پہلی فصل
قاضی القضاۃ
قاضی القضاۃ کا مستقل عہدہ ہارون الرشید نے قائم کیا تھا جو آخر عہد عباسیہ تک قائم رہا‘ اس عہدہ کو آج کل شیخ الاسلام کہتے ہیں‘ قاضی القضاۃ تمام صوبوں اور ملکوں میں اپنے اختیار سے اپنے نائب مقرر کرتا اور ہر صوبہ کا قاضی اپنے اختیار سے ہر ایک شہر میں ایک قاضی مقرر کرتا تھا جس کا کام مذہبی احکام کی حفاظت و پابندی کرانا‘ خصومات کا انفصال کرنا ہوتا تھا۔
یہ بہت بڑا عہدہ تھا‘ دربار میں قاضی کا مقام سپہ سالار اعظم اور وزیراعظم سے کم نہیں سمجھا جاتا تھا‘ ہر ایک تخت نشین ہونے والے خلیفہ کو باقاعدہ اسی وقت خلیفہ سمجھا جاتا تھا جب کہ قاضی القضاۃ بھی اس کو خلیفہ تسلیم کر لے‘ کسی خلیفہ کی معزولی کے لیے قاضی القضاۃ ہی سے فتویٰ لیا جاتا تھا‘ قاضی کو خلیفہ معزول بھی کر سکتا تھا‘ لیکن نئے خلیفہ کی تخت نشینی کے وقت قاضی کی منظوری لازمی تھی۔
اہم معاملات میں مثلا کسی ملک پر فوج کشی کرنے یا کسی صوبے کا عامل مقرر کرنے میں قاضی سے بھی مشورہ لیا جاتا تھا‘ اگر خلیفہ خود سپہ سالار بن کر کسی ملک پر چڑھائی کرتا تھا تو قاضی القضاۃ اس کے ہمراہ ہوتا تھا‘ ورنہ ہر فوج کے ساتھ قاضی اپنا ایک نائب مقرر کر کے بھیجتا تھا‘ عہد ناموں‘ صلح ناموں‘ ملکوں کی سند حکومت‘ خلیفہ کے اہم فرامین اور وصیت نامہ وغیرہ پر قاضی کی مہر ضرور ہوتی تھی۔