قادر باللہ !

جلال الدولہ کی حکومت

مشرف الدولہ کی وفات کے بعد بغداد میں جلال الدولہ کے نام کا خطبہ پڑھا گیا‘ جلال الدولہ بصرہ سے روانہ ہو کر بجائے بغداد آنے کے واسط چلا گیا‘ اس پر بغداد والوں نے اس کا نام خطبہ سے خارج کر کے اس کے بھتیجے ابو کالیجار بن سلطان الدولہ کا نام خطبہ میں داخل کر دیا‘ ابو کالیجار اس زمانہ میں اپنے چچا ابو الفوارس سے کرمان میں جنگ آزما تھا‘ اہل بغداد نے ابو کالیجار کو بغداد طلب کیا لیکن وہ بغداد نہ آ سکا‘ یہ سن کر جلال الدولہ واسط سے بغداد کی طرف روانہ ہوا۔ بغداد کی فوجوں نے اس کو بغداد میں داخل نہیں ہونے دیا اور شکست دے کر واپس کر دیا‘ جلال الدولہ پھر بصرہ چلا گیا۔ جب اہل بغداد کو ابو کالیجار کے آنے سے مایوسی ہوئی تو خراسانیوں ترکوں اور دیلمیوں نے مل کر یہ مشورہ کیا کہ جلال الدولہ کے واپس کر دینے کے بعد اب بہت زیادہ ممکن کہ کوئی کر دیا عرب سردار بغداد پر مستولی ہو جائے‘ اگر کوئی عرب مستولی ہو گیا تو پھر ترکوں یا دیلمیوں کا بغداد پر قبضہ غیر ممکن ہو جائے گا اور عربوں کی حکومت بصرہ‘ شام‘ حجاز‘ یمامہ‘ بحرین‘ موصل وغیرہ صوبوں سے بہت جلد امداد حاصل کر کے مضبوط ہو جائے گی۔ یہ سوچ کر جلال الدولہ کے پاس خطوط روانہ کیے گئے اور اس کو بلا تامل بغداد کی طرف آنے کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ جلال الدولہ وارد بغداد ہوا اور حکومت کرنے لگا اس کا نام خطبوں میں داخل ہوا۔ ۴۱۸ھ میں جلال الدولہ نے حکم دیا کہ نماز پنج وقتہ میں نقارہ بجایا جائے‘ خلیفہ قادر باللہ نے اس کو بدعت ہونے کی وجہ سے سخت ناپسند کیا اور اس حکم کے واپس لینے کی تاکید جلال الدولہ کو کی۔ جلال الدولہ نے اپنا یہ حکم منسوخ تو کر دیا مگر خلیفہ سے بہت کبیدہ خاطر ہو گیا‘ چند روز کے بعد پھر خلیفہ نے اجازت دے دی اور جلال الدولہ نے نقارہ بجانے کا حکم جاری کر دیا۔ ۴۱۹ھ میں ترکوں میں نے جلال الدولہ کے خلاف بغاوت کی مگر خلیفہ قادر باللہ نے درمیان میں پڑ کر مصالحت کرا دی‘ اس کے بعد ابو کالیجار نے عراق پر حملہ کیا‘ جلال الدولہ نے اس کے مقابلہ پر فوجیں روانہ کیں‘ اس طرح لڑائیوں کا سلسلہ جاری ہوا‘ دونوں ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔ ابھی سلسلہ جنگ ختم نہ ہونے پایا تھا کہ خلیفہ قادر باللہ نے ۴۲۲ھ میں انتقال کیا اور اس کی جگہ اس کا بیٹا ابو جعفر عبداللہ قائم بامر اللہ کے لقب سے تخت خلافت پر بیٹھا‘ شیخ تقی الدین صلاح نے قادر باللہ کو فقہائے شافعیہ میں شمار کیا ہے۔