امیران اندلس

عتبہ بن حجاج سلولی

عتبہ بن حجاج سلولی نے ۱۱۷ھ میں وارد اندلس ہو کر زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لی اور عبدالملک بن قطن فہری کو کسی چھوٹے سے علاقے کا عامل مقرر کر دیا‘ یہ عتبہ کی غلطی تھی کہ اس نے ایک ایسے شخص کو جو تمام ملک اندلس کا فرماں روا تھا ایک چھوٹے سے عامل کی حیثیت سے اپنی ماتحتی میں رکھا‘ اسی قسم کی غلطی عثمان لخمی کے متعلق اس سے پہلے سرزد ہو چکی تھی۔ مناسب یہ تھا کہ بعد میں آنے والے امیر عثمان لخمی کو یا تو بالکل بے دست وپا کر کے رکھتے‘ یا اس کو اندلس میں نہ رہنے دیتے‘ بلکہ افریقہ واپس بھیج دیتے‘ اسی طرح عتبہ کو چاہیئے تھا کہ عبدالملک کو واپس افریقہ بھیج دیتا اور کم سے کم کسی حصہ ملک کی حکومت ہرگز سپرد نہ کرتا‘ بہرحال عتبہ نے ایک سیاسی غلطی ضرور کی۔