معتمد علی اللہ

خراسان کی طائف الملوکی !

یعقوب صفار کا جب انتقال ہوا تو خلیفہ معتمد نے اس کے بھائی عمرو بن لیث کو سند حکومت عطا کر دی‘ مگر خراسان میں خاندان طاہریہ کے ہمدرد و ہوا خواہ موجود تھے‘ انہیں میں ایک شخص ابو طلحہ اور دوسرا رافع بن ہرثمہ تھا‘ یہ حسین بن طاہر کے نام سے جمعیت فراہم کر کے شہروں پر قبضہ کرنا اور اپنی حکومت کی بنیاد قائم کرنا چاہتے تھے‘ یہ کبھی عمرو بن لیث کے عاملوں کو نکال کر شہروں پر قبضہ کرتے اور کبھی آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے‘ ان معرکوں اور لڑائیوں میں اسماعیل بن احمد بن اسد بن سامان حاکم بخارا سے بھی مدد طلب کرتے تھے۔ اسماعیل سامانی کبھی ایک کا مدد گار ہوتا‘ کبھی دوسرے کا‘ اور کبھی عمرو بن لیث صفار کی مدد کے لیے موجود ہو جاتا‘ غرض ان ممالک میں ایک طوفان بے تمیزی برپا تھا‘ انہیں حالات میں ۲۷۱ھ میں موفق نے اپنی طرف سے صوبہ خراسان کی گورنری پر محمد بن طاہر کو مقرر کیا‘ خلیفہ معتمد جو اس سے پہلے عمرو بن لیث صفار کو خراسان کی گورنری دے چکا تھا‘ اس نے عمرو صفار کو خراسان کی حکومت سے معزول کر دیا۔ محمد بن طاہر خود تو بغداد ہی میں رہا‘ اپنی طرف سے رافع بن ہرثمہ کو جو پہلے ہی سے مصروف زور آزمائی تھا حکومت خراسان عطا کر کے اپنا نائب بنا دیا‘ مگر اس سے خراسان اور اس کے ملحقہ صوبوں کی بد امنی اور طائف الملوکی میں کوئی فرق نہیں آیا۔