مامون الرشید
ہرثمہ بن اعین کا قتل !
فضل بن سہل نے ہارون الرشید کی وفات کے بعد مامون کی خوب ہمت بندھائی تھی اور اسی نے امین کے مقابلے کے لیے سازو سامان کئے تھے۔ مامون نے اس کو وزیر اعظم اور صاحب السیف والقلم بنا دیا تھا‘ ایرانی مامون کی طرف اس لیے مائل تھے کہ اس کی ماں ایرانی تھی اور اس نے جعفر سے تربیت پائی تھی۔ اور اس نے ایرانیوں کو چوتھائی خراج معاف بھی کر دیا تھا۔ لہٰذا فضل کو اپنی وزارت اور خلیفہ پر قابو حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی سہولت حاصل تھی۔ اس نے مامون کو اس بات پر آمادہ کر لیا تھا کہ وہ مرو ہی کو دارالخلافہ رکھے جو خراسان کا دارالصدر تھا۔ یہاں اہل عرب کو کوئی زور و قوت حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ اگر مامون الرشید بغداد چلا جاتا تو فضل بن سہل کا یہ زور قائم نہیں رہ سکتا تھا۔ اور یہاں اہل عرب خلیفہ کو اس طرح فضل کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کی طرح نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ فضل بن سہل نے اپنے بھائی محسن بن سہل کو عراق و حجاز وغیرہ ممالک کا حاکم و وائسرائے بنا کر اہل عرب کے زور کو کم کرنے کا سامان کر دیا تھا۔ ہرثمہ اور طاہر دو زبردست سپہ سالار تھے جنہوں نے مامون کی خلافت قائم کرنے کے لیے بڑے بڑے جنگی کارنامے دکھائے تھے۔ طاہر کی شہرت اگرچہ ہرثمہ سے بڑھ گئی تھی۔ مگر ہرثمہ کی قدامت نے اس کمی کو پورا کر دیا تھا اور دونوں کو دربار خلافت سے برابر کے داعیے تھے۔
طاہر کو یہ محسوس ہو چکا تھا کہ امین کے قتل کرنے میں اس نے مامون کی اس فطری محبت کو جو بھائی کو بھائی کے ساتھ ہوتی ہے‘ صدمہ پہنچایا ہے‘ اسی لیے اس کو اس کے مفتوحہ علاقہ کی حکومت نہ ملی۔ بلکہ اس کی جگہ حسن بن سہل کو فضل بن سہل بآسانی مامون کے حسب منشاء ممالک مغربیہ کا وائسرائے مقرر کر سکا۔ پس طاہر تو اہل عجم کا زور توڑنے اور مامون کو مرو سے بغداد کی طرف لانے کے لیے کوئی کوشش و حرکت نہیں کر سکتا تھا۔ صرف ہرثمہ بن اعین ہی یہ جرأت کر سکتا تھا کہ وہ خلیفہ کو اہل عرب کے حسب منشاء توجہ دلائے۔ ہرثمہ کو یہ بات بھی معلوم ہو چکی تھی کہ مامون الرشید کے پاس کوئی خط‘ کوئی درخواست کوئی عرض داشت براہ راست بلا توسط فضل بن سہل ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ اس کو یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ خلیفہ کسی شخص سے بلا توسط فضل کے ملاقات نہیں کر سکتا‘ یعنی کوئی شخص فضل کی اجازت کے بغیر خلیفہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس حالت میں مامون الرشید کی حالت قریباً ویسی ہی تھی جیسی کہ ہندوستان کے بادشاہ جہانگیر کی مہابت خاں کی قید میں۔
تاریخ اسلامیہ میں یہ سب سے پہلی مثال تھی کہ خلیفہ کو اس کے وزیر نے گویا نظر بند کر رکھا تھا اور خلیفہ اپنے آپ کو شاید نظر بند نہیں سمجھتا تھا۔ اب ابوالسرایا کے قتل اور مکہ کی طرف فوج بھیجنے کے بعد ہرثمہ کو معلوم ہوا کہ مامون الرشید کو اب تک عراق و حجاز کی بغاوتوں کا کوئی حال معلوم نہیں اور اب تک وہ ملک کی عام حالت سے بالکل بے خبر ہے۔ چنانچہ ہرثمہ فوراً خراسان کی طرف اس ارادے سے روانہ ہوا کہ میں خود دربار میں حاضر ہو کر تمام حالات سے خلیفہ کو واقف کروں گا اور فضل بن سہل کی ان کاروائیوں کو کہ اس نے خلیفہ کو اب تک بے خبر رکھا ہے۔ افشا کر دوں گا۔ ہرثمہ حسن بن سہل سے رخصت ہوئے بغیر خراسان کی طرف روانہ ہو گیا۔
فضل بن سہل کو جب اس کی اطلاع ہوئی کہ ہرثمہ دربار خلافت کی طرف آ رہا ہے تو اس نے مامون الرشید سے یہ حکم لکھوا کر بھجوا دیا کہ تم راستے ہی سے شام و حجاز کی طرف چلے جائو۔ وہاں تمھاری سخت ضرورت ہے۔ ہمارے پاس خراسان میں آنے کی ابھی ضرورت نہیں۔
ہرثمہ چونکہ حقیقت سے پہلے ہی آگاہ تھا۔ اس نے مامون کے اس فرمان کی کوئی پرواہ نہ کی اور اپنی خدمات جلیلہ اور حقوق قدامت پر بھروسہ کئے ہوئے مرو کی جانب گرم سفر رہا۔ حتیٰ کہ جب مرو کے قریب پہنچا تو اس کو خیال آیا کہ مبادا فضل بن سہل مجھ کو دربار میں باریاب ہی نہ ہونے دے اور میرے آنے کا حال ہی مامون الرشید کو معلوم نہ ہو لہٰذا اس نے شہر میں داخل ہوتے ہوئے نقارہ بجانے کا حکم دیا تاکہ خلیفہ کو معلوم ہو جائے کہ کوئی بڑا سردار شہر میں داخل ہو رہا ہے۔
ادھر جب فضل کو معلوم ہوا کہ ہرثمہ نے حکم کی تعمیل نہیں کی اور برابر مرو کی طرف بڑھتا چلا آتا ہے اور میری شکایت کرنے کا قصد رکھتا ہے تو اس نے مامون الرشید سے کہا کہ مجھ کو معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ابوالسرایا کو ہرثمہ نے بغاوت پر آمادہ کیا تھا اور جب ہرثمہ کو اس کی سرکوبی پر مامور کیا گیا تو اس نے ابوالسرایا کو صاف بچ کر نکل جانے دیا اور حسن بن علی نے اس کا کام تمام کیا۔ اب اس کی نیت کا حال تو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے مگر اس کی شوخ چشمی اور گستاخی کی انتہا ہو گئی ہے کہ آپ نے اس کو شام کی طرف جانے کا حکم دیا اور اس نے اس حکم کو پڑھ کر ذرا بھی پرواہ نہ کی اور خود سرانہ طور پر مرو کی طرف آ رہا ہے ۔۔۔۔ جب ہرثمہ مرو میں داخل ہوا اور شور و غل اور نقارے کی آواز مامون کے کانوں تک پہنچی تو اس نے دریافت کیا کہ یہ کیسا شور ہے‘ فضل نے کہا کہ ہرثمہ آ پہنچا ہے اور وہی گستاخانہ اور فاتحانہ انداز میں داخل ہو رہا ہے۔ ان باتوں سے مامون کو سخت غصہ آیا۔ آخر ہرثمہ دربار میں داخل ہوا‘ قبل اس کے وہ اپنا مقصود اصلی اظہار و بیان میں لائے مامون نے اس سے جواب طلب کیا کہ حکم کی تعمیل کیوں نہیں کی ۔۔۔۔ ہرثمہ اس کے متعلق معذرت کرنے لگا۔ لیکن مامون کا طیش و غضب اس درجہ بڑھ چکا تھا کہ اس نے فوراً اس کو نہایت بے عزتی کے ساتھ دربار سے نکلوا کر جیل خانہ میں بھجوا دیا۔ غالباً اس کی کارگزاریاں خود سفارشی بنتیں اور غصہ فرو ہونے کے بعد مامون جلدی یا دیر میں اس کی طرف ملتفت ہوتا مگر فضل بن سہل نے اس موقعہ کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور جیل خانہ میں اس کو قتل کرا کر مامون کو اطلاع دے دی کہ ہرثمہ جیل میں فوت ہو گیا ہے۔
مامون کو ہرثمہ کے فوت ہونے کی خبر سن کر کوئی ملال نہیں ہوا اور اس کی وہ حالت جو پہلے سے قائم تھی اور جس کے تبدیل کرنے کے لیے ہرثمہ نے بیڑا اٹھایا تھا بدستور قائم رہی۔ اب بظاہر کوئی طاقت اور کوئی تدبیر ایسی نہ تھی جو اس کام کا بیڑا اٹھائے مگر قدرت نے خود ایسے سامان فراہم کر دئیے کہ فضل کو حسرت ناک موت کا سامنا کرنا پڑا۔