اندلس میں اسلامی حکومت

اندلس پر مکمل اسلامی قبضہ

موسیٰ بن نصیر نے اندلس میں وارد ہو کر اور دارالسلطنت طیطلہ سے شمال کی جانب روانہ ہونے سے پہلے مغیث الرومی کو مع تحفہ و ہدایا اور ملک اندلس پر قبضہ ہونے کی خوشخبری دے کر دارالخلافہ دمشق کی جانب روانہ کیا تھا‘ مغیث الرومی دارالخلافہ سے اس وقت واپس آیا جب کہ صوبۂ جلیقیہ کو موسی بن نصیر فتح کر چکا تھا اور ملک اندلس کے قبضہ کو مکمل کر کے یورپ کے بقیہ ملکوں کو فتح کرنے کی تدابیر میں مصروف لگا‘ مغیث الرومی خلیفہ کے پاس سے موسیٰ کے نام جو حکم لے کر آیا اس نے موسیٰ بن نصیر کی اولوالعزمیوں کو افسردگی سے تبدیل کر دیا۔