اندلس میں اسلامی حکومت

طارق کا انجام

خلیفہ سلیمان نے جب موسیٰ سے ناراض ہو کر اس کو قید کر دیا تو طارق پر بھی جو موسیٰ کا آزاد کردہ غلام اور موسیٰ ہی کا تربیت کردہ تھا اس کا اثر پڑا اور کوئی غیر معمولی قدردانی طارق کی نہیں کی گئی‘ نہ اس کو اندلس یا مراکش کی حکومت پر واپس بھیجا گیا‘ کیونکہ تمام ممالک مغربیہ موسیٰ بن نصیر کے بیٹوں کے قبضے میں تھے‘ یعنی اندلس میں عبدالعزیز بن موسیٰ اور قیروان میں عبداللہ بن موسیٰ اور مراکش میں مروان بن موسیٰ حکمراں تھا‘ خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے لئے ضروری تھا کہ وہ موسیٰ کے خاندان کی طرف سے غافل نہ ہو اور طارق کو جو موسیٰ ہی کے خاندان کا ایک شخص سمجھا جاتا تھا‘ کوئی ذمہ داری کا عہدہ نہ دے‘ چنانچہ طارق کو ایک معقول پنشن دے کر ملک شام کے کسی شہر میں قیام پذیر ہونے کی پروانگی عطا ہوئی اور موسیٰ کو قید کر دیا گیا‘ امیر ابن المہلب نے موسیٰ کی سفارش کی تو سلیمان بن عبدالملک نے موسیٰ کو قید سے آزاد کر دیا اور جس قدر روپیہ اس سے وصول ہو سکتا تھا وصول کر کے وادی القریٰ میں سکونت پذیر ہونے کا حکم دیا۔