محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنھا کے تاریخی الفاظ

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ (کلا ابشر فواللہ لا یحزنک اللہ ابداً انک لتصل الرحم و تصدق الحدیث و تحمل الکل و تکسب المعدوم و تقری الضیف و تعین علی نوائب الحق) (نہیں نہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو خوش ہونا چاہیئے‘ واللہ! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہمیشہ صلہ رحمی کرتے ہیں اور ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور ان کے اخراجات برداشت کرتے ہیں جن کے پاس اپنے لیے کافی نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم میں وہ تمام اخلاقی خوبیاں موجود ہیں جو لوگوں میں نہیں پائی جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم مہمان نواز ہیں اور حق باتوں اور نیک کاموں کی وجہ سے اگر کسی پر کوئی مصیبت آ جائے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس کے مددگار بن جاتے ہیں) اس تسلی و تشفی دینے کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو اب بوڑھے ہو گئے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ورقہ بن نوفل کے سامنے تمام کیفیت بیان کی‘ ورقہ نے سن کر کہا کہ یہ وہی ناموس اکبر ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر اترا تھا‘ کاش میں جوان ہوتا اور اس وقت تک زندہ رہتا جب قوم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو نکال دے گی‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا (اومخرجونی) ’’کیا قوم مجھے نکال دے گی؟ ورقہ بن نوفل نے کہا ہاں! دنیا میں جو کوئی رسول آیا اور اس نے توحید کی تعلیم پیش کی اس کے ساتھ عداوت و دشمنی کا برتائو ابتداء میں ہوا ہے۔۱؎ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم بدستور غار حرا میں تشریف لے جاتے رہے‘ چند روز تک آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی اس کو زمانۂ فتر کہتے ہیں۔ آخر ایک روز آپ صلی اللہ علیہ و سلم غار حرا سے گھر کو تشریف لا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پھر اسی فرشتہ کو دیکھا‘ ۲؎ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس کو دیکھ کر پھر سہم گئے اور گھر آ کر کپڑا اوڑھ کر لیٹ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کانوں میں یہ پرجلال آواز آئی۔ {یاََیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ٭ قُمْ فَاَنذِرْ ٭ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ ٭ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ ٭ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ} (المدثر : ۷۴/۱ تا ۵) ’’اے چادر میں لپٹے ہوئے اٹھ اور لوگوں کو عذاب الہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی و کبریائی بیان کر پاک دامنی اختیار کر اور نجاست یعنی شرک و بدی سے جدائی اختیار کر۔‘‘ اس کے بعد وحی کا سلسلہ برابر جاری رہا۔۳؎ ایک روز جبرئیل امین علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دامن کوہ میں لائے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے خود وضو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی اسی طرح وضو کیا پھر جبرئیل علیہ السلام امین نے نماز پڑھائی۔