خلفائے اندلس
سلطان منذر کی وفات
سلطان منذر پھر اس کی طرف لوٹا۔ اب کی مرتبہ بڑی سختی سے قلعہ کا محاصرہ شروع کیا۔ عمر بن حفصون نے بھی بڑی ہمت کے ساتھ مدافعت جاری رکھی۔ اس محاصرے نے طول کھینچا اور قلعہ ابھی فتح نہ ہو پایا تھا کہ سلطان منذر نے ۲۷۵ھ میں بحالت محاصرہ دو برس سے بھی کم حکومت کر کے قریباً ۴۶ سال کی عمر میں وفات پائی۔ سلطان منذر کے کوئی بیٹا نہ تھا۔ اس لیے امراء لشکر نے منذر کے بھائی عبداللہ کے ہاتھ پر قلعہ کی دیوار کے نیچے بیعت کی۔ عبداللہ نے عمر بن حفصون کے پاس پیغام بھیجا کہ مجھ کو تم سے کوئی مخالفت و پرخاش نہیں ہے۔ اب تم اپنے قلعہ میں اطمینان سے رہو ہم قرطبہ کو واپس جاتے ہیں۔ گویا سلطان عبداللہ نے اپنی تخت نشینی کے ساتھ ہی عمر بن حفصون کی ریاست و حکومت کو بھی باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا۔ عمر بن حفصون نے اس کو بہت غنیمت سمجھا اور سلطان عبداللہ اپنے بھائی منذر کے جنازے کو لے کر قرطبہ پہنچا۔ راستہ میں عرب سرداروں کی چہ میگوئیاں حد سے بڑھ گئیں اور سلطان عبداللہ کو متہم کرنے میں یہاں تک مبالغہ سے کام لیا گیا کہ قرطبہ تک پہنچتے پہنچتے تمام فوج ادھر ادھر منتشر ہو گئی اور سو آدمیوں سے بھی کم آدمی سلطان عبداللہ کے ساتھ سلطان منذر کا جنازہ لیے ہوئے قرطبہ میں داخل ہوئے۔