دوسری فصل

دولت بنو حمدان (موصل و جزیرہ و شام!)

ابو الٰہیجا عبداللہ بن حمدان بن حمدون بن حارث بن لقمان بن اسد بن حزم نے ۲۸۹ھ میں صوبہ موصل کے اندر خود مختارانہ حکومت کی بنیاد ڈالی اور قریباً سو برس تک بنو حمدان نے موصل و جزیرہ و شام میں حکومت کی‘ ان لوگوں نے خلفاء عباسیہ کا خطبہ اپنے حدود مملکت میں جاری رکھا‘ ان میں سیف الدولہ اور ناصر الدولہ بہت نامور اور زبردست حکمراں گذرے ہیں‘ سیف الدولہ شام میں اور ناصر الدولہ موصل میں حکومت کرتا تھا‘ بنو اخشیدیہ سے شام کا اکثر حصہ انہوں نے چھین لیا تھا‘ جزیرے پر بھی ان کا تسلط ہو گیا تھا‘ بنو بویہ یعنی دیلمیوں سے بھی ان کی معرکہ آرائیاں ہوئیں اور ان معرکوں میں انہوں نے ہمسرانہ مقابلہ‘ بنی بویہ کا کیا‘ کبھی کبھی خلیفہ بغداد پر بھی ان کا تسلط قائم ہو جاتا تھا۔ ان کے عہد حکومت میں رومیوں پر فوج کشی اور رومیوں کی فوج کشی کی مدافعت کا تعلق دربار خلافت سے بالکل منقطع ہو گیا تھا‘ بنو حمدان ہی رومیوں پر فوج کشی کرتے اور ان کے حملوں کا جواب دیتے تھے‘ ان میں سیف الدولہ نے رومیوں پر بڑے بڑے کامیاب جہاد کیے اور اس معاملہ میں خوب ناموری اور شہرت حاصل کی۔ آخر میں صرف صوبہ شام ان کے قبضے میں رہ گیا تھا‘ بعد میں بنو حمدان کی حکومت ان کے غلاموں کے قبضہ میں چلی گئی‘ جنہوں نے ملک شام میں عبیدیوں کا خطبہ جاری کیا‘ آخر ۳۸۰ھ میں اس حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور موصل میں بنو عقیل بن کعب بن ربیعہ بن عامر نے اپنی حکومت قائم کی‘ اور صوبہ جزیرہ پر قابض و متصرف ہو گئے۔ اس کے بعد ملک شام کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر متعدد عربی سرداروں نے اپنی حکومتیں قائم کر لیں جو برائے نام کسی بڑی طاقت کے ماتحت ہوتے اور کبھی اپنی مطلق العنانی کا اعلان کرتے‘ یہاں تک کہ سلجوقی بغداد پر قابض و متصرف ہونے کے بعد شام کے علاقوں پر چھا گئے اور وہاں انہوں نے اپنی طرف سے عامل مقرر کیے یا خود اپنی حکومت قائم کی۔