معتز باللہ

احمد بن طولون

ترکی سرداروں میں بابکیال نامی سردار بھی بغا‘ وصیف اور سیما طویل کی طرح ایک سربر آوردہ اور نامی سردار تھا‘ اسی سال یعنی ۲۵۳ھ میں خلیفہ معتز باللہ نے بابکیال کو مصر کی سند گورنری عطا کی‘ بابکیال نے اپنی طرف سے احمد بن طولون کو بطور نائب حکومت مصر پر مقرر کر کے بھیجا۔ طولون ایک ترک تھا جو لڑکپن میں فرغانہ کی لڑائی میں گرفتار ہو کر آیا تھا‘ اس نے خاندان خلافت میں پرورش پائی تھی اور غلامان شاہی میں شامل تھا‘ اس کے بیٹے احمد نے بھی دارالخلافہ میں پرورش پا کر امور سلطنت سے واقفیت حاصل کی تھی‘ بابکیال کو جب مصر کی سند گورنری ملی تو اس کو یہ فکر ہوئی کہ اپنی طرف سے کس کو مصر کی حکومت پر مامور کر کے بھیجوں‘ اس کے مشیروں نے احمد بن طولون کا نام لیا‘ چنانچہ اس نے احمد بن طولون کو مصر بھیج دیا‘ اور احمد نے مصر پر قبضہ کر کے وہاں کا انتظام کیا‘ جب معتز کے بعد خلیفہ مہتدی نے بابکیال کو قتل کر کے یارکوج ترکی کو مصر کی گورنری عطا کی تو یارکوج نے بھی اپنی طرف سے احمد بن طولون ہی کو مصر کی حکومت پر مامور رکھا۔ اس طرح احمد بن طولون حکومت مصر پر خوب مضبوطی سے قائم ہو گیا اور پھر اس کی اولاد وراثتاً مصر پر قائم رہی اور اپنا سکہ مصر میں چلایا‘ غرض ۲۵۳ھ سے مصر کو بھی خلافت عباسیہ سے خارج ہی سمجھنا چاہے‘ یا کم از کم یہ سمجھنا چاہے کہ ۲۵۳ھ سے مصر میں حکومت طولونیہ کی ابتدا ہوئی۔