدافعت شروع کی‘ یہ محاصرہ عرصہ دراز تک جاری رہا۔