محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کی پیش کش

قبیلہ بنو اسد کی ایک معزز خاتون بنت خویلد قریش میں ایک مال دار عورت سمجھی جاتی تھیں وہ بیوہ تھیں اور اب تک دو خاوندوں سے شادی کر چکی تھیں‘ ان کے دوسرے خاوند نے بہت کچھ مال و اسباب چھوڑا تھا‘ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ اپنے کارندوں کے ہاتھ ہمیشہ شام ‘ عراق‘ اور یمن کی طرف مال تجارت روانہ کیا کرتی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی دیانت و امانت کا شہرہ سن کر انہوں نے اپنے بھتیجے قطیمہ کی معرفت اس امر کی خواہش ظاہر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کا مال تجارت لے کر شام کی طرف جائیں اور بطور کارندہ خدمات انجام دیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے چچا ابوطالب کے مشورہ کے بعد اس خواہش کو منظور کر لیا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے معقول معاوضہ مقرر کر دیا‘ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم خدیجہ رضی اللہ عنہ کے مہتمم مال تجارت ہو کر شام کی طرف روانہ ہوئے اس سفر میں خدیجہ رضی اللہ عنہ کا غلام میسرہ اور خدیجہ رضی اللہ عنہ کا ایک عزیز خزیمہ ابن حکیم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ تھے۔