خلفائے اندلس
امیر عبدالرحمن کی حمیت اسلامی
یحییٰ الغزال نے قسطنطنیہ میں وارد ہو کر نہایت غور و تعمق کی نگاہ سے وہاں کے حالات کا معائنہ کیا اور اپنے سلطان کی دوستی کا یقین قیصر کو دلا کر واپس ہوا۔ سلطان عبدالرحمن نے ایک مسلمان فرماں روا کے خلاف گووہ عبدالرحمن کا دشمن عباسی خلیفہ ہی کیوں نہ ہو ایک عیسائی بادشاہ کی روپیہ یا فوج سے مدد کرنی‘ کسی طرح مناسب نہ سمجھی اور زبانی وعدہ و عید پر ہی ٹال دیا ورنہ عبدالرحمن قیصر کی درخواست کو پورا کرنے کی طاقت ضرور رکھتا تھا۔ کیونکہ قیصر نے عبدالرحمن ثانی سلطان اندلس سے فوج اور روپیہ مانگا تھا۔ ایک یا چند ہزار فوج اور ایک یا چند لاکھ دینار کا بھیج دینا عبدالرحمن ثانی کے لیے بالکل معمولی بات تھی اور اندلس کی فوج یا خزانہ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑ سکتا تھا مگر عبدالرحمن کی حمیت اسلامی نے اس کو اس کام سے باز رکھا۔