خلفائے اندلس
علی بن نافع ماہر موسیقی کی قدر افزائی
تخت نشینی کے پہلے ہی سال یعنی ۲۰۶ھ میں ابراہیم موصلی کا شاگرد علی بن نافع معروف بہ فاریاب وارد اندلس ہوا۔ علی بن نافع موسیقی میں استاد کامل تھا۔ نیز علوم مروجہ اور بعض دوسرے علوم غریبہ میں ماہر یکتا تھا۔ سلطان حکم نے یہ سن کر کہ ملک عراق و شام میں اس کی اس کے مرتبہ کے موافق قدردانی نہیں ہوئی۔ اس کو اندلس میں اپنے پاس طلب کیا تھا‘ مگر اس کے نیچے سے پہلے ہی سلطان حکم فوت ہو چکا تھا۔ جب سلطان عبدالرحمن کو اس حکیم و فلسفی کے وارد اندلس ہونے کا حال معلوم ہوا تو اس نے شہروں کے عاملوں کے نام احکام جاری کر دئیے کہ قرطبہ تک پہنچنے میں علی بن نافع کو جس جس شہر میں ہو کر گزرنا پڑے اس شہر کا حاکم اس کا شاہانہ استقبال کرنے اور متعدد غلام اور گھوڑے اور ہدیے پیش کر لے غرض بڑی عزت و احترام سے یہ شخص قرطبہ تک پہنچا اور بادشاہ کا مقرب خاص اور ندیم با اختصاص بن گیا۔