مستعصم باللہ
خلفائے عباسیہ مصر میں
سلطان صلاح الدین بن ایوب نے حکومت عبیدیہ کے بعد مصر میں دولت ایوبیہ کی بنیاد ڈالی تھی جس کا اجمالی تذکرہ اوپر ہو چکا ہے‘ ۶۴۸ھ تک مصر‘ شام اور حجاز کی حکومت سلطان صلاح الدین کے خاندان میں رہی‘ سلطان صلاح الدین چونکہ کرد قوم سے تھے اس لیے دولت ایوبیہ کو دولت کردیہ بھی کہتے ہیں‘ دولت ایوبیہ کا ساتواں بادشاہ الملک الصالح تھا جو سلطان صلاح الدین کے بھائی کا پرپوتا تھا‘ اس نے اپنے خاندانی رقیبوں کے خطرے سے محفوظ رہنے کے لیے علاقہ کوہ قاف یعنی صوبہ سرکیشیا کے بارہ ہزار غلام خرید کر اپنی حفاظت کے لیے ایک جدید آئینی پیدل فوج قائم کی‘ اس کے عہد سلطنت میں فرانس کے عیسائی بادشاہ نے مصر پر جہازوں کے ذریعہ فوج لا کر حملہ کیا‘ مملوک فوج نے نہایت بردباری کے ساتھ مقابلہ کر کے فرانس کے بادشاہ کو میدان جنگ میں گرفتار کر لیا‘ اس کارمانہ کے بعد مملوک فوج کا مرتبہ اور بھی بلند ہو گیا الملک الصالح کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ملک معظم توران شاہ تخت نشین ہوا‘ مگر دوہی مہینے کے بعد تخت سلطنت پر الملک الصالح کی محبوب کنیز شجرۃ الدر نامی قائض ہو گئی‘ اس ملکہ کے عہد حکومت میں بے چینی و سرکشی کے آثار نمایاں ہوئے‘ بلکہ شجرۃ الدر تین مہینے سلطنت کرنے کے بعد گوشہ نشین ہو گئی اور برائے نام خاندان ایوبیہ کا ایک شخص الملک الاشرف موسیٰ بن یوسف تخت نشین ہوا‘ اس کے عہد حکومت میں مملوکوں کا زور اور بھی ترقی کر گیا‘ آخر ۶۵۰ھ میں مملوکوں نے اپنی جماعت میں سے ایک شخص عزیز الدین ایبک صالحی کو الملک المعز کے لقب سے تخت نشین کیا اور مصر میں خاندان ایوبیہ کی حکومت کا سلسلہ ختم ہو کر مملوکیوں یعنی غلاموں کی حکومت شروع ہوئی جو عرصہ دراز تک رہی ۶۵۵ھ میں الملک المعز کے بعد اس کا نو عمر بیٹا علی تخت نشین ہوا اور اس کا لقب الملک المنصور رکھا گیا اور امیر سیف الدین مملوک اس کا اتابک مقرر ہوا‘ ۶۵۷ھ میں مملوکیوں علماء سے فتویٰ حاصل کر کے الملک المنصور کو اس لیے معزول کیا گیا کہ وہ ابھی بچہ تھا اس کی جگہ امیر سیف الدین تخت نشین ہوا اور الملک المظفر اس کا خطاب تجویز ہوا‘ عام طور پر مملوک اپنے اندر سے بیس پچیس آدمیوں کو منتخب کر کے ان کو حکومت کا اختیار دے دیا کرتے تھے‘ یہی بیس پچیس آدمی حکمران کونسل کے ممبر سمجھے جاتے اور اپنے اندر سے کسی ایک شخص کو منتخب کر کے اپنا صدر یا امیر بنا لیتے تھے یہ صدر منتخب ہو کر بادشاہوں کی طرح تخت نشین ہوتا اور سلطان یا ملک کے نام سے پکارا جاتا تھا‘ سلطان تخت نشین ہونے کے بعد باقی ممبران کو نسل کو سلطنت کے بڑے بڑے ملکی عہدے سپرد کرتا تھا‘ ان بیس یا پچیس عہد یداروں ہی میں سے کوئی وزیراعظم ہوتا تھا کوئی رئیس المعسکر‘ کوئی افسر پولس ہوتا تھا‘ کوئی افسر مال‘ غرض ان کے سوا باقی لوگوں کو ان سے کم درجے کے عہدے اور اختیارات ملتے تھے‘ ان کا مرتبہ سب پر فائق ہوتا تھا‘ مملوک فوج کے کچھ آدمی فوت ہو جاتے یا لڑائی میں مارے جاتے تو فوراً سرکاری خزانہ سے اسی قدر سر کیسی غلام خرید کر تعداد کو پورا کر دیا جاتا تھا‘ اس نظام پر چراکسمہ یعنی مملوکوں کے طبقہ دوم نے زیادہ عمل در آمد کیا‘ ہندوستان میں بھی غلاموں کا خاندان حکمران رہا ہے مگر اس میں دو تین بادشاہوں کے سوا باقی سب بادشاہ شمس الدین التمش کی اولاد سے تھے اور اس میں وہی وراثت حکومت کی لعنت موجود تھی‘ لیکن مصر کے تخت پر متمکن ہونے والے مملوک اکثر زر خرید غلام ہی ہوتے تھے‘ اور اپنی ذاتی قابلیت کے سبب تخت حکومت تک پہنچتے تھے‘ مورخین نے اس طرف توجہ نہیں فرمائی اور دولت مملوکیہ مصر کی اس خصوصیت کو نمایاں اور واضح تر الفاظ میں بیان نہیں کیا‘ مگر حقیقت یہ ہے کہ دولت مملوکیہ مصر میں گو بعض باتیں قابل اصلاح ضرور تھیں مگر یہ بات بے حد قابل تعریف تھی کہ بادشاہ کے انتخاب کا اکثر آزاد موقعہ لوگوں کو مل جاتا تھا اس سلطنت کے حالات ایک جداگانہ باب میں ان شاء اللہ بالتفصیل بیان ہوں گے‘ اس وقت صرف اس قدر بیان کرنا ضروری ہے کہ الملک المظفر نے جب یہ سنا کہ مغل یعنی تاتاری افواج نے بغداد و عراق اور خراسان و فارس و آذربائیجان و جزیرہ و موصل وغیرہ کو برباد و پامال کرنے کے بعد اپنی پوری طاقت سے شام کے علاقے کو برباد اور خاک سیاہ بنانا شروع کر دیا ہے تو وہ اپنا مملوک لشکر اور مصری افواج لے کر مصر سے شام کی طرف متوجہ ہوا اور ۱۵ رمضان المبارک ۶۵۵ھ بروز جمعہ نہر جالوت پر مملوک فوج نے جس کا سپہ سالار رکن الدین بیبرس تھا مغلوں یعنی تاتاریوں کے لشکر عظیم کو ایسی شکست فاش دی کہ آج تک مغلوں کو ایسی ذلت آفریں شکست کھانے کا موقعہ نہ ملا تھا‘ ہزارہا مغل میدان جنگ میں کھیت رہے اور باقی مملوکیوں کے ۱۶ ذیقعدہ ۶۵۸ھ کو الملک المظفر کے مقتول ہونے پر رکن الدین بیبرس تخت نشین ہوا اور اپنا لقب الملک الظاہر تجویز کیا الملک الظاہر کو تخت نشین ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ خاندان عباسیہ کے سینیتسویں آخری خلیفہ مستعصم باللہ کا چچا ابو القاسم احمد جو بغداد میں عرصہ سے قید تھا بغداد کی بربادی اور مستعصم کے قتل ہونے کے وقت کسی طرح قید خانہ سے نکل کر اور چھپ کر بھاگ نکلا تھا اور وہ ملک شام کے کسی مقام میں روپوش اور موجود ہے‘ چنانچہ الملک الظاہر نے دس معزز عربوں کا ایک وفد مصر سے ابو القاسم احمد بن ظاہر بامر اللہ عباسی کی تلاش میں روانہ کیا‘ یہ لوگ ابو القاسم احمد کو ہمراہ لے کر مصر پہنچے الملک الظاہر ابو القاسم کے قریب پہنچنے کی خبر سن کر مصر کے تمام علماء و اراکین کو لے کر استقبال کے لیے اپنے دارالسلطنت قاہرہ سے نکلا اور نہایت عزت و احترام سے شہر میں لا کر اس کے ہاتھ پر بتاریخ ۱۳ رجب ۶۵۹ھ بیعت خلافت کی اور المستنصر باللہ کا لقب تجویز کیا اس کے نام خطبہ پڑھوایا سکوں پر خلیفہ کا نام مسکوک کرایا جمعہ کے دن خلیفہ کے جلوس کے ساتھ جامع مسجد میں آیا بنی عباس کا شرف خطبہ بیان کیا اور خلیفہ کے واسطے دعا کی‘ بعد نماز خلیفہ نے سلطان ظاہر کو خلعت عطا کیا‘ ۴ شعبان ۶۵۹ھ بروز دو شنبہ قاہرہ سے باہر خیمے نصب ہوئے‘ خلیفہ نے دربار کیا اور اپنی طرف سے الملک الظاہر کو نائب السلطنت قرار دے کر سلطنت مصر کے سیاہ و سفید کا اختیار دیا‘ یعنی اس مضمون کا ایک فرمان لکھ کر لوگوں کو سنایا الملک الظاہر نے خلیفہ کے لیے واسطے خدمت گار‘ خزانچی‘ آب دار اور ضروری اہل کار مقرر کر دئیے اور خزانہ مصر کا ایک حصہ خلیفہ کے لیے مخصوص کر دیا جس میں اس کو تصرف کا اختیار حاصل رہا‘ اس طرح ساڑھے تین سال بعد مستعصم باللہ ابو القاسم احمد ۲ محرم ۶۶۰ھ کو جب کہ الملک الظاہر سے فوج لے کر تاتاریوں سے لڑنے کو ملک شام میں آیا ہوا تھا‘ ایک لڑائی میں گم یا مقتول ہو گیا‘ خلیفہ کے مفقود الخبر ہونے کے بعد ایک سال تک پھر زمانہ فترت گذرا اور الملک الظاہر نے ایک اور عباسی شہزادے کا پتہ لگا کر بلوایا اور اس کو خلیفہ بنایا‘ اس شہزادے کا نام ابو العباس احمد بن حسن بن علی بن ابی بکر بن خلیفہ مستر شد باللہ بن مستظہر باللہ تھا‘ اس کے پر دادا تک کوئی خلیفہ نہ ہوا تھا اس طرح خلیفہ مستر شد باللہ کی اولاد میں پھر خلافت عباسیہ شروع ہوئی اس خلفیہ کا لقب حاکم بامر اللہ تجویز ہوا اور ۸ محرم ۶۶۱ھ کو وہ تخت نشین ہوا‘ ۶۷۴ھ میں الملک الظاہر نے ملک شوڈان کو فتح کیا جو نہایت عظیم الشان فتح سمجھی جاتی ہے‘ محرم ۶۷۶ھ میں الملک الظاہر فوت ہوا‘ الملک السعید تخت نشین ہوا‘ ۶۷۸ھ میں الملک المنصور مصر کا سلطان مقرر ہوا‘ ۶۸۰ھ میں الملک المنصور نے تاتاریوں کو شام میں پہنچ کر شکست فاش دے کر بھگا دیا‘ ۶۸۹ھ میں الملک المنصور فوت اور الملک الاشرف تخت نشین ہوا‘ ۱۸ جمادی الاول ۷۰۱ھ کو خلیفہ الحاکم بامر اللہ چالیس سال ۵ مہینے دس دن کی خلافت کے بعد فوت ہو کر قاہرہ میں مدفون ہوا اور اس کی جگہ اس کا بیٹا ابو الربیع مستکفی باللہ خلیفہ بنایا گیا‘ خلاصہ یہ کہ مصر میں ۹۲۲ھ تک مملوکوں کی خود مختار سلطنت قائم رہی ۷۸۴ھ تک سرکیشی مملوک جو مملوک بحریہ کہلاتے تھے حکمران ہوتے رہے اس کے بعد مملوکوں کی ایک دوسری قوم جو چرکسی مملوک کہلاتے تھے بادشاہ ہونے لگے بحریہ مملوکوں کا آخری سلطان الملک صالح رمضان ۷۸۴ھ میں معزول ہوا اور برقوق چرکس الملک الظاہر کے لقب سے تخت نشین ہوا‘ اس کے بعد ۹۲۲ھ تک یکے بعد دیگرے چرکسی (گرجی) مملوک مصر کے بادشاہ ہوتے رہے گرجی پاچرکسی مملوکوں کے آخری سلطان طومان بے کو سلطان سلنیم عثمانی کے مقابلہ میں شکست ہوئی اور مصر کا ملک سلطنت عثمانیہ کو مقبوضات میں شامل ہوا‘ مملوکوں کی حکومت کے ابتدائی زمانہ میں خلفاء عباسیہ کا دوسرا سلسلہ مصر میں شروع ہو گیا تھا جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے‘ یہ سلسلہ مملوکوں کی حکومت کے ساتھ ہی ۹۲۲ھ میں ختم ہوا‘ مصر میں خلفائے عباسیہ کی حالت اسی قسم کی تھی جیسے آج کل پیروں کی گدیاں نظر آتی ہیں‘ نام کے لیے تو یہ خلیفہ کہلاتے اور اپنے ولی عہد بھی مقرر کرتے تھے‘ ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے مسلمان بادشاہ ان سے سند حکومت اور خطاب بھی حاصل کرتے تھے‘ مصر کے مملوک سلاطین بھی اپنے آپ کو ان خلفاء کا نائب السلطنت ہی کہتے تھے اور بظاہر تعظیم و تکریم کا برتائو کرتے اور خطبوں میں ان کا نام لیتے مگر حقیقتاً ان کو کوئی قوت و شوکت حاصل نہ تھی‘ ان کی تنخواہ مقرر تھی‘ سلاطین مصران کو نہ آزادانہ کہیں آنے جانے کی اجازت دیتے تھے نہ کسی شخص کو ان سے ملنے کی اجازت تھی یہ خلفاء اپنے اراکین خاندان کے ساتھ گویا اپنے محدود قصر میں نظر بند رہتے تھے‘ ان کی حیثیت ایک سیاسی شاہی قیدی کی تھی ان کو خلیفہ کہا جاتا لیکن خلافت اسلامیہ کا مفہوم ان سے اسی قدر بعد رکھتا تھا جس قدر زمین سے آسمان تک کا فاصلہ ہے‘ سلطان سلیم عثمانی نے مصر پر قبضہ کرنے کے بعد مصر کے عباسی خلیفہ محمد نامی پر بھی قبضہ کیا جو خلفائے مصر کے سلسلہ میں اٹھارواں اور آخری خلیفہ تھا‘ اس خلیفہ کے پاس جو علم اور جبہ بطور نشان خلافت موجود تھا وہ سلطان سلیم نے اس کو رضا مند کر کے لے لیا اور مصر سے چلتے وقت اس آخری عباسی خلیفہ کو بھی اپنے ساتھ ہی لے گیا اس عباسی خلیفہ نے سلطان سلیم کو امر خلافت میں اپنا جانشین بنا دیا اور اس طرح ۹۲۲ھ میں عباسیوں کی وہ خلافت جو سفاح سے شروع ہو کر اب آٹھ سو برس کے بعد برائے نام اور اسم بے مسمیٰ ہو کر رہ گئی تھی ختم ہوئی اور خاندان عثمانیہ میں جو اس زمانہ میں سے سب زیادہ حق دار خلافت تھا شروع ہوئی‘ خاندان عباسیہ میں سینتیس خلیفہ بغداد و عراق میں ہوئے اور اٹھارہ مصر میں ہوئے جن کی کل تعداد پچین ہوتی ہے۔
خاندان عباسیہ کے سلسلہ پر نظر ڈالتے ہوئے اس وقت ہم بہت دور آگے نکل آئے ہیں اب ہم کو پھر اس سلسلہ کے شروع میں واپس جانا ہے اور دائیں بائیں طرف جن ضروری اور اہم شاخوں کو چھوڑتے چلے آئے ہیں ان کا مطالعہ کیے بغیر ہی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکتے شاید اس جگہ قارئین کرام کو خلافت عباسیہ کے متعلق کسی تبصرہ اور ریویو کی توقع ہو لیکن میں کہنے کے قابل باتیں سب کہہ چکا ہوں اور اب اس اثر کو جو اس عظیم الشان خاندان خلافت کا انجام دیکھ لینے کے بعد فطری طور سے قلب پر طاری ہوا ہے ضائع کرنا نہیں چاہتا‘ ہاں! اگلے باب میں بعض ضروری باتیں گوش گذار کر کے اس جلد کو ختم کرتا ہوں۔ وباللہ التوفیق۔