امین الرشید بن ہارون الرشید

خلافت امین کا جائزہ !

خلیفہ امین نے ۲۷ یا ۲۸ برس کی عمر پائی‘ چار برس اور ساڑھے سات مہینے خلافت کی‘ یہ تمام زمانہ فتنہ و فساد اور خون ریزی میں گذرا‘ ہزار ہا مسلمانوں کا خون بلا وجہ بہایا گیا‘ امین کا عہد خلافت عالم اسلام کے لیے مصیبت و نحوست کا زمانہ تھا‘ امین اگرچہ نحو و ادب میں دست گاہ کامل رکھتا اور اچھے شعر کہتا تھا‘ اہل علم کا قدر دان بھی تھا مگر لہو و لعب کی طرف مائل اور مہمات سلطنت کے سر انجام دینے کے ناقابل تھا‘ تخت سلطنت پر بیٹھتے ہی قصر منصور کے قریب میدان چوگان کے بنانے کا حکم دیا‘ زیب و زینت اور آرائش کے کاموں میں اس کی خصوصی توجہ صرف ہوتی تھی‘ گانے بجانے کا شائق اور حسن پرستی کی لعنت میں گرفتار تھا‘ پھر سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ خود غرض وزراء میں ایسا کوئی نہ تھا جو کہتا کہ:۔ توئی مرد میدان ایں کارواں چہ کارت بعشق پری پیکراں غرض امین اپنی نوجوانی کے جذبات کا پورے طور پر مغلوب اور ملک گیری و ملک داری کی صفات سے معرا تھا‘ فضل بن ربیع جو اس کا وزیراعظم تھا‘ خاندان عباسیہ کے لیے اچھا و زیر ثابت نہ ہوا‘ فضل بن ربیع نے ہی طوس سے اس لشکر اور اس سامان کو جو مامون کے پاس ہارون کی وصیت کے موافق رہنا چاہیئے تھا بغداد لانے اور مامون کو نقصان پہنچانے کی نامناسب حرکت سے امین و مامون دونوں بھائیوں میں عداوت و دشمنی کا بیج بویا‘ اتنی سی بات کو غالباً مامون برداشت کر لیتا اور امین اپنی عیش پرستی کے سبب مامون کے درپے نہ ہوتا‘ لیکن دوسرا نازیبا کام فضل بن ربیع نے امین سے یہ کرایا کہ مامون کو ولی عہدی سے معزول کرا کر امین کے شیر خوار بچے کو مامون کی جگہ ولی عہد بنوایا‘ اور اس ملک میں سے جو ہارون کی وصیت اور تقسیم کے موافق مامون کا تھا ایک حصہ پر قبضہ کر لینا چاہا‘ عہد نامے کو خانہ کعبہ سے منگوا کر چاک کر دینے کی حرکت بھی امین نے فضل بن ربیع کے مشورے سے کی‘ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خاندان عباسیہ کے تمام با اثر اراکین امین سے بدگمان و بد دل ہو گئے۔ اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو ان تمام مصائب اور تمام نقصانات کا (جو عالم اسلام کو پہنچے) سبب ہارون الرشید تھا‘ ہارون الرشید کے غلط اور قابل ملامت کاموں میں سب سے زیادہ قابل ملامت کام یہی تھا کہ اس نے اپنے جانشین کے انتخاب میں غلط روی اختیار کی اور یہ جانتے ہوئے کہ امین کے مقابلے میں مامون زیادہ لائق اور مستحق خلافت ہے امین کو مامون پر مقدم رکھا‘ ہارون کی طرف سے یہ عذر پیش کیا جا سکتا ہے کہ امین نجیب الطرفین اور خالص ہاشمی تھا‘ لیکن مامون کی ماں مجوسی النسل تھی‘ اس لیے مامون سے اندیشہ تھا کہ وہ عربی عنصر کو زیادہ کمزور کر کے ایرانیوں کے اقتدار و قوت کو اور زیادہ بڑھا دے گا۔ لہٰذا اس نے امین کو اس لیے اپنا جانشین منتخب کیا تھا کہ وہ خالص ہاشمی اور عربی النسل ہونے کی وجہ سے ہارون الرشید کی اس پالیسی کو جو اس نے آخر عمر میں اختیار کی تھی کہ ایرانیوں کے زور کو توڑ دیا جائے کامیاب بنا سکے گا‘ مگر اس پالیسی کے کامیاب بنانے کے لیے امین کا دل و دماغ موزوں نہ تھا‘ اور ہارون کو اس کا اندازہ بخوبی تھا‘ کیوں کہ اپنے آخر ایام حیات میں وہ مامون کی قابلیت اور امین کی نا اہلیت سے بخوبی واقف ہو چکا تھا۔ اگر اور بھی زیادہ گہری نظر سے دیکھا جائے تو ہارون الرشید کی بھی کوئی خطا نہیں تھی‘ بلکہ شروع ہی سے عباسیوں نے جو طرز عمل اختیار کیا تھا اس کا لازمی نتیجہ یہی تھا جو ظہور میں آیا‘ عباسیوں نے اول اہل خراسان کو حصول مقصد کا ذریعہ بنا کر عربوں کی مخالفت کی اور عربوں کے اثر اور اقتدار کے مٹانے میں ساری طاقت صرف کر کے خراسانیوں کو جو نو مسلم تھے طاقتور بنایا‘ ابو مسلم کو جو حکم عباسی مقتدا ابراہیم کی طرف سے دیا گیا تھا اس کا ذکر اوپر آ چکا ہے کہ کسی عربی بولنے والے کو زندہ نہ چھوڑا جائے‘ ۱؎چنانچہ ابو مسلم نے چھ لاکھ عربوں کو خراسان و ایران میں موت کے گھاٹ اتار دیا‘ علویوں اور عباسیوں کی متفقہ کوششیں جو بنو امیہ کے خلاف جاری تھیں وہ شروع سے ہی اہل عرب کے اثر و قوت کو کم اور خراسانیوں‘ فارسیوں اور عراقیوں کو طاقتور بنانے والی تھیں‘ ہر ایک سازش جو بنو امیہ کے خلاف ۱؎جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عربی اور عجمی کی تقسیم اور تفریق پیدا کرنے اور عصبیت کی طرف بلانے اور اس کے تحت لڑنے سے نہایت سختی سے منع فرمایا تھا اور وعید سنا کر خبردار کیا تھا۔ لیکن خیر القرون کے بعد امت نے اسی عصبیت کو گلے سے لگایا اور اس کے تحت سینکڑوں جنگیں لڑیں‘ انا للہ و انا الیہ راجعون! کامیاب ہوئی اس میں عراقیوں اور خراسانیوں ہی سے امداد لی گئی‘ اس طرح جب بنو امیہ کی بربادی عمل میں آئی تو علوی دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے اور عباسی خلافت و حکومت کے مالک ہو گئے‘ پھر آخر جب علویوں نے عباسیوں کی مخالفت شروع کی اور سازشوں کا سلسلہ برابر جاری رہا تو علویوں کو بھی عراقیوں اور خراسانیوں سے امداد ملی۔۱؎ جن لوگوں کو شروع میں بنو امیہ کے خلاف عربوں کے قتل کرنے پر آمادہ کیا گیا تھا وہی اب عباسیوں کے لیے موجب مشکلات بن گئے‘ منصور عباسی کے زمانے تک خراسانیوں کا عروج برابر ترقی پذیر رہا‘ صرف مہدی کے چند سالہ عہد حکومت میں مجوسی النسل لوگوں کی ترقی رکی رہی اور عربوں کی کچھ کچھ قدر دانی ہوئی‘ ہادی و ہارون کے زمانے میں مجوسی النسل لوگ برابر ترقی کرتے اور اپنی قوت بڑھاتے رہے‘ ہارون نے اپنے آخر ایام حکومت میں اس بات کو محسوس کیا کہ عربوں کو کمزور کر دینے سے ہم نے خود اپنا بھی بہت سا نقصان کر لیا ہے‘ وہ اس کی تلافی کے درپے ہوا‘ مگر اس کو موت نے زیادہ مہلت نہ دی‘ امین کی خلافت میں عربوں کا مرکز قوت امین‘ اور خراسانیوں کا مرکز قوت مامون بن گیا‘ یعنی امین و مامون کے ذریعہ مجوسی النسل مسلمان اور عربی النسل گروہوں کا مقابلہ ہوا‘ امین چونکہ ذاتی طور پر ناقابل اور مامون اس کی نسبت زیادہ سمجھ دار تھا‘ لہٰذا عربی گروہ کو شکست ہوئی اور مجوسی النسل لوگ حکومت اسلامیہ کے مالک بن گئے۔ انہیں خراسانیوں اور مجوسی النسل لوگوں نے مامون کو اپنا بنا کر اور سلطنت کی مشین کو اپنے قبضے میں لے کر چاہا کہ مامون کے بعد حکومت علویوں کے سپرد کر دیں‘ مگر قدرتی طور پر ایسے اسباب پیش آ گئے کہ وہ کامیاب نہ ہو سکے اور حکومت و خلافت عباسیہ خاندان ہی میں رہی‘ آخر انہیں خراسانیوں اور نو مسلم ترکوں نے زیادہ حوصلہ مند بن کر خود خلافت اسلامیہ کے تکے بوٹی کر کے الگ الگ اپنی حکومتیں قائم کیں۔ اس کی تفصیل آئندہ ابواب میں آنے والی ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ خلافت اسلامیہ میں باپ کے بعد بیٹے کے ولی عہد ہونے اور وراثت کے قائم ہونے کی لعنت تمام مفاسد‘ تمام مصائب‘ تمام معائب کی بنیاد ہے۔ اور اسی بدعت نے مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا اور حکومت اسلامیہ کے روشن و خوبصورت چہرے کو ہمیشہ گرد آلود رکھا‘ امین کی خلافت کے زمانہ کی بدتمیزیاں بھی اسی وراثت خلافت کی لعنت کا نتیجہ تھیں۔ ۱؎عراق‘ خراسان اور ایران کے علاقے اس وقت سبائی گروہ کا گڑھ تھے۔ یہاں سے اس قدر سازشوں نے جنم لیا کہ خلافت اسلامیہ کا نظام مسلسل غیر مستحکم ہوتا چلا گیا اور شورشوں اور لڑائیوں نے خوب زور پکڑا۔ نتیجتاً خلفاء و حکام نے جو توجہ اور تیاری غیر مسلموں سے جہاد و قتال کرنے کے لیے کرنی تھی‘ وہ ان خانہ جنگیوں نے سمیٹ لی۔ عجیب اتفاق کی بات ہے کہ سیدنا علی ضض‘ سیدنا حسن ضض‘ امین الرشید‘ تین خلیفہ ماں اور باپ دونوں کی طرف سے ہاشمی تھے‘ یعنی ان ہر سہ خلفاء کی مائیں بھی ہاشمیہ تھیں اور تینوں کے لیے خلافت بہ حسب ظاہر راس نہ آئی‘ یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تمام عہد خلافت اندرونی جھگڑوں اور مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں میں گذرا‘ اور انجام کار ایک شقی نے ان کو شہید کر دیا‘ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت کو خود چھوڑ دیا‘ تاہم وہ بھی زہر سے شہید ہوئے‘ ۱؎امین کا بھی تمام زمانہ خلافت لڑائی جھگڑوں میں بسر ہوا اور وہ بھی قتل کیا گیا۔