معتصم باللہ
محمد بن قاسم کا خروج
ابو اسحٰق معتصم بن ہارون الرشید ۱۸۰ھ میں جب کہ خلیفہ ہارون الرشید خود بلاد روم کی طرف عازم ہوا‘ مقام زبطرہ علاقہ سرحد روم میں باروہ نامی ام ولد کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ ہارون الرشید کو اس کے ساتھ بہت محبت تھی‘ وہ اپنی اولاد میں جب کوئی چیز تقسیم کرتا تو سب سے زیادہ حصہ معتصم کو دیا کرتا تھا۔ معتصم کو پڑھنے لکھنے کا مطلق شوق نہ تھا۔ لڑکپن میں اس نے کھیل کود کے اندر اپنا تمام وقت صرف کیا۔ ہارون الرشید نے ایک غلام کو متعین کر دیا تھا کہ وہ معتصم کے ساتھ ساتھ رہے اور جب موقعہ ملے اس کو پڑھائے۔ جب وہ غلام مر گیا تو ہارون الرشید نے کہا اب تو تمھارا غلام بھی مر گیا‘ بتائو اب کیا ارادہ ہے۔ معتصم نے کہا کہ امیرالمومنین ہاں غلام مر گیا اور میں کتاب کے جھگڑے سے چھوٹ گیا۔
معتصم کی نسبت مشہور ہے کہ وہ بالکل امی تھا‘ مگر صحیح یہ ہے کہ وہ بہت ہی کم پڑھنا جانتا تھا۔ اور اپنا نام وغیرہ لکھ سکتا تھا۔ مگر چونکہ شاہی خاندان اور علماء کی صحبت میں پرورش پائی تھی اور ہارون و مامون کے زمانے کی علمی مجلسوں کے تماشے خوب دیکھے تھے‘ اس لیے اس کی واقفیت بہت وسیع تھی۔
معتصم نہایت تنو مند پہلوان اور بہادر شخص تھا ساتھ ہی وہ سپہ سالاری کی قابلیت اعلیٰ درجہ کی رکھتا تھا ابن ابی دائود کا قول ہے کہ معتصم اکثر اپنا بازو میری طرف پھیلا کر کہا کرتا تھا کہ اس میں خوب زور سے کاٹو۔ میں دانتوں سے کاٹتا اور معتصم کہتا کہ مجھ کو کچھ بھی معلوم نہیں ہوا۔ میں پھر کاٹتا اور پھر بھی کوئی اثر نہ ہوتا۔ میرے دانتوں کا کیا اثر ہوتا‘ اس پر تو نیزہ کا بھی اثر نہیں ہو سکتا تھا۔ معتصم اکثر اپنی دو انگلیوں سے آدمی کے پہنچے کی ہڈی دبا کر توڑ ڈالا کرتا تھا۔
معتصم کبھی کبھی خود بھی شعر کہتا اور شعراء کی خوب قدر دانی کرتا تھا۔ مسئلہ خلق قرآن کے خبط میں وہ اپنے بھائی مامون الرشید کی طرح مبتلا تھا‘ جس طرح مامون نے علماء کو اس مسئلہ کے متعلق اذیتیں پہنچائیں اسی طرح معتصم باللہ عباسی نے بھی علماء کو تنگ کیا۔ سیدنا امام احمد بن حنبل کو اسی مسئلہ خلق قرآن کے متعلق نہایت بے رحمی و بے دردی سے تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائیں۔
مامون الرشید کے عہد خلافت میں معتصم باللہ شام و مصر کا گورنر تھا۔ مامون الرشید نے جب بلاد روم پر چڑھائی کی تو معتصم باللہ نے اپنی شجاعت کے خوب جوہر دکھائے‘ اسی لیے مامون الرشید نے خوش ہو کر اس کو اپنا ولی عہد بنایا اور اپنے بیٹے عباس کو محروم رکھا۔ معتصم باللہ کی بیعت خلافت مامون کی وفات کے دوسرے دن ۱۹ رجب ۲۱۸ھ مطابق ۱۰ اگست ۸۳۳ء مقام طرسوس میں ہوئی۔
فضل بن مروان ایک عیسائی اس کا کار پرداز اور نائب تھا۔ جب بغداد میں مامون الرشید کی وفات کی اطلاع پہنچی تو فضل بن مروان نے اہل بغداد سے معتصم کی خلافت کی بیعت لی۔ معتصم نے بغداد میں پہنچ کر فضل بن مروان ہی کو اپنا وزیراعظم بنایا۔
مقام طرسوس میں جب معتصم کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فوج کے اکثر اراکین نے عباس بن مامون کا نام لیا کہ وہ خلافت کا زیادہ مستحق ہے۔ معتصم نے عباس کو طلب کیا اور اس نے معتصم کے ہاتھ پر بیعت کی‘ عباس کی بیعت کے بعد یہ شورش و مخالفت خود بخود فرو ہو گئی۔
معتصم نے یا تو عباس کے اثر کو مٹانے کے لیے کہ اس کے زیر اہتمام شہر طوانہ کی تعمیر و آبادی عمل میں آئی تھی یا اس لیے کہ سرحد روم پر ایک ایسا مضبوط مقام جس میں مسلمانوں کی آبادی تھی رومیوں کو ہر وقت اپنی طرف متوجہ رکھے گا‘ یا اللہ تعالیٰ جانے کس لیے کہ تخت خلافت پر متمکن ہوتے ہی حکم دیا کہ طوانہ کو مسمار و ویران کر دیا جائے۔ اور اس کے باشندوں کو حکم دیا کہ اپنے اپنے شہروں کو واپس چلے جائیں اور جہاں سے آئے تھے وہیں جا کر آباد ہوں۔ اس شہر کو ویران کرا کر جو سامان ساتھ لا سکتا تھا اپنے ہمراہ بغداد لے آیا اور جو نہیں لا سکتا تھا اس کو وہیں آگ لگا کر جلا دیا۔
محمد بن قاسم کا خروج
محمد بن قاسم بن علی بن عمر بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب مدینہ منورہ کی مسجد میں رہا کر تے اور زہد و عبادت میں اپنے اوقات بسر کرتے تھے۔ ایک خراسانی نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ترغیب دینی شروع کی کہ آپ خلافت کے مستحق ہیں‘ آپ کو لوگوں سے خفیہ طور پر بیعت لینی چاہیئے۔ چنانچہ اس نے ان لوگوں کو جو خراسان سے حج کرنے آتے اور مدینہ منورہ جاتے لا لا کر ان کی خدمت میں پیش کرنا شروع کیا اور انھوں نے محمد بن قاسم کے ہاتھ پر بیعت کی۔
اس طرح جب ان لوگوں کی ایک معقول تعداد خراسان میں موجود ہو گئی تو محمد بن قاسم معہ اس خراسانی کے جرجان چلے گئے اور مصلحتاً چند روز روپوش رہے‘ وہاں بیعت کا سلسلہ خوب مخفی طور پر جاری رہا اور رئوسا و امراء آ آ کر ملاقات کرتے رہے‘ بالآخر محمد بن قاسم علوی نے خروج کیا اور خراسان کے گورنر عبداللہ بن طاہر نے اس فساد کے مٹانے کی غرض سے فوج بھیجی‘ نواح طالقان میں متعدد لڑائیاں ہوئیں‘ ہر لڑائی میں محمد بن قاسم علوی کو شکست ہوئی‘ آخر محمد بن قاسم تنہا اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگے۔ مقام نسا میں پہنچ کر گرفتار ہوئے اور عبداللہ بن طاہر کی خدمت میں پیش کئے گئے۔ عبداللہ بن طاہر نے معتصم باللہ کی خدمت میں بغداد بھیج دیا۔ معتصم باللہ نے مسور الکبیر کے زیر نگرانی قید کر دیا۔ ۱۵ ربیع الاول ۲۱۹ھ کو محمد بن قاسم بغداد پہنچے تھے۔ شوال ۲۱۹ھ کی پہلی شب یعنی شب عیدالفطر کو وہ موقعہ پا کر قید سے نکل بھاگے اور کسی کو خبر نہ ہوئی۔