محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

زید بن حارث رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت

سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے حکیم بن حرام کہیں سے ایک غلام خرید کر لائے تھے‘ انہوں نے وہ اپنی پھوپھی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ کی نذر کیا‘ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ نے اس غلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نذر کیا‘ یہی غلام زید بن حارث تھے‘ یہ درحقیقت ایک آزاد خاندان کے لڑکے تھے‘ کسی لوٹ مار میں قید ہو کر اور غلام بنا کر فروخت کر دئیے گئے تھے‘ کچھ دنوں کے بعد زید رضی اللہ عنہ کے باپ حارث اور ان کے چچا کعب کو پتہ چلا کہ زید مکہ میں کسی شخص کے پاس بطور غلام رہتے ہیں‘ وہ دونوں مکہ میں آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عاجزانہ درخواست پیش کی کہ زید رضی اللہ عنہ کو آزاد کر کے ہمارے سپرد کر دیجئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فوراً ان کی درخواست منظور فرمالی اور کہا کہ اگر زید تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے تو میری طرف سے اس کو اجازت ہے۔ چنانچہ زید رضی اللہ عنہ بلوائے گئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے زید رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ان دونوں شخصوں کو تم پہچانتے ہو‘ کون ہیں؟ زید رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں یہ میرے والد اور چچا ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ تم کو لینے آئے ہیں میری طرف سے تم کو اجازت ہے کہ ان کے ہمراہ چلے جائو۔ زید نے کہا کہ میں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو چھوڑ کر ہرگز جانا نہیں چاہتا‘ زید رضی اللہ عنہ کے باپ حارث نے خفا ہو کر زید رضی اللہ عنہ سے کہا تو غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتا ہے؟‘ زید نے کہا ہاں‘ میں نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم میں وہ بات دیکھی ہے کہ میں اپنے باپ اور تمام کائنات کو کبھی ان پر ترجیح نہیں دے سکتا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم زید رضی اللہ عنہ کا یہ جواب سن کر اٹھے‘ اور زید کو ہمراہ لے کر فوراً خانہ کعبہ میں گئے اور بلند آواز سے فرمایا کہ لوگو! گواہ رہو کہ آج سے میں زید رضی اللہ عنہ کو آزاد کرتا اور اپنا بیٹا بناتا ہوں‘ یہ میرا وارث ہو گا اور میں اس کا وارث ہوں گا۔ زید رضی اللہ عنہ کے باپ اور چچا دونوں اس کیفیت کو دیکھ کر خوش ہو گئے اور زید رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بخوشی چھوڑ کر چلے گئے‘ اس روز سے زید بجائے زید بن حارث کے زید بن محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے نام سے پکارے جانے لگے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر جب ہجرت کے بعد یہ حکم نازل ہوا کہ منہ بولا بیٹا بنانا جائز نہیں تو زید رضی اللہ عنہ کو پھر زید رضی اللہ عنہ بن حارث کے نام سے پکارنے لگے‘ ۱؎ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت و شفقت زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہی رہی جو پہلے تھی بلکہ اس میں اور اضافہ ہوتا رہا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق و خصائل کس قسم کے تھے۔