مستکفی باللہ
خاندان بویہ کی بغداد میںحکومت
خاندان بویہ کا حال اوپر مذکور ہو چکا ہے کہ بویہ کے تینوں بیٹے علی‘ حسن‘ احمد حکومت و سرداری حاصل کر چکے ہیں‘ علی (عماد الدولہ) فارس پر قابض و متصرف تھا‘ حسن (رکن الدولہ) اصفہان و طبرستان کی طرف حکومت و سرداری حاصل رکھتا تھا۔ احمد (معز الدولہ) اہواز پر قابض تھا‘ جب ابن شیرزاد کی امیر الامرائی میں بغداد کے اندر فتنہ و فساد برپا ہو گیا تو معز الدولہ نے جو بغداد سے نسبتاً قریب تھا بغداد پر حملہ کیا۔
شیرزاد بھاگ کر بنو حمدان کے پاس موصل چلا گیا اور معز الدولہ بغداد پر بآسانی قابض و مستولی ہو گیا۔ خلیفہ مستکفی کی خدمت میں حاضر ہوا‘ اس کو معزالدولہ ملک کا خطاب دیا۔
معز الدولہ نے اپنے نام کے سکے مسکوک کرائے اور بغداد پر پورے قہر و غلبہ کے ساتھ حکومت کرنے لگا‘ چند روز کے بعد معز الدولہ کو معلوم ہوا کہ خلیفہ مستکفی اس کے خلاف کوئی سازش کر رہا ہے‘ انہیں ایام میں والی خراسان کا سفیر آیا اور اس تقریب میں دربار عام منعقد کیا گیا‘ معزالدولہ نے سردربار دو دیلمیوں کو اشارہ کیا‘ وہ آگے بڑھے‘ خلیفہ نے سمجھا کہ دست بوسی کے لیے آگے بڑھے ہیں اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا‘ دیلمیوں نے وہی ہاتھ پکڑ کر خلیفہ کو تخت سے نیچے کھینچ کر ڈال دیا اور گرفتار کر لیا‘ کسی کی مجال نہ تھی کہ اف کر سکے۔
معز الدولہ اسی وقت سوار ہو کر اپنے مکان پر آیا اور دیلمی خلیفہ کو کھینچتے اور بے عزت کرتے ہوئے معز الدولہ کے سامنے لائے‘ اس کی آنکھیں نکال کر قید کر دیا‘ یہ واقعہ ماہ جمادی الآخر ۳۳۴ھ کا ہے‘ خلیفہ مستکفی نے ایک برس چار مہینے برائے نام خلافت کی اور ۳۳۸ھ میں بحالت قید فوت ہوا۔