خلفائے اندلس
اندرونی انتظام
یوسف فہری سے فارغ ہو کر امیر عبدالرحمن نے ملک کے اندرونی انتظام کی طرف توجہ کی اور ہر قسم کی شاہانہ علامات فراہم کرنے کے بعد ۱۴۶ھ میں اپنی خود مختاری کا اعلان کر کے عباسی خلیفہ کا نام خطبہ سے خارج کر دیا۔
عباسیوں کی خلافت مشرق میں ابھی نئی نئی قائم ہوئی تھی اور وہ ابھی تک مشرق کے جھگڑوں اور فتنوں سے پورے طور پر فارغ و مطمئن نہ ہوئے تھے‘ اس لیے عبدالرحمن کے اندلس پر قابض و متصرف ہونے کا حال سن کر وہ رنجیدہ تو ضرور ہوئے لیکن اس قدر دور دراز علاقہ میں وہ کوئی مہم نہیں بھیج سکے اور یہ سمجھ کر کہ عبدالرحمن کا اندلس سے بے دخل کرنا آسان کام نہیں ہے اسی کو غنیمت سمجھتے رہے کہ ہمارے نام کا خطبہ وہاں پڑھا جاتا ہے۔