دوسری فصل
دولت اخشیدیہ (مصر و شام)
مصر و شام سے جب بنی طولون کی حکومت جاتی رہی‘ تو چند روز کے لیے ان دونوں صوبوں کے حاکم دربار خلافت سے مقرر ہو کر آنے لگے اور بظاہر یہ دونوں صوبے پھر خلافت عباسیہ میں شامل ہو گئے‘ ۳۱۶ھ میں مقتدر باللہ خلیفہ بغداد نے محمد بن طفج کو رملہ کا حاکم مقرر کیا‘ ۳۱۸ھ میں اس کو دمشق کی حکومت سپرد کی گئی اور ۳۲۳ھ میں اس کو مصر کی حکومت دی گئی‘ محمد بن طفج ماوراء النہر کے علاقہ فرغانہ کے قدیمی حکمراں خاندان سے تعلق رکھتا تھا‘ یعنی اس کے بزرگ فرغانہ کے امیر تھے‘ اس زمانہ میں فرغانہ کے امراء کو اخشید کے لقب سے پکارتے تھے‘ محمد بن طفج نے مصر کی حکومت پر فائز ہو کر ۳۲۷ھ میں اپنی خود مختاری کا اعلان کیا اور اپنا لقب اخشید رکھا‘ ۳۳۰ھ میں اس نے شام پر بھی قبضہ کر لیا‘ اور ۳۳۱ھ میں ملک حجاز کو بھی اپنی حکومت میں شامل کر کے ایک عظیم الشان سلطنت قائم کر لی اور ایسا کرنے میں اس کو اس لیے زیادہ دقت پیش نہیں آئی کہ دربار خلافت کو دیلمیوں نے بیکار و بے اثر بنا دیا تھا‘ خلیفہ کا رعب اور خوف دلوں سے مٹ چکا تھا۔
خاندان اخشیدیہ نے ۳۵۶ھ تک ان ملکوں پر حکومت کی‘ اس کے بعد عبیدیوں نے اول مصر کو پھر چند روز کے بعد شام کو بھی فتح کر لیا۔