پہلی فصل
دیوان العزیز
دربار خلافت کا نام دیوان العزیز تھا‘ جو وزیر کار سلطنت کے تمام صیغوں پر اختیار کلی رکھتے تھے اور انہیں کے ہاتھ میں زمام سلطنت سمجھی جاتی تھی ان کے دفتر اور ان کے محکمہ پر بھی دیوان العزیز کا لفظ بولا جاتا تھا‘ تمام دفاتر اور تمام محکمے اور صیغے اسی کے ماتحت ہوتے تھے‘ وزیراعظم کو متعلقہ صیغوں کے افسروں سے مشورہ کرنے کے بعد احکام جاری کرنے پڑتے تھے۔