پہلی فصل
دارالقضاء
ہر ایک شہر کا قاضی اس شہر کا جج‘ مجسٹریٹ اور منصف ہوتا تھا‘ اگر اس شہر کے عامل یا گورنر پر بھی کوئی شخص دعویٰ دائر کر دیتا تھا تو اس گورنر کو معمولی مدعا علیہ کی حیثیت سے قاضی کی عدالت میں حاضر ہونا اور ثبوت پیش کرنا پڑتا تھا۔
غیر مسلموں کے لیے انہیں کی قوم و مذہب کے منصف مقرر تھے جن کی کچہری میں ان کے مقدمات فیصل ہوتے تھے‘ ان غیر مسلم منصفوں کی عدالت میں غیر مسلموں کے تمام دیوانی اور آپس کے فوج داری مقدمات طے ہو جاتے تھے‘ لیکن اگر ایک فریق غیر مسلم ہو تو اس حالت میں فریقین رضا مندی سے جس عدالت میں چاہیں اپنا مقدمہ لے جائیں‘ لیکن ایسے مقدمات کو مرافعہ قاضی کے یہاں کیا جا سکتا تھا‘ عام طور پر غیر مسلم اپنے مقدمات بھی قاضی ہی کی عدالت میں فیصلہ کرانا چاہتے تھے اور ان کو کسی قسم کی شکایت نہ ہوتی تھی۔