اندلس میں اسلامی حکومت
طارق کی قرطبہ کی جانب پیش قدمی
چنانچہ طارق نے قرطبہ کی جانب پیش قدمی کی قرطبہ کا حاکم اندلس کے شاہی خاندان کا ایک شخص تھا‘ اس کے پاس وادی لکتہ کی لڑائی کے مفرورین بھی آ کر جمع ہو گئے تھے‘ اس شہر کا قلعہ بہت زبردست تھا اور اس کا فتح کرنا آسان نہ تھا‘ طارق نے آ کر شہر والوں کے پاس پیغام بھیجا کہ تم صلح کے ساتھ ہمارا قبضہ شہر پر تسلیم کر لو‘ جب جواب انکار میں ملا تو شہر کا محاصرہ کیا گیا‘ اس محاصرہ میں زیادہ وقت صرف کر دینے کو مناسب نہ سمجھ کر طارق نے مغیث الرومی کو قرطبہ کے محاصرہ پر چھوڑا اور خود طیطلہ کی جانب روانہ ہوا۔