Sunan Abu Dawood 3115صحیح
جب کوئی آدمی مرے لگے تو اس کے آس پاس والوں کو کیا کہنا چاہئے
حدیث نمبر: 3115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ، فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَقُولُ ؟ قَالَ: قُولِي: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، وَأَعْقِبْنَا عُقْبَى صَالِحَةً. قَالَتْ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ تَعَالَى بِهِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی مرنے والے شخص کے پاس جاؤ تو بھلی بات کہو ١ ؎ اس لیے کہ فرشتے تمہارے کہے پر آمین کہتے ہیں ، تو جب ابوسلمہ (رض) (ام سلمہ (رض) کے شوہر) انتقال کر گئے تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں کیا کہوں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم کہو : اللهم اغفر له وأعقبنا عقبى صالحة اے اللہ ! ان کو بخش دے اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما ۔ ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں : تو مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں محمد ﷺ کو عنایت فرمایا۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجنائز ٣ (٩١٩) ، سنن الترمذی/الجنائز ٧ (٩٧٧) ، سنن النسائی/الجنائز ٣ (١٨٢٤) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤ (١٤٤٧) ، ٥٥ (١٥٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٦٢، ١٨٢٤٧) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الجنائز ١٤ (٤٢) ، مسند احمد (٦/٢٩١، ٣٠٦) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : یعنی دعائے مغفرت وغیرہ کرو۔
Narrated Umm Salamah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ : When you attend dying man, you should say good words, for the angels say Amin to what you say. When Abu Salamah died, I said: What should I say, Messenger of Allah? He said: O Allah forgive him, and give us something good in exchange. She said: So Allah gave me Muhammad ﷺ in exchange for him.