معتصم باللہ

بغاوت کر دستان

ادھر طبرستان کی بغاوت ابھی فرو نہ ہونے پائی تھی کہ نواح موصل میں جعفر بن فہر نامی ایک کرد نے کردوں کا ایک گروہ کثیر اپنے گرد جمع کر کے علم بغاوت بلند کر دیا۔ اس صوبہ کی سرحد اگرچہ صوبہ آذربائیجان و آرمینیا سے ملتی تھی مگر معتصم نے عبداللہ بن سید بن انس کو جعفر کی سرکوبی پر مامور کیا۔ اور افشین کو اس مہم پر نہیں بھیجا۔ عبداللہ بن سید نے پہنچ کر صف آرائی شروع کی‘ ان لڑائیوں کا سلسلہ ۲۲۴ھ کے ختم ہونے پر بھی ختم نہ ہوا۔ آخر معتصم نے اپنے ایک سپہ سالار ایتاخ کو نہایت زبردست لشکر کے ساتھ روانہ کیا اور جعفر بن فہر لڑائی میں مارا گیا۔ اس کے ہمراہی گرفتار و مقتول ہوئے۔ یہ بغاوت بھی غالباً افشین کے اشارے سے ظہور میں آئی‘ جو ۲۲۵ھ میں ختم ہوئی۔