امیران اندلس

امیر سمح کی شہادت

عین اس وقت جب کہ مسلمان عیسائیوں کو پیچھے دھکیل کر آگے بڑھ رہے تھے‘ ایک تیر امیر سمح کے گلے میں آ کر ترازو ہو گیا‘ اپنے امیر کو اس طرح جام شہادت نوش کرتے ہوئے دیکھ کر مسلمانوں کے حوصلے پست ہو گئے اور جوش شمشیر زنی سرد پڑ گیا‘ مگر پھر بھی وہ اس طرح حواس باختہ نہیں ہوئے جیسی کہ ایسے نازک موقعہ پر توقع ہو سکتی تھی‘ مسلمانوں کی پیش قدمی رک گئی‘ عیسائی یک لخت چیرہ دست ہو گئے‘ مسلمانوں نے فوراً امیر سمح کی جگہ عبدالرحمن غافقی کو اپنا سپہ سالار اور امیر منتخب کر لیا‘ عبدالرحمن غافقی نہایت ہوشیاری اور استقلال کے ساتھ اسلامی لشکر کو لے کر پیچھے ہٹا‘ عیسائیوں کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ اسلامی لشکر کا تعاقب کریں میدان جنگ میں ایک تہائی مسلمان شہید ہو چکے تھے‘ باقی دو تہائی کو لے کر عبدالرحمن غافقی پسپا ہوا۔