مسلمانوں سے پہلے اندلس کی حالت
طارق بن زیاد کو اندلس پر حملہ کرنے کا حکم
جب موسیٰ بن نصیر کو جولین اور ان کے ہمراہیوں کے بیان کی تصدیق طریف کی زبانی ہو گئی تو اس نے طنجہ کے گورنر طارق بن زیاد کے نام حکم بھیج دیا کہ تم اپنی فوج لے کر اندلس پر چڑھائی کرو‘ طارق اپنا سات ہزار لشکر کشتیوں میں سوار کر کے آبنائے جبل الطارق کے پار اندلس کی جنوبی راس پر جا اترا‘ طارق اپنی سات ہزار فوج کو چار کشتیوں میں سوار کر کے لے گیا تھا‘ اس سے اس زمانے کے جہازوں کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ کتنے بڑے تھے‘ طارق کی فوج میں زیادہ تر بربری نو مسلم اور کمتر عربی لوگ تھے‘ مغیث الرومی نامی ایک مشہور فوجی افسر بھی اس فوج میں شامل تھا‘ جو طارق کا ماتحت اور اس کا نائب سمجھا جاتا تھا۔
طارق ابھی آبنائے کے وسط میں تھا اور ساحل اندلس پر نہیں پہنچا تھا کہ اس پر غنودگی طاری ہوئی اور اس نے خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ e اس سے فرماتے ہیں تمہارے ہاتھ پر اندلس فتح ہو جائے گا‘ اس کے بعد فوراً طارق کی آنکھ کھل گئی اور اس کو اپنی فتح کا کامل یقین ہو گیا۔