مسلمانوں سے پہلے اندلس کی حالت
گاتھ کی حکومت
سلطنت روم پر عیسوی مذہب قبول کر لینے کے بعد ۴۰۰ء کے قریب دو مصیبتیں نازل ہوئیں اوّل یہ کہ قوم گاتھ نے جو مغلوں سے بہت مشابہ تھی وسطی و مشرقی یورپ سے خروج کر کے حملے شروع کر دیئے‘ رومیوں کی عیش پرستی قوم گاتھ کی جفاکشی کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی‘ اس لیے اس لٹیرے گروہ نے رومی سلطنت کے چول ڈھیلے کر دیئے‘ انہیں ایّام میں رومی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو کر ایک کا دارالسلطنت تو شہر روم ہی رہا اور دوسری مشرقی سلطنت کا دارالحکومت قسطنطنیہ مقرر ہوا گاتھوں کے اس لٹیرے گروہ نے دین عیسوی کو اسی طرح قبول کیا جیسے کہ ترکوں کے ایک گروہ بنی سلجوق نے اسلام قبول کر لیا تھا‘ بنی سلجوق جس طرح اسلام قبول کرنے کے بعد ہی بہت جلد اپنی حکومتیں قائم کر سکے تھے اسی طرح قوم گاتھ نے عیسوی مذہب قبول کرنے کے بعد فرانس کی جانب سے کوہ برطات یا کوہ پیری نیر کو عبور کر کے جزیرہ نما ہسپانیہ پر قبضہ کیا‘ گاتھوں کے ایک حصے نے مشرق میں اپنی حکومت قائم کی اور ایک حصہ کی حکومت مغرب میں اندلس کے اندر قائم ہو گئی۔
جس طرح رومی سلطنت کے دو ٹکڑے ہو کر مشرقی روم اور مغربی روم کی سلطنتیں قائم ہو گئیں تھی اسی طرح گاتھوں کی بھی دو سلطنتیں مشرقی گاتھ اور مغربی گاتھ کے نام سے قائم ہوئیں‘ مغربی گاتھ کو چونکہ حکومت اور مذہب ساتھ ہی ساتھ ملے تھے اس لے انہوں نے عیسائی مذہب قبول کرنے کے بعد بھی اپنے آپ کو روم کے مذہبی پیشوا کا ماتحت و محکوم نہیں رکھا‘ بلکہ اندلس کے عیسائی پوپ روم کی سیادت سے آزاد اور اپنے مذہبی معاملات میں خودمختار رہے‘ حکومت گاتھ مذہب کی کچھ زیادہ پابند نہ تھی اور اس نے عیسویت کو سیاسی مصلحت سے ہی قبول کیا تھا‘ لیکن رفتہ رفتہ عیسائیت کو جس طرح یورپ کے دوسرے ممالک میں فروغ ہوتا گیا‘ اسی طرح اندلس میں بھی مذہبی پیشوائوں کا اثر و اقتدار ترقی پذیر رہا‘ آخر چند روز کے بعد نوبت یہاں تک پہنچی کہ پادری لوگ بادشاہ کے انتخاب اور تخت نشینی کے مراسم ادا کرنے میں خوب دخیل ہو گئے اور ان کی طاقت کا توڑنا بادشاہ کے لیے آسان کام نہ رہا‘ حکومت گاتھ اندلس میں ۵۰۰ء کے قریب مکمل طور پر قائم ہوئی تھی‘ دو سو سال تک گاتھ حکومت اندلس میں قائم رہی۔
اس عرصہ میں اندلس کے اندر گاتھوں کی جنگ جوئی و خوں خواری‘ عیش و راحت‘ ادرزیب و زینت کے شوق سے تبدیل ہو گئی تھی‘ اہل فونیشیا اور قرطاجنہ دونوں آتش پرست اور ستارہ پرست تھے‘ دونوں میں عیش و راحت اور ظاہری زیب و زینت کا شوق موجود تھا‘ لہٰذا اہل اندلس اپنے حکمرانوں سے متاثر ہوئے اور یہ چیزیں ان میں موجود ہو گئیں۔
اس کے بعد رومیوں کی حکومت میں عیش و نشاط کے رواج نے خوب ترقی کی گاتھ حکومت اگرچہ خود اپنے ساتھ سپاہیانہ اور جنگ جویانہ خصائل لائی تھی‘ لیکن اہل ملک کے اثر نے حاکموں کو چند روز کے بعد اپنے رنگ میں تبدیل کر لیا‘ چونکہ گاتھ خود اپنا کوئی تمدن‘ اخلاق اور اعلیٰ معاشرت نہ رکھتے تھے‘ لہٰذا وہ جب اہل اندلس سے متاثر ہوئے تو عیش و نشاط سے بھی بے بہرہ نہ رہے‘ بہرحال اندلس بہت سی تہذیبوں کا مجموعہ تھا‘ ساتھ ہی ساتھ وہ ہر قسم کی ترقیات اور اس زمانہ کے علوم سے بے بہرہ نہ تھا‘ مذہب عیسوی کے رواج اور نشوونما نے بھی اپنا کافی اثر اس ملک پر ڈالا تھا۔
۷۰۰ء کے بعد گاتھ حکومت کا بھی اس ملک میں خاتمہ ہو گیا اور ایک مشرقی قوم نے ایرانیوں رومیوں‘ شامیوں‘ مصریوں اور یونانیوں کی حکومتوں ہی کو نہیں بلکہ ان ملکوں کی مشہور تہذیبوں اور مذہبوں کو بھی پامال کرتے ہوئے اس ملک میں داخل ہو کر بت پرستی اور عیسویت کی جگہ توحید کا علم بلند کیا اور اسلامی حکومت قائم کی جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔