خلفائے اندلس

عجیب قسم کی دل لگی

اس موقعہ پر امیر عبدالرحمن نے منصور عباسی کے ساتھ عجیب قسم کی دل لگی کی یعنی علاء بن مغیث اور لشکر عباسی کے تمام بڑے بڑے سرداروں کے سر کاٹ کر ہر ایک کے کان میں سوراخ کر کے ایک پرچہ باندھ دیا جس میں اس سردار کا نام مع عہدہ درج تھا‘ پھر ان سرداروں کو کئی صندوقوں میں بڑی احتیاط کے ساتھ بند کرا کر حاجیوں کے قافلے کے ساتھ روانہ کر دیا‘ اس طرح یہ صندوق مکہ معظمہ پہنچے اور وہاں سے ایک حجازی نے ان کو خلیفہ منصور کی خدمت میں پیش کر دیا‘ خلیفہ منصور نے جب ان صندوقوں کو کھولا تو جس صندوق میں علاء بن مغیث کا سر تھا اسی میں وہ خط بھی تھا جو منصور نے علاء بن مغیث کے نام اندلس پر حملہ کرنے کے لیے لکھا تھا ساتھ ہی اس سیاہ علم کے پرزے اور دھجیاں بھی تھیں جو منصور نے ابن مغیث کے پاس بھیجا تھا منصور نے ان سروں کو دیکھا اور صرف یہ کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میرے اور عبدالرحمن کے درمیان سمندر حائل ہے‘ پھر ایک روز کہا کہ مجھ کو عبدالرحمن کی جرأت‘ دانائی اور حسن تدبیر پر حیرت ہے کہ اس نے کس بے سر و سامانی کے عالم میں اتنے دور دراز اور دشوار گذار ملک میں جا کر اپنی حکومت و سلطنت قائم کر لی‘ جنگ قرمونہ ۱۴۶ھ کے آخری حصہ میں ہوئی۔