امیران اندلس

عبدالعزیز بن موسیٰ

موسیٰ بن نصیر کے اندلس سے رخصت ہونے کے بعد اندلس کے اکثر ان شہروں نے جو اطاعت کا اظہار کر چکے تھے بغاوت کی‘ ان بغاوتوں کے فرو کرنے اور دوبارہ عیسائیوں کو مطیع و منقاد بنانے میں امیر عبدالعزیز نے پوری مستعدی اور ہوشیاری کا ثبوت دیا‘ مسلمانوں کی فوج اتنے بڑے ملک میں بہت ہی تھوڑی تھی‘ اسی لیے صوبوں اور شہروں کی حکومت پر جن افسروں کو مقرر کیا گیا تھا‘ اس کے پاس امن و امان قائم رکھنے کے لیے حسب ضرورت فوج نہیں رکھی جا سکتی تھی‘ اسی لیے عیسائیوں کو جرأت ہو گئی تھی کہ وہ بغاوت پر آمادہ ہو جائیں مگر ان کو بہت جلد معلوم ہو گیا کہ مسلمانوں کو اندلس سے نکالنا آسان کام نہیں ہے ساتھ ہی ان کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ نئی اسلامی حکومت پرانی گاتھ حکومت سے بہ درجہا بہتر اور اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی ایک رحمت ہے۔