اندلس میں اسلامی حکومت

میدان جنگ سے لرزیق کی فراری

بادشاہ لرزیق یعنی عیسائی افواج کا سپہ سالار اعظم اپنی تمام تجربہ کاری‘ بہادری اور شہرت کو عیسائی مقتولوں کے ساتھ خاک و خون میں ملا کر اور اپنی جان کو عزت سے زیادہ قیمتی سمجھ کر طارق کے مقابلے پر اپنے دیو ہیکل سبزی گھوڑے کو قائم نہ رکھ سکا بلکہ پیٹھ پھیر کر سراسیمگی کے عالم میں بھاگا‘ چند ساعت پیشتر جو شخص جزیرہ نما ہسپانیہ کا بادشاہ‘ ایک لاکھ جرار فوج کا سپہ سالار اور تمام پادریوں کا محبوب تھا‘ وہ سراسیمگی کی حالت میں اس طرح بھاگتا ہوا نظر آیا کہ دوسرے فراریوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکلنے کی کوشش کرتا تھا‘ اور اس آپ دھاپ میں کسی کو اتنا ہوش نہ تھا کہ اپنے بادشاہ کے لئے راہ فرار میں سہولت پیدا کر دے۔