محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ گستاخیاں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک مرتبہ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے گلے میں چادر ڈال کر اس قدر اینٹھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دم رکنے لگا سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو خبر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے‘ آپ رضی اللہ عنہ کو اس کے شر سے بچایا اور قریش سے مخاطب ہو کر کہا کہ : {اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللّٰہ} ’’کیا تم ایک شخص کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟‘‘ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو چھوڑ دیا مگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لپٹ پڑے اور خوب زدوکوب کیا۔۱؎ ایک مرتبہ صحن کعبہ میں قریش نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو گھیر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی سے پیش آنا چاہا‘ سیدنا حارث بن ابی ہالہ کو خبر ہوئی تو دوڑے ہوئے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اشرار کے ہجوم اورشرارت سے بچانا چاہا‘ کفار نے سیدنا حارث کو وہیں شہید کر دیا‘ مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر دست درازی کی جرات ان کو نہ ہو سکی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے راستہ میں جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم رات کے وقت گذرنے والے ہوتے کانٹے بچھا دئیے جاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اذیت پہنچے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صحن کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے‘ قریش بھی وہاں بیٹھے تھے‘ ابوجہل نے کہا فلاں مقام پر اونٹ ذبح ہوا ہے‘ اس کی اوجھڑی پڑی ہوئی ہے‘ کوئی اس کو اٹھا کر لائے اور محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم ) کے اوپر ڈال دے یہ سن کر عقبہ بن ابی معیط اٹھا اور وہ اوجھڑی اٹھا لایا‘ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم سجدہ میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پشت پر رکھ دی‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو توجہ الی اللہ میں خبر بھی نہ ہوئی مگر کفار ہنسی کے مارے لوٹے جاتے تھے‘سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے‘ مگر کفار کا ہجوم دیکھ کر ان کو کچھ جرات نہ ہوئی‘ اتفاقاً سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہ جو بچی تھیں آ گئیں اور انہوں نے آگے بڑھ کر باپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پشت پر سے اس اوجھڑی کو پرے سرکایا اور کفار کو بھی برا بھلا کہا۔۲؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مکان پر پتھر پھینکے جاتے تھے‘ گندگی وغیرہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر پر پھینک دیتے تھے‘ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے بنو عبدمناف یہ اچھا ہمسائیگی کا حق ادا کر رہے ہو؟۳؎ کبھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا نام شاعر رکھا جاتا تھا‘ کبھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ساحر کہہ کر پکارا جاتا تھا‘ کبھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو کاہن کہتے اور کبھی مجنوں کا خطاب دیتے۔ غرض کفار مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی جماعت کو تکلیف پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے میںکوئی کوتاہی نہیں کی ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی پورے عزم و استقلال اور ہمت و جرئات کیساتھ اپنے کام میں مصروف تھے‘ جب قریش کو اس امر کا یقین ہو گیا کہ ہماری کوششوںسے کوئی حسب منشا نتیجہ پیدا نہیں ہوا تو انہوں نے مجبوراً دوسرا پہلو اختیار کیا۔