معتصم باللہ

بابک خرمی اور افشین حیدر

بابک خرمی کا ذکر اوپر آ چکا ہے کہ مامون الرشید کے ہر ایک سپہ سالار کو جو اس کے مقابلہ پر گیا بابک نے شکست دی اور کسی سے زیر نہ ہوا۔ شہر ہذا کو اس نے اپنا مستقر بنا رکھا تھا اور ارد گرد کے تمام علاقہ پر اس کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ قرب و جوار کے عمال و رئوسا سب اس سے ڈرتے اور اس کی خوشنودی کے لیے اس کے آدمیوں کی خاطر مدارات کرتے رہتے تھے۔ خلیفہ معتصم نے ابو سعید محمد بن یوسف کو بابک کی سرکوبی پر مامور کیا۔ ابوسعید نے اول اردبیل و آذربائیجان کے درمیان ان تمام قلعوں کی مرمت کرائی جو بابک نے خراب و مسمار کر دئیے تھے۔ پھر سامان رسد اور آلات حرب کی فراہمی کے بعد بابک کی طرف بڑھنے کی تیاری کی۔ بابک خرمی کے ایک دستہ فوج نے انھیں بلاد میں سے کسی ایک مقام پر شب خون مارا۔ ابو سعید کو اس شب خون کا حال معلوم ہوا تو وہ فوراً اپنی فوج لے کر تعاقب میں روانہ ہو گیا‘ اور بابک کی اس فوج کے قریب پہنچ کر معرکہ آرا ہوا۔ اس لڑائی میں بابک کی فوج کو شکست ہوئی۔ بہت سے آدمی اس کے ابو سعید نے گرفتار اور بہت سے قتل کیے اور وہ تمام سامان جو شب خون مار کر لے گئے تھے چھین لیا۔ یہ پہلی ہزیمت تھی جو بابک خرمی کی فوج کو حاصل ہوئی۔ اس شکست کا یہ اثر ہوا کہ بعض سردار جو بابک کے خوف سے اس کی حمایت کا دم بھرتے تھے مگر بدل اس سے ناراض تھے‘ لشکر اسلام کی ہمدردی پر آمادہ ہو گئے۔ بابک خرمی کا ایک سپہ سالار عصمت نامی علاقہ آذر بائیجان کے ایک قلعہ دار محمد بن بعیث کے قلعہ میں آ کر ٹھہرا۔ محمد بن بعیث نے حسب معمول اس کی ضیافت اور اس کے ہمراہیوں کے قیام و طعام کا انتظام کیا اور عصمت کو حسب معمول عزت و احترام کے ساتھ ٹھہرایا اور رات کے وقت عصمت کو گرفتار کر کے خلیفہ معتصم کی خدمت میں روانہ کر دیا۔ اور اس کے ہمراہیوں کو تیغ کے گھاٹ اتار دیا۔ خلیفہ معتصم نے عصمت سے بابک کے شہروں اور قلعوں کے اسرار دریافت کیے‘ عصمت نے بامید رہائی تمام اسرار معتصم کو بتا دئیے‘ معتصم نے عصمت کو تو قید کر دیا اور بابک کے مقابلے پر کسی بڑے اور زبردست سپہ سالار کو بھیجنا ضروری سمجھا‘ کہ اس فتنہ کا بکلی استیصال ہو سکے۔ معتصم کے سپہ سالاروں میں حیدر بن کائوس نامی سب سے بڑا سپہ سالار تھا۔ یہ اشروسنہ کے بادشاہ کا بیٹا تھا‘ جس کا خاندانی لقب افشین تھا‘ یہ مسلمان ہو گیا تھا‘ اور حیدر اس کا اسلامی نام رکھا گیا تھا۔ اس لیے یہ افشین حیدر کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ تمام لشکر فراغنہ یعنی ترکی فوج کا سپہ سالار اعظم تھا۔ یہ مامون الرشید کے عہد خلافت میں معتصم کے ہاتھ پر مسلمان ہو کر معتصم کی خدمت میں رہتا تھا۔ معتصم نے اپنی گورنری شام و مصر کے زمانے میں افشین حیدر سے فوجی خدمات لی تھیں اور اس کو جوہر قابل پایا تھا۔ لہٰذا اب تخت خلافت پر بیٹھ کر اس نے لشکر فراغنہ کو مرتب کیا‘ تو افشین حیدر‘ ایتاخ اشناس‘ عجیب‘ وصیف‘ بغاکبیر وغیرہ کو جو سب ترک تھے اس ترکی لشکر کی سرداریاں عطا کیں۔ افشین حیدر کو سپہ سالار اعظم بنایا۔ ان سب سرداروں کے لیے سامرا میں محلات تعمیر کرائے۔ خلیفہ معتصم نے بابک کی قوت اور اس ملک کے پہاڑوں کی دشوار گذاری کا اندازہ کر کے افشین حیدر کو اس طرف روانہ کیا۔ اس کی ماتحتی میں علاوہ ترکی فوجوں کے خراسانی اور عربی فوجوں کے دستے بھی بھیجے گئے۔ ایک معقول تعداد عام مجاہدین کی بھی بغرض جہاد روانہ ہوئی۔ افشین نے وہاں پہنچ کر نہایت ہوشیاری اور قابلیت کے ساتھ سلسلہ جنگ شروع کیا۔ معتصم نے افشین کو اس سازو سامان اور لائو لشکر کے ساتھ روانہ کر کے بعد میں ایتاخ کو تازہ دم فوج دے کر بطور کمکی روانہ کیا۔ چند روز کے بعد بغاکبیر کو سامان حرب اور ضروری سامان کے ساتھ روانہ کیا۔ فوج کے تمام مصارف‘ سامان رسد اور ہر قسم کی ضروریات کے علاوہ دس ہزار درہم روزانہ افشین کے مقرر تھے‘ یعنی ایام محاصرہ اور ایام جنگ میں روزانہ دس ہزار درم اور جن ایام میں محاصرہ جنگ نہ ہو اور افشین اپنے خیمہ میں رہے اس روز پانچ ہزار درہم افشین کو خزانہ خلافت سے علاوہ تنخواہ و وظیفہ کے اس جنگ بابک میں دئیے جاتے تھے۔ جنگ بابک کا سلسلہ قریباً ڈیڑھ سال تک جاری رہا۔ افشین اروبیل پہنچ کر ایک جنگی چوکی قائم کر کے پھر آگے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر اسی طرح چوکیاں قائم کرتا گیا تاکہ سامان رسد کے پہنچنے‘ خطوط و پیغامات کے آنے جانے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو‘ پھر ان پہاڑوں میں جو بابک کے تصرف میں تھے اور اس کی حفاظت کر رہے تھے داخل ہو کر فوجوں کو مناسب مقامات پر تقسیم کر کے کہیں جھنڈیوں کے ذریعہ کہیں قاصدوں کے ذریعہ ایک دوسرے کی نقل و حرکت سے باخبر رہنے کا بندوبست کر کے بابک کی فوج کو ہٹاتے اور قلعہ بذ کی طرف پسپا کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ شب خون اور کمین گاہوں کا بڑا اندیشہ تھا‘ اس کا بھی افشین نے کافی خیال رکھا۔ آب و ہوا اور موسم سرما کی شدت نے عربی و عراقی لوگوں کو زیادہ اور خراسانیوں اور ترکوں کو کسی قدر کم ستایا۔ جعفر بن دینار خیاط رضاکاروں اور مجاہدوں کا سپہ سالار تھا‘ اس نے اور بغا و اتیخ نے خوب خوب داد جواں مردی دی‘ بابک اور اس کے سپہ سالاروں اذین و طرہ خان وغیرہ نے بھی قابلیت جنگ جوئی خوب دکھائی۔ ابو سعید جو افشین کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں بابک کی فوجوں سے برسر مقابلہ تھا معہ اپنے ہمراہیوں کے افشین کی ماتحتی میں کام کرنے لگا تھا۔ اس طویل سلسلہ جنگ کا نتیجہ یہ ہوا کہ بابک خرمی مغلوب و مجبور ہو کر گرفتار ہوا اور خلیفہ معتصم کی خدمت میں سامرہ کی طرف روانہ کیا گیا۔ بابک اور اس کے بھائی معاویہ کی گرفتاری ماہ شوال ۲۲۳ھ کو عمل میں آئی اور افشین ماہ صفر ۲۲۳ھ میں سامرہ واپس پہنچا۔ خلیفہ معتصم نے فتح اور بابک کی گرفتاری کا حال سن کر حکم جاری کر دیا کہ ہر منزل پر مقام برزند (آذربائیجان) سے سامرہ تک افشین کے لیے خلیفہ کی طرف سے ایک خلعت اور ایک گھوڑا معہ سازو براق پیش کیا جائے اور اس کا استقبال شاہانہ شان و شوکت کے ساتھ ہو۔ جب افشین دارالخلافہ سامرہ کے قریب پہنچا تو معتصم نے اپنے بیٹے واثق کو شہر سے باہر استقبال کے لیے بھیجا۔ جب خلیفہ کے سامنے دربار میں حاضر ہوا تو کرسی زر پر بٹھا کر اس کے سر پر تاج رکھا گیا۔ نہایت قیمتی خلعت اور بیس لاکھ درہم بطور انعام اس کو دئیے گئے۔ دس لاکھ درہم اس کے علاوہ اس کی فوج میں تقسیم کرنے کے لیے عطا ہوئے۔ بابک کو خلیفہ معتصم کے حکم سے سامرہ میں قتل کیا گیا۔ اور اس کے بھائی کو بغداد میں بھیج دیا گیا جہاں وہ وہاں قتل ہوا۔ دونوں کی لاشوں کو صلیب پر لٹکایا گیا۔ بابک کا دور دورہ قریباً بیس سال تک رہا‘ اس عرصہ میں اس نے ایک لاکھ پچپن ہزار آدمیوں کو قتل کیا۔ سات ہزار چھ سو مسلمان عورت و مرد اس کی قید سے چھڑائے گئے‘ بابک کے اہل و عیال سے سترہ مرد اور تیس عورتیں افشین نے گرفتار کیں۔