ظاہر بامر اللہ
ظاہر بامر اللہ
ظاہر بامر اللہ بن ناصرالدین اللہ ۵۷۱ھ میں پیدا ہوا‘ باون سال کی عمر میں اپنے باپ کے بعد یکم شوال ۶۲۲ھ کو تخت نشین ہوا‘ اس نے تخت پر بیٹھتے ہی عدل و انصاف کی طرف خصوصی توجہ مبذول فرمائی‘ رعایا کو آرام پہنچایا‘ تمام ٹیکس معاف کر دیئے‘ لوگوں کی جائدادیں جو پہلے خلفاء نے ضبط کی تھیں سب واپس کر دیں‘ مقروض لوگوں کے قرضے خود ادا کر دیتا تھا‘ اس خلیفہ کا قول تھا کہ میں نے شام کے وقت دوکان کھولی ہے‘ مجھے نیکیاں کر لینے دو‘ ایک مرتبہ خلیفہ خزانہ کی طرف نکل آیا‘ ایک غلام نے کہا کہ یہ خزانہ آپ کے والد کے زمانہ میں بھرا رہتا تھا‘ خلیفہ نے کہا مجھے ایسی کوئی تدبیر قابل عمل معلوم نہیں ہوئی کہ یہ پھر بھر جائے‘ مجھ کو تو خزانہ خالی کرنا ہی آتا ہے‘ خزانہ کا جمع کرنا تو سوداگروں کا کام ہے۔
علماء کو خاص طور پر اس خلیفہ نے بہت مال و دولت دیا‘ اس خلیفہ کا زمانہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ سے مشابہ تھا‘ ملک میں بھی امن و امان رہا اور رعایا اس کے عدل و انصاف سے بے حد مسرور اور خوش تھی‘ مگر اس کی عمر نے وفا نہ کی اور صرف ساڑھے نو مہینے خلافت کر کے ۱۵ رجب ۶۲۳ھ کو فوت ہوا‘ اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ابو جعفر منصور تخت نشین ہوا اور اپنا لقب مستنصر باللہ تجویز کیا۔